ہارٹ آف ایشیا کانفرنس زیر بحث، سرتاج عزیز کی شرکت پر موافق، مخالفانہ بیانات

ہارٹ آف ایشیا کانفرنس زیر بحث، سرتاج عزیز کی شرکت پر موافق، مخالفانہ بیانات

  

اسلام آباد سے ملک الیاس

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سرد موسم میں سیاسی و سماجی حلقوں میں بھارت میں ہونیوالی ہارٹ ایشیا کانفرنس میں پاکستان کی شرکت اور وہاں پاکستانی وفد کے ساتھ روا رکھے جانیوالے غیرسفارتی آداب پر بحث مباحثہ جاری ہے کچھ حلقوں کاکہنا ہے کہ پاکستان کو سارک کانفرنس کا بدلہ لینے کیلئے وفد بھارت نہیں بھیجنا چاہیے تھا جبکہ کچھ حلقوں نے وفد بھیجنے کی حمایت کی کہ اس طرح بھارت کو بات کرنے کا موقع نہیں ملے گا کیونکہ ہارٹ ایشیا کانفرنس افغانستان کے بارے میں ہورہی ہے،کانفرنس سے پاکستان واپس آتے ہی وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور نے پریس کانفرنس کرڈالی کیونکہ انہیں وہاں امرتسر میں بھارتی حکام نے میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی تھی،سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا نے دباؤڈالنے کے لیے دہشتگردی کا معاملہ اچھالا،دہشتگردی کے خاتمے کیلئے تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہو گا۔دورہ بھارت سے کم از کم مجھے کسی بریک تھرو کی توقع نہیں تھی،اگرمقبوضہ کشمیرمیں مسئلہ نہیں توبھارت نے7 لاکھ فوج کیوں رکھی ہے؟ بھارت کشمیرسے توجہ ہٹانے کیلیے دہشتگردی کی بات کرتا ہے جب بھی بھارت میں انتخابات ہوتے ہیں، پاکستان مخالف بیانات آتے ہیں۔اگرمیڈیا کے ذریعے بات چیت کریں گے تومعاملات بگڑیں گے۔ انکا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی، ارن جیٹلی، اجیت دوول ودیگرسے کا نفرنس کی سائیڈلائنز پربات ہوئی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا اعلامیہ متوازن ہے اور اس پر کئی ہفتوں سے بات چیت جاری تھی اعلامیے میں جن تنظیموں کے نام دیئے گئے ہیں اس سے ظاہرہوتا ہے کہ یہ پورے خطے کے حوالے سے ہے، بھارت میں جس ہوٹل میں ہم ٹھہرے ہوئے تھے وہاں سیکورٹی کے انتہائی عجیب انتظامات تھے بھارتی سیکیورٹی افسرکسی کوآنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے پاکستانی میڈیا کے ساتھ بھارت کارویہ درست نہیں تھاہمیں پاکستان سے آئے ہوئے صحافیوں سے بھی بات نہیں کرنے دی گئی جوپریس کانفرنس یہاں کررہا ہوں،بھارت میں کرنا چاہتا تھالائن آف کنٹرول پرکشیدگی کے باوجودبھارت کا دورہ کیاعالمی رہنماؤں سے بات ہوئی تو سب نے کہاکہ اچھا ہوا آپ کانفرنس میں آئے کانفرنس میں پاکستان کاموقف تھا کہ افغان معاملے پر متوازن سوچ اپنائی جائے افغان صدرسے ملاقات میں پاکستان کے تعاون کی یقین دہانی کرائی۔افغان صدر پر واضح کیا کہ سرحد پرموثرانتظام بھی ضروری ہے۔مناسب بارڈرمینجمنٹ کے بغیر دونوں ممالک میں صورتحال کی بہتری ممکن نہیں،انکا کہنا تھا کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت نہ کرتے تو بھارت کو پاکستان پر تنقید کرنے کا فری ہینڈ مل جاتا، کانفرنس میں شرکت کے ہمارے تین مقاصد تھے ایک تو افغانستان کا امن عمل اوردوسرا ہم یہ واضح بتا دینا چاہتے تھے کہ اگر کوئی دوطرفہ معاملات ہیں بھی تو اسے افغان امن عمل پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے جیسا بھارت نے سارک کانفرنس کے دوران کیا کیونکہ ان فورمز کا مقصد ہی کشیدگی کو کم کرنا ہے اور تیسرا مقصد بھارت کو کانفرنس میں فری ہینڈ نہ دینا تھا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کا کہنا تھا کہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں جو ہمارے وفد کے ساتھ ہوا اس کا پہلے سے بخوبی اندازہ تھا، ہم افغانستان میں ہر صورت قیام امن کے حق میں ہیں ، عالمی پابندیوں کے باوجود کبھی افغانیوں کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمیں شاہ محمود قریشی نے کانفرنس کے ھوالے تبصرہ کیا کہ حالیہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں پاکستان کی ناکام خارجہ پالیسی ایک بار پھر ابھر کر سامنے آئی ہے، پاکستان پرعائد دہشتگردوں کو پناہ دینے کے جھوٹے الزام کے خلاف ہماراکمزور ترین دفاع اور مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو اجاگرنہ کرسکنا ہماری مسلسل ناکام خارجہ پالیسی کا مظہر ہے ، موجودہ ابھرتی ہوئی عالمی صورتحال کے برعکس پاکستان کی خارجہ پالیسی کثیر الجہتی حکمت عملی سے خالی ہے اور اگرخارجی امور کی موجودہ صورتحال ایسی ہی رہی تو پاکستان علاقائی سطح پر اپنی ساکھ گنوا بیٹھے گا۔ امیر جماعۃ الدعوۃ پروفیسر حافظ سعید کا کہنا تھا کہ سرتاج عزیزکے بھارت جانے سے دنیا بھر میں پاکستان کی جگ ہنسائی ہوئی ، حکومت بھارت کی بجائے کشمیریوں کا اعتماد بحال کرے ، وزیر اعظم مظفر آباد جا کر بیانات دینے کی بجائے اسلام آباد میں بیٹھ کر کشمیریوں کے لیے اقدامات کریں،چکوٹھی سے تجارتی ٹرکوں کی بجائے مقبوضہ کشمیر میں غذائی قلت دور کرنے کے لیے امدادی سامان بھیجا جائے۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید احمد شاہ نے ہارٹ آف ایشیاکانفرنس پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے افغان صدر کو کڑی تنقید کانشانہ بنا یا انکا کہنا تھا کہ افغان صدر اپنے عوام کو عزیز رکھیں اور مودی کی زبان نہ بولیں ، افغان صدر بھارت کے ساتھ نئی نئی مگر عارضی دوستی میں اتنا دور نہ نکل جائیں کہ پھر انہیں واپسی میں مشکل ہو، اشرف غنی وہ وقت بھی بھول گئے جب سویت یونین کے حملے کے وقت بھارت روس کے ساتھ کھڑا تھا اور افغانستان کی بربادی کا تماشا دیکھ رہا تھا ، افغان صدر کا ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے خطاب انتہائی قابل مذمت ہے،پاکستان نے لاکھوں مہاجرین کو اپنے ملک میں پناہ دی اور پھر دہشت گردی اور بد امنی کا اکھاڑہ بن گیا مگر ہم نے افغانستان کو برادر ملک ہونے کے ناطے کبھی مورد الزام نہیں ٹھہرایا ۔ سابق وزیرخارجہ خورشید احمد قصوری کا کہنا تھا کہ اشتعال انگیزی نریندر مودی کا ایجنڈا ہے، وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح وہ ہندوؤں کی مزید حمایت حاصل کر پائیں گے،برکس کانفرنس میں بھی بھارت نے پاکستان کے ساتھ تنازعات کو لانے کی کوشش کی اور اسے منہ کی کھانا پڑی کیونکہ بین الاقوامی کانفرنسوں میں دو طرفہ تنازعات کو نہیں اٹھایا جاتا، افغان صدر اشرف غنی نے آغاز میں پاکستان آکر بھارت کو ناراض کیا، اس دوران پاکستانی حکومت نے ایک خوش فہم اندازہ لگاتے ہوئے کہا کہ ہمارا افغان طالبان پر بہت زیادہ اثر ہے، حقیقت میں یہ بات درست نہیں، بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سے توجہ ہٹانے کے لیے ہر بات میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے،

حکومتی وزراء نے پانامہ پیپرز کے معاملہ پر ایک بار پھر تحریک انصاف کی قیادت کو سخت تنقید کانشانہ بنایا ہے وزیر مملکت کیڈ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور رہنما مسلم لیگ (ن) و رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف ہم پر لگائے گئے الزامات کے ثبوت پیش نہیں کر سکی اور دفاع میں جمع کرائے گئے کاغذات لے کر عوام کو گمراہ اور ملک و قوم کا وقت ضائع کر رہی ہے، عمران خان کی طرف سے جو جواب سپریم کورٹ میں داخل کیا گیا وہ ان کے اپنے پارلیمنٹ میں دیئے گئے بیانات اور ان کی سابقہ اہلیہ جمائما خان کے ٹویٹ پیغام اور پاور آف اٹارنی کی تحریروں میں تضاد ہے، جہانگیر ترین نے اپنے باورچی اور مالی کو کاروبار کا مالک ظاہر کر دیا ہے، عمران خان کو اب جواب دینا پڑے گا اور تلاشی دینا پڑے گی،جس پر تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور ترجمان نعیم الحق کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے مالی معاملات انتہائی غیر شفاف ہیں ،نوازشریف اور عمران خان میں فرق پوری قوم جانتی ہے،قوم جانتی ہے کہ عمران خان نے کرکٹ کی کمائی سے لندن کا فلیٹ خریدا اور فلیٹ بیچ کر بنی گالہ میں زمین خریدی ،قوم کو یہ بھی نہیں معلوم کہ نوازشریف نے پیسہ باہر کیسے بھیجا،قوم یہ بھی نہیں جانتی کہ لندن فلیٹس کی خریداری کیلئے پیسہ آیا کہاں سے،گالم گلوچ بریگیڈ نے ایسا کون سا انکشاف کیا جو قوم پہلے نہیں جانتی تھی گلے پھاڑنے اور کیچڑ اچھالنے کا پہلے کوئی فائدہ ہوا نہ آئندہ ہوگا ، وزارت کے وسائل اور وزیر اعظم کی ہدایت پر سیاسی بلیک میلنگ کا ہر حربہ ناکام ہو گا اورقوم کی لوٹی گئی دولت کا جواب دینا ہوگا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -