کراچی میں آتشزدگی کے متعدد واقعات ، سوالیہ نشان بن گئے

کراچی میں آتشزدگی کے متعدد واقعات ، سوالیہ نشان بن گئے

  

نصیر احمد سلیمی

کراچی میں آگ لگنے کے پے درپے واقعات ہو رہے ہیں تازہ واقعہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب پونے تین بجے کے قریب شاہراہ فیصل پر واقع ایک بڑے ہوٹل ریجنٹ پلازہ کے کچن میں آگ لگنے کی وجہ سے پیش آیا جس سے بارہ افراد جاں بحق اور 75 سے زیادہ زخمی ہو گئے زخمیوں میں چین سے تعلق رکھنے والے شہری بھی شامل ہیں۔ بد انتظامی کی اسسے بڑی مثال کیا ہو گی ہوٹل میں آگ لگنے کی صورت میں لگا آلارم بھی کام نہ کر سکا۔ شہری انتظامیہ ہو یا بلدیاتی ادارے یا پھر صوبائی حکومت سب کی کارکردگی کی قلعی کھل گئی ہے سب ہی مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہوئے سارے ذمہ داران خود احتسابی کے بجائے زبانی جمع خرچ، بول بچن سے حادثات کی روک تھام کی کوشش کرتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہی کیماڑی کے آئل ٹرمینل پر ایک ہفتہ ہی دو بار آگ لگی تھی جس میں تین افراد جاں بحق ہو گئے تھے قبل ازیں کراچی کے قریب گڈانی کے مقام پر واقع شب بریکنگ کے لئے لنگرانداز جہاز میں آگ لگی تو تین دن تک اس آگ پر قابو نہ پایا جا سکاجسکی وجہ سے دو درجن سے زیادہ مزدور جاں بحق ہو گئے تھے۔ سب جگہ کی ایک کہانی ہے کہ آگ پر قابو پانے کے انتظامات موجود تھے اور نہ ہی بر وقت ریسکیو کی سہولتیں پہنچائی گئیں۔ لوگوں نے چادروں اور پردوں کو رسی بنا کر جان بچائی کتنے ہی لوگوں نے چھلانگ لگا کر جان بچائی ہوٹل ریجنٹ پلازہ کی آگ کے حوالے سے انتظامیہ کا ابتدائی موقف ہے کہ یہ ایک حادثہ ہے۔ حتمی رپورٹ آئے گی تو کچھ اندازہ ہوگا کہ بعض حلقوں کے اس تاثر میں کوئی صداقت ہے یا نہیں کہ آگ لگی نہیں ہے لگائی گئی ہے؟ مگر سوال تو یہ ہے چار سال قبل بلدیہ ٹاؤن کی گارمنٹ فیکٹری میں تو سارے ہی ذرائع اسکی تصدیق کر چکے ہیں کہ وہاں دانستہ طور پر جان بوجھ کر مالکان کی طرف سے بھتہ نہ دینے کی سزا کے طور پر آگ لگائی گئی تھی اس کی تحقیق بھی آج تک مکمل کیوں نہیں ہو سکی ہے؟ اس فیکٹری میں تو عالمی معیار کے مطابق حفاظتی انتظامات بھی موجود تھے اور ہنگامی صورت میں باہر نکلنے کے راستے بھی واضح تھے مگر آگ لگانے والوں نے فیکٹری کے ہنگامی صورت میں اخراج کے تمام راستوں کو پہلے ہی بند کر دیا تھا۔ جس کی وجہ سے باہر سے کوئی آگ پر قابوپانے کی کوشش کامیاب ہونے دی گئی اور نہ ہی اندر سے کسی کو باہر نکلنے دیا گیا۔ اس سانحہ میں جل کر پونے تین سو مزدور خاکستر ہو گئے اور پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کی مخلوط حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگی اور آج تک اس کے ذمہ داروں کا حتمی تعین ہو سکا ہے اور نہ ہی قانون کی عدالتوں سے نامزد ملزموں کو ملزم سے مجرم ثابت کرانے کے تمام مراحل کو مکمل کیا جا سکا ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ اس سانحہ کے تمام کردار تو ابھی قانون کی گرفت میں بھی نہیں آئے ہیں دو دن قبل ہی اس سانحہ کا نامزد مرکزی ملزم عبدالرحمن عرف بھولا وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی کاوشوں اور کوششوں سے انٹرپول کے ذریعہ بنکاک سے گرفتار ہوا ہے۔ جبکہ ایک اور اہم نامزد ملزم حماد صدیقی ہنوز قانون کی گرفت سے محفوظ بیرون ملک ہے۔ سانحہ سے بڑھ کر سانحہ تو یہ ہوا کہ فیکٹری کے مالکان سے فیکٹری میں جل کر خاکستر ہونے والے مزدوروں کے لواحقین کی امداد کے نام پر حاصل کی جانے والی رقم بھی آگ لگانے والے فوری ہڑپ کر گئے شہر کراچی یا ملک کے کسی دوسرے بڑے تجارتی کاروباری مرکز یا بڑی رہائشی عمارتوں اور ہوٹلوں میں آگ لگنے کے تواتر کے ساتھ واقعات سے بیرون ملک نہایت خراب اشارے جا رہے ہیں۔ ہماری معیشت اس سے بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ انسانی جانوں کا ضیاع تو ناقابل تلافی نقصان ہے ہی جس کا کوئی مداوا حکومت یا متعلقہ اداروں کی طرف سے دی جانے والی مالی امداد کا اعلان نہیں کر سکتا، اس کا دوسرا تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ اس سے بیرون ملک ان کاروباری حلقوں میں جو پاکستان سے تجارت کرتے ہیں، پاکستان کی ساکھ بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ ہوٹل ریجنٹ جیسے بڑے ہوٹل میں آگ پر بروقت قابو نہ پانے کے واقعہ سے بڑے ہوٹلوں میں قیام کرنے والوں کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

یہاں یہ ذکر نا مناسب نہیں ہوگا کہ امریکہ یا یورپ کے دوسرے ممالک پاکستان کے کسی حصے میں واقع جس فیکٹری سے بھی مصنوعات تیار کراتے ہیں وہ آرڈر دینے سے پہلے ان فیکٹریوں کا خود معائنہ کرتے ہیں یا انٹرنیشنل شہرت کی حامل ان غیر ملکی کمپنیوں کے نمائندوں سے ان فیکٹریوں کا معائنہ کرانا ضروری سمجھتے ہیں کراچی ہو یا ملک کا کوئی دوسرا حصہ امریکہ یورپ اور چین کے لئے ایکسپورٹ کا مال تیار کرنے والی فیکٹریاں تو لازمی طور پر اس کی پابندی کرتی ہیں کہ ان فیکٹریوں میں آگ یا دوسری کسی ہنگامی صورت حال سے بروقت نمٹنے کے تمام انتظامات ہر وقت درست حالت میں رہیں۔ مگر ایسی چھوٹی فیکٹریاں جو گنجان آبادیوں میں سرکاری عمال اور با اثر سیاسی جماعتوں کی چشم پوشی سے کام کر رہی ہیں ان میں حفاظتی انتظامات کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہوتا ہے ان فیکٹریوں میں اور گنجان آبادیوں کے گوداموں میں آگ لگنے کے واقعات روز مرہ کا معمول بن کر رہ گیا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ صنعتی علاقوں سے متصل تجاوزات کے ذریعہ سرکاری سرپرستی میں گنجان رہائشی آبادیاں قائم ہیں جہاں شہری سہولیات کی عدم دستیابی نے ان انسانی بستیوں کو نت نئے امراض میں جکڑا ہوا ہے۔ یہاں آئے دن آگ لگنے کے واقعات رو نما ہوتے رہتے ہیں۔اب یہ بھی کوئی راز نہیں ہے کہ بعض بستیوں میں آگ سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے لگائی جاتی ہے اور بعض جگہوں پر انشورنس کلیم کا حصول بھی آگ لگانے کا سبب بنتا ہے۔

بڑے بڑے تجارتی مراکز صنعتی اداروں اور بڑے چھوٹے ہوٹلوں میں آگ یا کسی دوسری ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے انتظامات ناکافی ہیں مگرکچھ نہ کچھ ہوتے تو ہیں۔ مگر کراچی شہر جسے ہمہ اقسام کے زر پرستوں کی ہوس زر‘‘ نے بنیادی انسانی ضروریات جیسے پینے کے پانی اور نکاسی آب کے مکمل انتظامات کے بغیر بے ہنگم بلند عمارتوں کیجنگل میں تبدیل کرنے کی ٹھانی ہوئی ہے ۔ کا فوری طور پر تمام تجارتی مراکز فیکٹریوں، ہوٹلوں، گوداموں بشمول صنعتی علاقوں میں متصل تجاوزات کے ذریعے قائم ہونے والی گنجان آبادیوں کے ساتھ ساتھ شہر کے تمام علاقوں میں قائم فیکٹریوں اور ہاؤسنگ کمپلیکس کا عالمی معیار کے آزاد انجینئر سے معائنہ کرایا جائے کہ ان میں آگ پر قابو پانے کی تنصیبات نصب ہیں یا نہیں؟ اور کیا وہ ورکنگ کنڈیشن میں بھی ہیں؟ خصوصی طور پر جو بڑے بڑے رہائشی اور تجارتی کمپلیکس تعمیر ہو رہے ہیں ان کو پابند کیا جائے کہ وہ اپنے مکینوں کو پینے اور روزمرہ کے استعمال کے لئے پانی کی اور نکاسی آب کے انتظامات کے ساتھ آخری منزل تک رسائی رکھنے والے اونچائی کے حامل اسٹار کل کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ بدقسمتی سے اس وقت کراچی میں پانی کا جو شدید بحران ہے اس کا ایک سبب وہ بلند و بالا عمارتیں بھی ہیں جو ’’چمک‘‘ اور بااثر طاقت وروں کے اثر ورسوخ سے تمام شہریوں کا پانی اپنی تعمیر کردہ عمارتوں کے لئے استعمال کر لیتے ہیں اصل ذمہ داری تو سندھ حکومت کی ہے جس نے اپنے دور میں کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جگہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بنا کر اس شہر کے ساتھ ظلم عظیم کیا ہے۔ پینے کے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے بغیر اور نکاسی آب کے انتظامات کی ضمانت کے بغیر ’’چمک‘‘ اور سیاسی بنیادوں پر دھڑا دھڑ نت نئے تجارتی کمپلیکس اور فلک بوس عمارتوں کا جنگل آباد کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس کے ساتھ بلدیہ عظمیٰ نے بھی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے کہ اس کے پاس جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں جب تمام اختیارات اور وسائل موجود تھے تو انہوں نے ان بنیادی سہولیات کی طرف توجہنہیں دی۔

سابق میئر کراچی عبدالستار افغانی نے اپنے دور میں ہر ممکن کوشش کی تھی کہ ان عمارتوں کو کمرشل نہ ہونے دیں جن کی لیز رہائشی تھی۔ انہوں نے شرط رکھی تھی کہ وہ اس وقت تک کسی رہائشی عمارت کو کمرشل نہیں ہونے دیں گے جب تک اس کا مالک اس میں آباد ہونے والے مکینوں کی ضرورت کے مطابق پینے کے پانی کی فراہمی کی گارنٹی نقشہ پاس کرانے سے قبل نہیں دے دیتا۔ اس کی دو بڑی مثالیں ایم اے جناح روڈ پر مولوی مسافر خانہ کی جگہ تعمیر ہونے والا اقبال پلازہ اور ٹرام کمپنی کے ہیڈکوارٹر کی جگہ تعمیر ہونے والا گل رنگ پلازہ ہے۔ عبدالستار افغانی نے اپنے دور میں تمام تر دباؤ کے باوجود اس تعمیر کی تجدید کی اور نہ ہی کمرشل کمپلیکس تعمیر کرنے کی اجازت دی ان کے بعد یہ کام باآسانی ہو گیا میئر کراچی جناب وسیم اختر پر لازم ہے کہ وہ پارٹی کے دو سابق سربراہوں کی کراچی دشمن پالیسیوں کی تقلیدکی بجائے کراچی کو عروس البلاد بنانے والے سربراہوں کی تقلید کریں،جناب وسیم اختر کو اپنی پارٹی کے شہر کراچی کے سابق ناظم سے ان 256 ارب روپے کا حساب ضرور مانگنا چاہیے۔ جو ان کے اپنے مطابق کراچی میں خرچ کئے گئے تھے۔ ایسا تب ہی ممکن ہوگا جب وسیم اختر شہر کراچی کو ایم کیو ایم کا نہیں اس میں آباد تمام باسیوں کا شہر تسلیم کریں گے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -