انسانی حقوق کو کالجز اور یونیورسٹی کی سطح پر تعلیمی نصاب کا حصہ بنا یا جا رہا ہے ،خلیل سندھو

انسانی حقوق کو کالجز اور یونیورسٹی کی سطح پر تعلیمی نصاب کا حصہ بنا یا جا رہا ...

  

لاہور (جنرل رپورٹر)صوبائی وزیر انسانی حقوق و اقلیتی امور خلیل طاہر سندھو نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب انسانی حقوق کو کالجز اور یونیورسٹی کی سطح پر تعلیمی نصاب کا حصہ بنا رہی ہے تاکہ نوجوان نسل میں انسانی حقوق کی پاسداری اور اہمیت سے شعور اجاگر کیا جا سکے کیونکہ اسلام سمیت دنیا بھر کے تمام مذاہب میں ایک دوسرے کے حقوق کے احترام کا درس دیا گیا ہے اور یہی مہذب اور تعلیم یافتہ معاشروں کی پہچان ہے۔انہوں نے یہ بات محکمہ انسانی حقوق و اقلتیے امور حکومت پنجاب کے زیر اہتمام لاہور گریثرن یونیورسٹی میں انسانی حقوق کے عالمی دن کی تقریبات کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔وائس چانسلر یونیورسٹی میجر جنرل عبید بن ذکریا، ڈین سوشل سائنسز محمد طاہر ، رجسٹرار یونیورسٹی بشیر محمود باجوہ ، معروف ماہر تعلیم یونس خوشی کے علاوہ اساتذہ کرام اور طلبا و طالبات کی بڑی تعداد نے سیمینار میں شرکت کی ۔خلیل طاہر سندھو نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں انسانی حقوق کے حوالے سے بھر پور قانون سازی کی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ خاص طور پر بچو ں کی مشقت کی ممانعت، خواتین کے حقوق کے تحفظ اور انہیں ہراساں کرنے عمل کے تدارک کے حوالے سے حکومت پنجاب نے تاریخ ساز اقدامات کئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی اندرونی و بیرونی سرحدوں کے محافظ فوجی جوانوں اور شہداء کے بچوں کو اعلی تعلیم کی فراہمی اور کردار سازی میں لاہور گریثرن یونیورسٹی شاندار خدمات سرانجام دے رہی ہے۔حکومت پنجاب اعلی تعلیم کی فراہمی اور ملک کے لئے نامور شخصیات فراہم کرنے پر نجی تعلیمی اداروں کے کردار کو سراہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ انسانی حقوق و اقلتیے امور نے انسانی حقوق کی کسی بھی خلاف ورزی کے حوالے سے شکایات سیل قائم کئے ہیں جہاں کوئی بھی شہری کسی بھی خلاف ورزی کی نشاندہی کر سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ میڈیا معاشرے کی آنکھ ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو سامنے لانے میں میڈیا کا اہم کردار ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مثبت تشخص عالم اقوام میں اجاگر کرنے کے لئے معاشرے کی ہر شہری کو اپنی ذمہ داری ادا کرنا ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب لیبر، انسانی حقوق اور انڈسٹریز کے حوالے یورپی یونین کے27کنونشن کی پاسداری کر رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ نئی قانون سازی کے تحت پنجاب میں مرد سربراہ کے انتقال کے بعد خواتین کو جائیداد میں فوری حصہ اور قبضہ دلوایا جا رہا ہے اور فیصلہ سازی کے عمل میں 25ہزار خواتین کو شامل کرنے کے علاوہ ملازمتوں میں کوٹہ 15فیصد جبکہ اقلتیوں کے لئے5فیصد یقینی بنایا جا رہا ہے ۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -