خواتین اور نوعمر قیدیوں کو جیلوں میں ہنر سکھایا جائے،گوجرانوالہ جیل کے دورہ کے موقع پر جسٹس منصور علی شاہ کی ہدایت

خواتین اور نوعمر قیدیوں کو جیلوں میں ہنر سکھایا جائے،گوجرانوالہ جیل کے دورہ ...
 خواتین اور نوعمر قیدیوں کو جیلوں میں ہنر سکھایا جائے،گوجرانوالہ جیل کے دورہ کے موقع پر جسٹس منصور علی شاہ کی ہدایت

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی) لا ہورہا ئی کورٹ لاہو ر کے سینئر جج جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے احکاما ت کے تحت جیلو ں میں عمومی طور پر تمام قیدیوں اور خصوصًا خواتین و نوعمر قیدیوں کی فلاح و بہبود‘ انہیں دستیاب سہولتوں میں اضافہ اور ان کی ذہنی و جسمانی تربیت کے لئے خصوصی اقدامات کی حکومت سے سفارش کی جائے گی جبکہ دیگر قیدیوں کی جسمانی و ذہنی تربیت اور جدید طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے بھی سفارشات تیار کرکے حکومت کو بھجوائی جائیں گی۔ ڈسٹرکٹ سنٹرل جیل گوجرانوالہ کا تفصیلی دورہ کرنے کے بعد جسٹس سید منصور علی شاہ نے مزید کہا کہ جیل میں ہنر سیکھنے والے قیدی رہائی کے بعد معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔فاضل جج کے جیل دورہ کے موقع پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گوجرانوالہ حبیب اللہ عامر‘ سپرنٹنڈنٹ جیل کامران انجم‘ لاہور سے مسز فوزیہ وقار چیئرپرسن حقوق برائے خواتین پنجا ب، ڈاکٹر عارف خواجہ‘ لیڈی ڈاکٹرحمدہ‘ عاصم ذوالفقار علی‘ حمزہ اشرف، ڈاکٹر عبدالناصر، سوشل ویلفیئر آفیسر جمشید بشیر اور سنٹرل جیل کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے اپنے دورے کے دوران جیل کے تمام معاملات اور امور کا تفصیلی جائزہ لیا ہے اپنے دورے کے دوران انہو ںنے خواتین و نو عمر قیدیوںکی بیرکوں،جیل ہسپتال،خواتین قیدیوں کے لئے ڈسپنسری اور نوعمر قیدیوںکیلئے قائم کئے گئے لٹریسی سنٹرز‘ کچن‘ ایمرجنسی وارڈ اور منشیات کے قیدیوں کی بحالی کے مرکز کا لگا تار 4 گھنٹے تک تفصیلی دورہ کیا اس دوران انہو ںنے خواتین اورمرد قیدیوں جبکہ نو عمر قیدیوں سے بھی بات چیت کی اور ان کے مسائل دریافت کئے۔ اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ جیل کامران انجم نے انہیں تمام امو رپر قیدیو ں کو فراہم کی جانے والی سہولتوں‘ علاج معالجہ‘ ادویات کی فراہمی اور نوعمر قیدیو ںکی تعلیم و تربیت کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہاکہ جیل میں قیدیوں کا ڈیٹا کمپیوٹرائزڈ کرنے اور خالی پوسٹوں پر بھرتی کرنے‘ جیل کے بجٹ میں اضافہ کرنے‘ ترقیاتی سکیموں کے لئے مناسب فنڈز کی فراہمی اور ہسپتال میں طبی آلات و مشینوں کی فراہمی اور قیدیو ںکی ووکیشنل ٹریننگ کے پروگراموںکے لئے حکومت کو خصوصی طورپر شفارشات بھیجی جائیں گی۔ انہوںنے کہا کہ تمام پالیسی امور پر سفارشات تیار کرکے ہوم سیکرٹری پنجاب اور آئی جی جیل خانہ جات کو ارسال کی جائیں گی۔ انہو ںنے کہا کہ جیل میں قید خواتین او رمردوں کو ہنرمند بنانے کے لئے آئی ٹی اور ووکیشنل ٹریننگ پر بھرپور توجہ دینے پر زور دیا جائے گا تاکہ وہ جیل سے رہائی کے بعد معاشرے میں جا کر اپنا مقام بنا سکیں اور اپنا روز گار حاصل کرنے کے قابل ہو سکیں۔ انہوں نے اس موقع پر سپرنٹندنٹ جیل کامران انجم کی کاوشوں کو سراہا اور کہا کہہ یہاں قیدیوں کی دی جانے والی سہولتیں بہت حد تک بہتر ہیں جہاں جہاں بہتری کی گنجائش نظرآئی ہے اس کی سفارش حکومت سے کر دی جائے گی۔ جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہاکہ تمام قیدیوں کی ذہنی و جسمانی صحت اور تربیت کے لئے بھی خصوصی پروگرام منعقد کرانے کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ انہو ں نے جیل کی صفائی ستھرائی‘ قیدیو ں کو فراہم کئے جانے والے کھانے کی تعریف کی او رکہاکہ سپرنٹندنٹ جیل ان ٹھو س اقدامات پر مبار کباد کے مستحق ہیں انہوں نے کہاکہ جیل میں ترقیاتی کاموں کے لئے بھی بجٹ حاصل کرنے کی سفارش کی جائے گی۔

مزید : لاہور