مسئلہ کشمیر کے حل میں امریکی کردار

مسئلہ کشمیر کے حل میں امریکی کردار

  

امریکہ کے منتخب نائب صدر مائیک پنس نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل میں مرکزی کردار ادا کرسکتے ہیں دونوں ممالک چاہیں تو منتخب امریکی صدر دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان معاملات طے کراسکتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ مسائل حل کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے ہیں، امریکی انتظامیہ کشمیر کا مسئلہ حل کرانے میں سنجیدہ ہے امریکہ دونوں ملکوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا چاہتا ہے، چند روز قبل ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان رابطہ ہوا جس میں ٹرمپ نے انہیں مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرنے کی پیش کش کی۔پاکستان اور بھارت کے درمیان ستر سال پرانا مسئلہ کشمیر ہی بنیادی وجہ نزاع ہے، کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ قبضے کی وجہ سے نہ صرف ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں بلکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان مستقل کشیدگی کی صورت بھی پیدا ہو گئی ہے، ماضی میں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی جو بھی کوششیں ہوئیں بھارت کے رویہ کی وجہ سے ناکام ہو گئیں اور جب کبھی مذاکرات ہوئے کشمیر کے معاملے پر گفتگو سے بھارت نے ہمیشہ ہی پہلوتہی کی، اب تک یہی صورت حال چلی آرہی ہے اس وقت کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے اور نہ مستقبل قریب میں ہونے کا بظاہر کوئی امکان ہے کوئی کرشمہ ہو جائے اور اس کے نتیجے میں مذاکرات شروع بھی ہو جائیں تو اس امر کی کوئی ضمانت نہیں کہ یہ پہلے کی طرح بیکار مشق ہی ثابت نہیں ہوں گے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان اگر مذاکرات نتیجہ خیز ہونے ہیں تو اس کے لئے بنیادی ضرورت یہ ہوگی کہ بھارت پہلے اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرے، نہ صرف مذاکرات کی میز پر نیک نیتی کے ساتھ بیٹھے بلکہ عملاً یہ ثابت بھی کرے کہ وہ مسئلے کے حل میں مخلص ہے تب کہیں جا کر مذاکرات ہو سکتے ہیں یا ان کا کوئی نتیجہ نکل سکتا ہے۔

امریکی حکومت کی اب تک کی پالیسی تو یہی ہے کہ کشمیر اور دوسرے تنازعات ، دونوں ملک (پاکستان اور بھارت) باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کریں،امریکہ مذاکرات کے لئے ’’ سہولت کار‘‘ کا کردار ادا کرسکتا ہے ثالث بننا صرف اسی صورت ممکن ہے جب دونوں ملک پیشگی طور پر امریکہ سے ایسے کردار کی درخواست کریں، پاکستان نے تو ہمیشہ کہا کہ اگر امریکہ کوئی کردار ادا کرے تو پاکستان اس کا خیر مقدم کرے گا لیکن بھارت کا موقف یہی رہا کہ مسئلہ کشمیر دونوں ملکوں کے درمیان باہمی مسئلہ ہے اس کے لئے کسی تیسرے فریق( بشمول امریکہ) کی خدمات کی ضرورت نہیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی متعدد بار ثالثی کی پیش کش کی جو بھارت نے مسترد کردی اہم سوال ہمیشہ یہی رہا ہے کہ بھارت، پاکستان کے ساتھ تو مذاکرات کرتا نہیں، دوسرے ملکوں کی ثالثی (یا مصالحت) قبول نہیں کرتا، تو ایسی صورت میں آخر مسئلے کا حل کیا ہے؟ایک حل تو اس جدوجہد کے اندر پوشیدہ ہے جو کشمیریوں نے شروع کررکھی ہے اور وادی میں آٹھ لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی اور ظلم و ستم کی نئی سے نئی داستانیں رقم کرنے کے باوجود کشمیر کے عوام اپنی خودارادیت کی اس جدوجہد سے دستبردار ہونے کے لئے تیار نہیں وہ قربانیوں کی نئی تاریخ رقم کررہے ہیں، اس وقت فی الواقعہ طور پر کشمیر کی آزادی کی تحریک نو جوانوں کے ہاتھ میں ہے اور ان کی قربانیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ اب ڈاکٹر فاروق عبداللہ جیسے رہنما بھی ان قربانیوں کے اعتراف پرمجبور ہیں اور انہوں نے بھی تحریک آزادی کی حمایت کردی ہے فاروق عبداللہ اپنی سیاسی مصلحتوں کی وجہ سے ہمیشہ اس جدوجہد سے الگ تھلگ رہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ حالات کا دھارا انہیں اس مقام پر لے آیا ہے کہ وہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ اب کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کی جانب سے آنکھیں بند رکھنا ان کے لئے خطر ناک ہوگا۔

ان حالات میں اگر امریکی منتخب صدر مسئلہ کشمیر کے حل میں دلچسپی لیں اور ایسے مذاکرات کا اہتمام کریں جن کے نتیجے میں بھارت ہٹ دھرمی چھوڑ کر سنجیدگی اور نیک نیتی سے مسئلے کے حل کے لئے تیار ہو جائے اور امریکہ بھی اپنی پالیسی پر نظر ثانی کر کے مصالحانہ یا ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہو تو پھر مذاکرات بھی نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں، امریکہ کو اس سلسلے میں اس لئے بھی کردار ادا کرنا چاہیے کہ کشمیر ایٹمی فلیش پوائنٹ ہے اگر پاکستان اوربھارت کی کشیدگی بڑھتی رہے اور کشمیر کی کنٹرول لائن پر ہونے والی جھڑپیں دوسرے محاذوں پر پھیل جائیں تو دو ایٹمی قوتوں کے درمیان یہ کشیدگی نہ صرف دونوں ملکوں کے امن کو خاکستر کردے گی بلکہ علاقے اور دنیا کا امن بھی داؤ پر لگا رہے گا اس لئے امریکہ اگر ان خطوط پر سوچ رہا ہے اور امریکی نائب صدر یہ سمجھتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس سلسلے میں کردار ادا کرسکتے ہیں تو پھر انہیں اس جانب پیش رفت کے لئے مناسب وقت پر آغازکر دینا چاہیے ایسی امریکی کوشش اگر رنگ لے آتی ہے تو یہ خطے کے اربوں عوام پر احسان عظیم ہوگا، نہ صرف خطہ جنگ کے شعلوں سے محفوظ رہے گا بلکہ ترقی اور خوشحالی کی راہ پر بھی آگے بڑھے گا اگر دونوں ملکوں میں اس مسئلے کے حل کی وجہ سے بہتر تعلقات قائم ہو جاتے ہیں تو پھر دونوں ملکوں کے محدود مالی وسائل کا رخ اسلحے کی جانب نہیں رہے گا بلکہ یہی فنڈز کروڑوں غریب عوام کی بہبود پر خرچ ہوں گے۔

ماضی کی امریکی حکومتوں نے پس پردہ رہ کر دونوں ملکوں کے تعلقات کی بہتری کی جو کوششیں بھی کیں وہ اس لئے ناکام ہو گئیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر تعلقات کو معمول پر لانے کا عمل شروع ہی نہیں ہو سکا عوامی رابطے کے لئے جو اقدامات کئے گئے وہ یا تو حکومتوں کی پالیسیوں کی وجہ سے آگے نہیں بڑھ سکے یا پھر جو اقدامات کر بھی لئے گئے وہ محض نمائشی ثابت ہوئے جیسا کہ ایک دوسرے ملک میں آمدورفت کی آسانیاں پیدا کرنے کا سوچا گیا لیکن گاڑی کو گھوڑے کے آگے باندھ دیا گیا۔ یعنی لاہور اور دہلی کے درمیان بسیں تو چلا دی گئیں لیکن ویزوں کا حصول دشوارہی رہا، اب ان بسوں میں کون سفر کرے گا؟ ویزہ ہوگا تو مسافر بسیں فائدہ مند ہوں گی، اسی طرح وفود کی سطح پر جو آمدورفت شروع ہوئی تھی وہ بھی چند تبادلوں کے بعد مشکلات سے دوچار ہو گئی اب وفد بھی نہیں آتے جاتے ایسے میں خالی بسیں دوڑاتے پھرنے سے کیا حاصل ہوگا اس لئے امریکہ اگر مسئلہ کشمیر کے حل میں کردار ادا کرتا ہے تو اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔

مزید :

اداریہ -