کوہاٹ میڈیکل کالج منصوبہ ابتدائی مراحل میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

کوہاٹ میڈیکل کالج منصوبہ ابتدائی مراحل میں مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کے ڈی اے میں زیر تعمیر کوھاٹ میڈیکل کالج جو 120 کنال رقبے پر تعمیر کیا جانے کا منصوبہ ہے ابتداء ہی سے کرپشن اور بے قاعدگیوں کا شکار ہو گیا اس سلسلے میں ذرائع کے مطابق اتبدائی طور پر کم و بیش 5 کروڑ روپے ٹھیکیدار کو میٹریل کی خریداری کے لیے ایڈوانس دیا جا چکا ہے حالانکہ ابھی مذکورہ منصوبے کی بنیادیں تک نہیں کھودی گئیں نہ ہی کالج کا کوئی بورڈ یا سائیٹ پر نقشہ وغیرہ بنا کر لگایا گیا ہے جبکہ ٹنوں کے حساب سے کھلے آسمان تلے پڑے سریے کو زنگ بھی لگ چکا ہے اور اب یہی سریا بنیادوں وغیرہ میں استعمال کیا جائے گا باخبر ذرائع کے مطابق ایڈوانس ادائیگیوں اور دیگر ناقص میٹریل کے حوالے سے پشاور سے خصوصی طور پر ٹیکنیکل ٹیم نے مذکورہ منصوبے کی سائیٹ کی وزٹ کی اور متعلقہ منصوبے میں ہونے والی مبینہ گڑ بڑ کے حوالے سے رپورٹ پر جلد کارروائی متوقع ہے اس سلسلے میں جب ایکسین سی اینڈ ڈبلیو جمشید خٹک سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں اور تمام کام قانون کے مطابق ہو رہا ہے جبکہ اس ڈی او نے بتایا کہ بڑے بڑے منصوبوں میں ٹھیکیدار کو ایڈوانس ادائیگی کی جا سکتی ہے جس کو سیکوورڈ ایڈوانس کہا جاتا ہے جو کہ آہستہ آہستہ ایڈجسٹ کر لیا جاتا ہے انہوں نے بتایا کہ مذکورہ ٹھکیداروں سے 70 لاکھ کے قریب ریکوری کر لی گئی ہے گزشتہ روز جب کوھاٹ میڈیا کی ٹیم نے دن گیارہ بجے مذکورہ سائیٹ کا اچانک دورہ کیا تو سائیٹ پر کام شروع ہو رہا تھا مگر نہ تو نیپاک کنسلٹنٹ کا کوئی ذمہ دار موجود تھا اور نہ ہی سی اینڈ ڈبلیو کا کوئی ذمہ دار اہلکار یا افسر موقع پر موجود تھا جب کہ سریا کھلے آسمان تلے پڑے پڑے زنگ آلود ہو چکا تھا اس سلسلے میں عوامی حلقوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک‘ چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ڈاکٹر امجد علی‘ صوبائی چیئرمین نیب سلیم شہزاد اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن خیبر پختونخوا نواب زادہ ضیاء اللہ خان طورو سے مطالبہ کیا کہ مذکورہ منصوبے میں ہونے والی بے قاعدگیوں پر ایکشن لے کر قومی خزانے کو شیرمادر سمجھ کر لوٹ مار کرنے والے افسران کے خلاف سخت ترین کارروائی کر کے نشان عبرت بنایا جائے۔

مزید : پشاورصفحہ اول