جمود کا شکار تعلیمی نظام

جمود کا شکار تعلیمی نظام
 جمود کا شکار تعلیمی نظام

  

پاکستان مسلم لیگ (ق) کی رکن صوبائی اسمبلی خدیجہ عمر فاروقی نے پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کے تحت پانچویں اور آٹھویں جماعت کا امتحان دینے والے طلب علموں میں واضح کمی پر پنجاب اسمبلی میں تحریک التوائے کار جمع کرائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں اربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود حکومت کی ناقص پالیسیوں کے باعث پانچویں جماعت کے امتحانات کے لئے10ہزار، جبکہ آٹھویں جماعت کے امتحانات کے لئے14 ہزار بچوں کی کم رجسٹریشن ہوئی جس کا مطلب ہے رواں برس پچھلے سال کی نسبت 24ہزار کم بچے امتحانات دیں گے۔ امتحانات دینے والے بچوں کی انرولمنٹ میں کمی معیار تعلیم گر نے کی نشاندہی ہے۔ سرکاری سکولوں کی نجکاری کا شوشہ،سرکاری اساتذہ کی ملازمتوں کا عدم تحفظ ،معیار تعلیم میں کمی اور دیگراقدامات سے عوام کا سرکاری سکولوں پر عدم اعتماد بڑھ رہا ہے۔

پاکستان میں تعلیمی مسائل کی سب سے بڑی وجہ نااہل انتظامیہ ہے اور ان ہی لوگوں کی وجہ سے ہمارا تعلیمی نظام جمود کا شکار ہو گیا ہے۔ شرح خواندگی اور تعلیمی میدان میں پیچھے ہونے کی وجہ سے پاکستان ترقی کی دوڑ میں بھی پیچھے ہے۔ شہروں میں دیہات کی نسبت تعلیم پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی، لیکن تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی نے نئی نسل کو تعلیم سے محروم رہنے پر مجبور کر دیا ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی کی وجہ سے والدین چاہتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو اچھے تعلیمی اداروں میں داخل نہیں کرا سکتے اور انہیں مجبوراً بچوں کو ایسے اداروں میں بھیجنا پڑتا ہے جہاں معیاری تعلیم فراہم نہیں کی جاتی اور یہی بچے جو پاکستان کا مستقبل ہیں، زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بعض والدین تو ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے اپنے بچوں کی تعلیم کے بجائے چند روپوں کے عوض مزدوری کرانے کو فوقیت دیتے ہیں۔چھوٹی عمر میں کام کاج یا مزدوری کرنے والے بچوں میں سے اکثر بے راہروی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ نجی تعلیمی ادارے کثیر تعداد میں ملک کے مختلف حصوں میں موجود ہیں، مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کے نظام میں خاطرخواہ تبدیلی لائی جائے اور فراہم کی جانے والی تعلیم کے معیار کو بہتر بنایا جائے، ایسی تعلیم فراہم کی جائے جس کے ذریعے طلبہ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں۔

پاکستان جیسے ملک میں قائم شدہ عصری علوم کے اداروں کی صورت حال پر نگاہ ڈالتے ہیں تو ہمیں اعتراف کرناپڑتاہے کہ یہاں پر ان تعلیمی اداروں کو عوامی حلقوں میں وہ اہمیت حاصل نہیں جو ہونی چاہیے۔ جب کسی بھی مرکزی سطح کے ادارے کومرکزی اہمیت نہ ملے تو عوام پراس کی گرفت ڈھیلی پڑ جاتی ہے اورلوگوں میں اس کی مقبولیت کا گراف بھی نیچے آجاتا ہے۔ پھرلوگ ایسے اداروں کو معاشرے پر بوجھ سمجھنے لگتے ہیں یا پھر انہیں آثار قدیمہ کی متبرک عمارتوں کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ایسا اس لئے بھی ہوتا ہے کہ جو بلڈنگ بھی عصر حاضر کے تقاضوں کا ساتھ نہیں دیتی، وہ خود بخود آثار قدیمہ کا حصہ بن جاتی ہے۔تعلیمی شعبے کا سب سے بڑا مسئلہ یکساں حکومتی پالیسی کی غیر موجودگی ہے۔ کم و بیش 4 قسم کے تعلیمی نظام اس ملک میں چل رہے ہیں۔ دینی مدارس اس کے علاوہ ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی بھی نظام تعلیم پر حکومت کو مکمل اختیار حاصل نہیں اور جہاں اختیار ہے، وہاں ارباب اقتدار کو علم ہی نہیں کہ کون سی جہت اختیار کرنا ضروری ہے۔ وقتی بنیاد پر تعلیمی نظام میں تبدیلیاں لانا اور پھر انہیں لوٹانا کنفیوز ارباب اختیار کا مرغوب مشغلہ ہے۔ ایلوپیتھک طبی تعلیم کا تفاوت تو اپنی جگہ پر، ابھی تک یہ فیصلہ ہی نہیں کیا جا سکا کہ طبیہ کالجز سے فارغ التحصیل اطبا کو کیا مقام دیا جائے۔ ہومیو پیتھک طریقہ علاج پر کڑی نظر نہ رکھنے کا نقصان یہ ہوا ہے کہ میٹرک فیل لوگ ہومیو ڈاکٹر کا بورڈ لگائے لوگوں کی جانوں سے کھیلتے نظر آتے ہیں۔ ہمارے ’’عصری‘‘ نظام تعلیم کی سب سے بڑی خامی جعل سازوں کے احتساب میں ناکامی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ جعلی اسناد کے بل بوتے پر ہمارے حکمران اس قوم کی نیا ڈبورہے ہیں۔

ایک امریکی تحقیقی ادارے کے مطابق پاکستان کے سرکاری سکولوں میں طرز تعلیم اور نصاب عدم برداشت پر مبنی نظریات پیدا کرتا ہے جس سے عسکریت پسندی کے رجحانات فروغ پاتے ہیں۔ سرکاری سکولوں میں دی جانے والی تعلیم طلبہ کو مؤثر طور پر روزگار کے حصول کے لئے تیار نہیں کر پاتی،جس سے نئی نسل مایوسی کا شکار ہوتی ہے اور نتیجتاً جنگجوؤں کے طور پر بھرتی ہو جاتی ہے۔ مغرب میں پایا جانے والا یہ عمومی تاثر درست نہیں کہ پاکستان میں انتہاپسندی بنیادی طور پردینی درس گاہوں سے فروغ پارہی ہے، کیونکہ سکول جانے والی کل آبادی کا دس فیصد سے بھی کم مدرسوں میں پڑھتا ہے۔ ادارے کا دعویٰ ہے کہ مسائل دراصل مجموعی تعلیمی نظام میں ہی موجود ہیں۔ تعلیمی نظام تاریخی طور پر اس اعتبار سے بدعنوانی کا شکار رہا کہ سیاسی مفادات کے تحت اساتذہ کی تقرریاں کر کے انہیں تنخواہیں دی جاتی رہیں،چاہے وہ سکول (پڑھانے) آئیں یا نہ آئیں۔ امریکی تحقیقی ادارے نے اپنے جائزے میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان میں حصول تعلیم کی ضرورت حکومت کے پاس دستیاب استطاعت سے بہت زیادہ ہے اور تحقیق کے مطابق یہ فقدان نئی نسل کوعسکریت پسندی کی طرف جھونک رہا ہے۔

حکومت کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟ تھنک ٹینک ایس ڈی پی آئی کے مطابق تعلیمی نظام کے ذریعے ریسرچ کلچر کو بھی فروغ دینا حکومت کی ذمہ داری ہے تاکہ ہم وہمی معلومات کے بجائے محسوس حقائق تک پہنچیں اور ترقی کریں۔موجودہ تعلیمی نظام کا ڈھانچہ،نصاب سے لے کر تعلیمی معیار تک اور اساتذہ کی تربیت سے لے کر طالب علم کی output تک،ہرچیز اصلاح کی محتاج ہے، ان سارے عناصر کا دارومدار حکومتی پالیسیاں ہیں،اول تو موجودہ تعلیمی نظام میں ایک معیاری تعلیمی نصاب تیار کرنے کی ضرورت ہے جس کے سارے تعلیمی ادارے بشمول نجی سکول اور دینی مدارس پابند ہوں،نصاب میں اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ کسی بھی علم کی ضرورت سے زیادہ تفصیلات نہ ہوں، جس سے طالب علم کی عمرزائد ہو،اتنی معلومات ہوں جن سے ہر موضوع کا ایک سطحی تصور ذہن میں آجائے اور پھر طالب علم جس موضوع میں دلچسپی رکھتا ہو اس موضوع کو اعلیٰ تعلیمی مراحل اور یونیورسٹی میں تفصیلات سے پڑھے۔طالب علم کو مناسب موضوع کے اختیار میں آسانی پیدا کرنے کے لئے ورک شاپ اور سیمینارز کا انعقاد کیا جائے،اس نظام سے ایک معتدل اور مہذب معاشرے کا قیام ممکن ہو گا، جس میں ہر شخص کو اپنی اجتماعی ذمہ داریوں کا علم ہوگا۔ حکومت عالمی دباؤ کے تحت صرف انرولمنٹ کو مسئلہ نہ بنائے بلکہ تعلیم اور تربیت کا اصول مکمل طور پر لاگو کرے۔ ڈگری یا فتہ جاہلوں یا بے روزگاروں کی کھیپ مارکیٹ میں ’’پھینکنے‘‘ کے بجائے معیاری اور تیکنیکی علوم سے بہرہ ور ’’پراڈکٹ‘‘ دی جائے تاکہ ملکی اور عالمی منڈی میں کھپت ہو سکے۔ اس سے نوجوان افرادی قوت قوم کا مستقبل بنے گی، دہشت گردوں کی نہیں۔*

مزید :

کالم -