ہارٹ آف ایشیا کانفرنس اور بھارتی رویہ

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس اور بھارتی رویہ
ہارٹ آف ایشیا کانفرنس اور بھارتی رویہ

  

نومبر 2011میں اسنبول کی جانب سے شروع ہونے والے مذاکرات کا مقصد افغانستان اور اُسکے ہمسایہ ممالک کے درمیان سکیورٹی، سیاسی اور معاشی تعاون کا فروغ تھا ۔ جنوبی ایشیا ئی ممالک کو درپیش مشترکہ چیلنجز، جن میں دہشت گردی ، منشیات ، غربت اور انتہاپرستی شامل ہیں،سے مشترکہ طور پر نبرد آزماہونے کے لیئے ہارٹ آف ایشیاء کا پلیٹ فارم معرض وجود میں لایا گیا، جس کے رکن ممالک میں افغانستان، آزربائجان، چین، انڈیا، ایران قازقستان، کرخستان، پاکستان، روس، سعودی عرب، تاجکستان، ترکی، ترکمانستان اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں ۔ افغا نستان میں عشروں سے جاری کشیدگی نا صرف ایشیا بلکہ پوری دنیا کے لئے پریشان کن اثرات مرتب کر رہی ہے۔ دہشت گردی کا دور دورہ بھی اِسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ پاکستان افغانستان کا ہمسایہ ملک ہے اور دونوں ممالک کے درمیان مذہبی، ثقافتی اور تہذیبی تعلقات ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں رہنے والے افراد اور افغانستان سے ملحقہ پاکستانی علاقے میں بسنے والوں اور افغانیوں کے مابین صدیوں پر محیط روابط ہیں ۔

افغان جنگ کے دوران افغان مہاجرین کو بڑی تعداد میں پناہ دینے والا ملک بھی پاکستان ہے، جو کئی عشروں سے افغان مہاجرین کا بوجھ اُٹھائے ہوئے ہے۔ افغانستان میں موجود دہشت گرد افغانستان کے امن کو خطرے میں ڈالے ہوئے ہیں۔ ماضی قریب میں بھی ان دہشت گردوں نے پاک افغان بارڈر کے ذریعے آسان نقل و حمل کی وجہ سے اپنی کمین گاہیں پاکستان میں بنارکھی تھیں۔پاکستان ان کی شرا نگیزیوں سے محفوظ نہیں رہا۔ پاکستان میں ہونے والے اکثر دہشت گردی کے دل ہلادینے والے واقعات کا سراغ بھی افغانستان میں موجود دہشت گردوں سے ملتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کی معاشی ترقی اور بحالی امن کے لئے مفید خدمات سرانجام دی ہیں اور دیتا رہا ہے ۔ لیکن پاک افغان تعلقات میں اُتار چڑہاؤ آتا رہاہے۔ علاقے کا چوہدری بننے کی تگ ودو میں بھارت کو پاکستان کی اُبھرتی ہوئی معیشت ایک آنکھ نہیں بھاتی، جس کے باعث وہ مختلف حیلے بہانوں سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا جاری رکھے ہوئے ہے۔ لیکن افغان حکومت بھارتی حکمرانوں کے ہاتھوں کٹھ پتلی کا کردار کر رہی ہے ۔ پاکستان میں منعقد ہونے والی سارک کانفرنس کو بھارت نے سبوتاژ کیا اور علاقائی فلاح کو ذاتی انا کے بھینٹ چڑھا دیا ۔

بھارت کے برعکس پاکستان نے اس سال ہارٹ آف ایشیا کانفرنس، جس کا انعقاد بھارت میں ہونا تھا، کے سلسلے میں دانشمندی کا ثبوت دیا ۔ ملک میں موجود متضاد آراء،پاکستان کے خلاف بھارتی جارحیت میں اضافے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارت مظالم کے باوجود وزیر اعظم پاکستان نے بھارتی ہٹ دھرمی اور کم ظرفی کاجواب مدبرانہ انداز میں دیا ۔ انھوں نے مشیر خارجہ امورسرتاج عزیز کوامر تسر جانے کی ہدایت کی۔یہ بہترین پاکستانی سفارتکاری کاہی نتیجہ ہے کہ نواز شریف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان خوشگوار گفتگو ہوئی اور ٹرمپ نے تصفیہ طلب معا ملات پر ثالثی کی پیش کی ۔ اسی طرح پاکستان کے خلاف ہر زہ سرائی میں مصروف بھارت کو مشیر خارجہ نے خود بریک تھرو کے لئے ایک موقع فراہم کیا۔ امر تسر جانے سے قبل سرتاج عزیز نے واضح طور پر اعلان کیاکہ اگر بھارت نیمذاکرات کی پیش کی تو پاکستان اسے قبول کرے گا۔ اس کے برعکس بھارتی ترجمان نے اس قسم کے کسی بھیمذاکرات کو خارج ازامکان قرار دیا۔ اگر دونوں ممالک کے بیانات کا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت واضح ہو گی کہ کونسا ملک علاقے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے اور کون ذاتی انا اور ہٹ دھرمی کے مینار پر چڑھ کر ’’میں نامانوں‘‘ کی گردان کر رہا ہے۔

صرف یہی نہیں، بھارت خود سری میں تمام سفارتی آداب بھُلا بیٹھا ہے ۔ امرتسر میں سرتاج عزیز کو پریس کانفرنس کرنے سے روک دیا گیا اس کے علاوہ انہیں گولڈن ٹیمپل جانے کی بھی اجازت نہ دی گئی۔ اس کے علاوہ بھارت اور افغانستان کی جانب سے جاری ہونے والا اعلامیہ بھی بذات خود ہارٹ آف ایشیا کی روح کے خلاف ہے ۔ اس اعلامیے کے مطابق پاکستان دہشت گردوں کی سر پرستی کر رہا ہے ۔ دنیا گواہ ہے کہ سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار خود پاکستان ہے۔ایک ملک جو خود دہشت گردی کا شکار ہو بھلا وہ دہشت گردی کی سر پر ستی کیسے کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانیا ں دینے والا ملک بھی پاکستان ہی ہے ۔ بھارت اور افغانستان کی جانب سے پاکستان مخالف بیانات کے ردعمل میں روس نے دونوں ممالک کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کا مجموعی محور افغانستان ہے ۔ یہاں پر الزامات کا کھیل نہیں ہونا چاہیے ۔ پاکستان پر تنقید کرنا غلط ہے۔ سرتاج عزیز کی تقریر بہت تعمیری اور دوستانہ تھی ۔ روس کی جانب سے انڈیا اور افغانستان کے رویے کی تردید اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ دونوں ممالک محض پاکستان مخالف پروپیگنڈا میں مصروف ہیں ، جس سے ایشیا ئی امن کو خطرہ ہے ۔ خوشحال پاکستان ہی افغانستان اور ایشیا کے امن کا ضامن ہے اگر اس خطے کے ممالک ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں مصروف رہے تو یہ علامتی کانفرنسیں بھی امن اور خوشحالی کے سلسلے میں بے سود ثابت ہوں گی ۔ بھارت کو دانشمندی کا ثبوت دیتے ہوئے علاقے میں موجود تمام تصفیہ طلب معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کرنے کی کو ششیں کرنی چاہئیں اور علاقے میں ،ا فلاس ، دہشت گردی ، جہالت اور بیماری کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ دانشمندی کا تقاضا ہے کہ تمام ایشیائی ممالک متحد ہو کر خوشحالی کی ڈگرپر گامزن ہوں کیونکہ یہی وقت کی پکار ہے ۔ *

مزید :

کالم -