سست بارڈر فوری طور پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولا جائے: عبدالباسط

سست بارڈر فوری طور پر تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولا جائے: عبدالباسط

  

لاہور(کامرس رپورٹر) لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سست بارڈر کو تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھولے کیونکہ اس کی بندش کی وجہ سے کنو اور آلو سمیت لاکھوں ڈالر مالیت کی تجارتی اشیاء خراب اور ایکسپورٹرز کو بھاری نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر نے کہا کہ تجارتی خسارہ پہلے ہی تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے جبکہ سال 2012ء کے بعد چین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی حصے دار بن چکا ہے، اگر اس کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں معطل ہوئیں تو تجارتی خسارہ مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارڈر مینجمنٹ کمیٹی نے سست بارڈر بند کرنے کے معاملے پر سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھی ٹرانسپورٹرز نے بارہ دسمبر سے ہڑتال کرنے کا اعلان کررکھا ہے جس کی وجہ سے افغانستان کے ذریعے پاکستانی تجارتی اشیاء کی آمد و رفت متاثر ہوگی، چین اور افغانستان کو پاکستانی مصنوعات کی ترسیل رکنے سے تجارتی خسارے میں بھاری اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جولائی سے اکتوبر 2016ء کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 9.3ارب ڈالر ہوگیا۔

جبکہ توقع ہے کہ رواں سال کے اختتام تک یہ 28ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا جو معیشت کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔ عبدالباسط نے حکومت پر زور دیا کہ وہ صورتحال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے سست بارڈر کو فوری طور پر تجارت کے لیے کھولے تاکہ برآمد کنندگان متاثر نہ ہوں۔

مزید :

کامرس -