وارث کس کا؟

وارث کس کا؟
 وارث کس کا؟

  

کامیابی کا صرف ایک ہی راستہ ہے، نیک نیتی کا راستہ ۔۔۔پر عزم لوگ گریہ زاری نہیں کرتے بلکہ ناکامیوں کی وجوہات کا جائزہ لے کر نئے سرے سے پیش بندی کرکے آگے کاسفر شروع کرتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کا نوجوان قائد صبح و شام گریہ وزاری ہے ’’ ہم وراث کس کے،شہید بھٹو کے۔شہید بی بی کے، شہید شاہنواز کے، شہید مرتضے کے۔۔۔بے چارہ بلاول اتنا بے خبر، نی سسی اے بے خبرے ، تیرا لُٹیا شہر بھنبھور ۔۔۔ترس آتا ہے کہ وہ کس وراثت کا ذکر کر رہا ہے جانتا ہی نہیں کہ بھٹو کی وراثت کو تین بار لوٹا جا چکا اور آخری بار تو اس بے رحمی سے لوٹا گیا کہ وراثت ہی ختم ہو گئی۔ پنجاب،کے پی کے ، بلوچستان اور سندھ کے شہری علاقوں میں بھٹو کا سارا عوامی اثاثہ بیچ کر دبئی،سوئٹزرلیند،فرانس اور برطانیہ میں زرداری ایمپائر کے مالی اثاثوں میں تبدیل کر دیا گیا۔اب بھٹو کی سیاسی وراثت رہی نہ کوئی وارث، بلاول محترم زرداری کے حقیقی وارث ہیں اور زرداری صاحب نے ان کے لئے عوامی اثاثہ نہیں مالی اثاثوں کا بہت بڑا خزانہ جمع کیا ہے وہ چاہیں تو اس سے بزنس کر سکتے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ پا کستان کی ایلیٹ کلاس کے لئے سیاست سے زیادہ منافع بخش کوئی بزنس نہیں ۔

وقت بدل گیا زمانہ نئے رنگ اور نئی سوچوں کے ساتھ کروٹ لے چکا۔روٹی کپڑا اور مکان کا ڈرامہ بری طرح فلاپ ہوچکا۔گلا پھاڑ کر پورے زور سے لگایا گیابھٹو کا نعرہ تمام ترچمک کھو چکا۔شعور و آگہی نے جہالت کے چکموں کو مات دے دی۔’’بھٹو دے نعرے وجن گئے‘‘ میں اب کوئی کشش نہیں رہی۔ ہر انتخاب کے نتائج کے بعد یہ نعرے پہلے سے زیادہ مدھم اورر گم ہوتے جارہے ہیں ۔نعروں کی جگہ پیپلز پارٹی کے اصل ورکرز کی ہچکیاں سنائی دیتی ہیں۔نئی نسل سے پیپلز پارٹی کو لوگ نہیں مل رہے ۔پیپلز پارٹی نرسری سے محروم ہو گئی ہے جو اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان بن کے دکھائی دے رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کی موجودہ بدحالی سے ناواقف، عوامی سوچ سے نابلد،سیاسی منظر نامے اور حالات سے بے خبر شہزادے کا سنہری ارشاد سنئے ’’اگلا صدر پھر آصف زرداری ہوگا‘‘ پاکستان ایک ملک نہ ہوا زرداری اینڈ کمپنی کی ایمپائر ہوجیسے۔۔۔کون لوگ ہیں جو اس نوجوان کے راستے میں کانٹے بچھا رہے ہیں اور اسے پھر تباہی کے راستے پر گامزن کرنے میں مصروف ہیں ۔بلاول کی اپنے والد محترم کو دوبارہ صدر بنانے کی عوام کو خوشخبری سنانے پر منیر نیازی یاد آگئے۔

کج انج وی راہوں اوکھیاں سن

کج گل وچ غم دا طوق وی سی

کج شہر دے لوک وی ظالم سن

کج سانوں مرن دا شوق وی سی

بلاول بھٹو نے کبھی سنجیدگی سے غور کیا کہ ان کے والد محترم کے دور کو عوام کس نظر سے دیکھتے ہیں او ر پیپلز پارٹی کو عوام نے پانچ سالہ حکومت کے بعد کیوں بری طرح مستر د کر دیا؟زردارری صاحب کا دور اقتدار کیسا تھا، کاش وہ کبھی اس پر پیپلز پارٹی کے حقیقی جیالوں کو بلا کر ایک نشست کریں۔لین دین، سودے بازی، بندر بانٹ،کچھ لو کچھ دو،اپنی کر پشن بچانے کے لئے وزیر اعظمم کی قربانی، ملک کے سب سے اعلٰی منصب کو آڑھتی کی دوکان کی طرح چلانا،’’قاتل لیگ ‘‘کو ’’کولیگ‘‘ بنا لینا،پیپلز پارٹی کے دیرینہ مخلص کارکنوں کی جگہ کاروباری دوستوں اور ماہرین مال کماؤ کو تمام عہدوں پر بٹھانا۔پارٹی کی ترجمانی ایسے چہروں کو دے دی جن کی شکل و صورت ہی پیپلز پارٹی سے مشابہہ نہ تھی۔پیپلز پارٹی کو چاروں صوبوں سے نکال کر صرف سندھ کے دیہی علاقو ں تک سکیڑنے کا اصل ذمہ دار کون تھا؟؟ ’’اگلی باری پھر صدر زرداری ہوں گے ‘‘یہ آپ نے قوم کو نوید سنائی ہے یا خبر دا ر کیا ہے کہ ہوشیار پیپلز پارٹی کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اس کا نظریہء دولت بذریعہ اقتدار اب بھی قائم ہے۔پیپلز پارٹی کو عوامی حمائت سے محروم رکھنے کے آمروں کے تما م ترہتھکنڈے ناکام رہے ۔بھٹو سے پیار کرنے والے ہر آمر کے سامنے ڈٹے رہے اور عوامی حمائت میں ذرا بھی کمی نہ آئی مگر زرداری صاحب کے طرز اقتداریاطرز واردات نے پیپلز پارٹی کو سکیڑ کر رکھ دیا۔ نوجوان بلاول کو سنجیدگی سے پارٹی کی تنظیم نو کرنی چاہئے تھی اور ناکامی کے اسباب کا جائزہ لے کر اس کا تدارک کر کے ملک کے موجودہ حالات کے تنا ظر میں اہم ایشوزپر گہری نگاہ رکھنی چاہئے تھی مگر بلاول نے سیاست کو خاندانی وراثت سمجھ کرکلچرل شوز سے لطف اندوز ہونے کی ٹھانی۔

ملک میں اس وقت سب سے اہم مسئلہ دہشت گردی اور کرا چی کے حالات ہیں ۔اس پر کوئی دو رائے نہیں کہ ملک کے سیکورٹی اداروں اور وزیر داخلہ کی کمٹمنٹ کی وجہ سے پاکستان میں دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی ہے۔کراچی کے حالات پہلے سے بہت بہتر ہوگئے ہیں اس پر وزیر داخلہ کی ستائش کرنی چاہئے مگر عوامی رائے کے برعکس بلاول بھٹو اپنے والد صاحب کے دست راست ڈاکٹر عاصم اور ڈالر گرل ایان علی کو بچانے کے لئے وزیر داخلہ چودھری نثار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔دوسرا اہم ایشو پانامہ لیکس ہے اس پر بھی پیپلز پارٹی کا کوئی واضح موقف نہیں بلکہ آئیں بائیں شائیں کرکے مٹی پاؤ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔عام آدمی کا خیال یہی ہے کہ بلاول بھٹو اپنے والد کے سابقہ دور کی کرپشن بچانے کے لئے احتساب کے عمل پر زور نہیں دیتے اور اندر کھاتے یہ حکومت سے میثاق جمہوریت نامی مک مکا پر ملے ہوئے ہیں بد قسمتی سے بلاول اس تاثر کو زائل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے کہ ان کا پارٹی پر مکمل کنٹرول ہے اور صدر زرداری کا کنٹرول نہیں رہا ، یہ تاثر ابھی تک قائم ہے کہ بلاول محض جلسے جلوس کرکے عوام کا لہو گرما رہے ہیں جبکہ پارٹی کی اصل پالیسی وہی ہے جو جناب زرداری صاحب دبئی بیٹھ کر چلا رہے ہیں ۔حکومت کی کمزور خارجہ پالیسی اور کل وقتی وزیر خارجہ کے نہ ہونے پر بھی پیپلز پارٹی کو کوئی ادراک نہیں، نہ ہی پیپلز پارٹی قوم کو اپنی خارجہ پالیسی کی ترجیحات بتا سکی ہے۔تعلیم اور صحت کا پیپلز پارٹی نے کبھی ذکر نہیں کیا ۔بلاول بھٹو نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے کبھی کوئی اعلان نہیں کیا ۔

نوجوان نسل کا پیپلز پارٹی سے دور ہونا بلاول کے مستقبل کے لئے خطرے کی علامت ہے۔موجودہ نوجوان نسل کی اکثریت کا رومانس عمران خان سے ہوچکا،اسے راغب کرنے کے لئے بلاول کو اپنے اندر اور اپنی پارٹی میں انقلابی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔یہ نئی نسل موروثی سیاست،مال و زرکے پجاریوں ، کرپٹ کرداروں، محلات میں بیٹھ کر غریبوں کے درد کی دوا بیچنے والے عطائیوں ،عوامی ٹیکس کے پیسے سے عیاشی کرنے والی ایلیٹ کلاس اور پروٹوکول کے شوقین لوگوں سے چھٹکارا چاہتی ہے۔نوجوان نسل ایسی تبدیلی چاہتی ہے کہ جہاں حکومتیں بدلنے کا نام تبدیلی نہ ہو، کردار بدل کر ان کی جگہ بد کردار نہ آئیں بلکہ عام پڑھے لکھے باصلاحیت اور عوامی خدمت کا جذبہ رکھنے والے لوگ عوام کی نمائندگی کریں۔بلاول کے لئے بہت بڑا چیلنج ہے کہ وہ خود کو ان تمام فرسودہ برائیوں کے خول سے کیسے آزاد کرتا ہے۔فی الحال تو اس شہزادے کو دیکھ کر نا ممکن لگتا ہے لیکن کوئی پتہ نہیں کوئی کرشمہ رونما ہو جائے اور وہ مال و زر سے نفرت کرنے لگے اور اسے بانٹ کر غریبوں کے فلاحی ادارے بنا کر نیک نامی کما لے اس کے علاوہ اس کے پاس مستقبل میں سوائے گریہ و زاری کے اور کچھ نہیں۔*

مزید :

کالم -