ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے والوں کو رعایت نہیں دی جاسکتی،سپریم کورٹ

ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے والوں کو رعایت نہیں دی جاسکتی،سپریم کورٹ
ڈرائیونگ لائسنس کے بغیر گاڑی چلانے والوں کو رعایت نہیں دی جاسکتی،سپریم کورٹ

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی)سپریم کورٹ نے ٹریفک حادثے میں سکول ٹیچر کی ہلاکت کے ملزم کی ضمانت منسوخی کی درخواست کی سماعت کے دوران قرار دیا ہے کہ لائسنس کے بغیر ڈرائیونگ کرنے والے افراد کو کیسے رعایت دی جا سکتی ہے، ون وے کی خلاف ورزی کرنا سرعام موت کو دعوت دینے کے برابر ہے۔ سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں جسٹس آصف سعید خان کھوسہ اور جسٹس منظور احمد ملک پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ٹریفک حادثے میں ہلاک سکول ٹیچر شہناز سعید کے شوہر سعید احمد کی طرف سے ملزم رانا اویس کی ضمانت منسوخی کے لئے دائر درخواست پر سماعت کی، مدعی سعید احمد کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ تفتیش میں یہ ثابت ہو ا ہے کہ جائے وقوعہ کے وقت ملزم ون وے کی خلاف ورزی کر رہا تھا اور اس کے پاس ڈرائیونگ لائسنس بھی نہیں تھا مگر اس کے باوجود ہائیکورٹ نے حقائق کے خلاف ملزم کی ضمانت منظور کی ہے،ملزم کی ضمانت منسوخ کی جائے، فاضل بنچ نے دلائل سننے اور ریکارڈ دیکھنے کے بعد قرار دیا کہ لائسنس کے بغیر ڈرائیونگ کرنے والے افراد کو ٹریفک حادثات کے مقدمات میں کیسے رعایت دی جا سکتی ہے، ون وے کی خلاف ورزی کرنا سرعام موت کو دعوت دینے کے برابر ہے، یہ مقدمہ ٹریفک حادثے کے نہیں بلکہ قتل کے زمرے میں آنا چاہیے، فاضل بنچ نے ملزم رانا اویس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر طلب کر لیاہے۔

مزید : لاہور