عید میلاد النبیؐ کی تیاریاں عروج پر

عید میلاد النبیؐ کی تیاریاں عروج پر

  

لاہور سے چودھری خادم حسین

لاہور میں اس ہفتے کے دوران سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کی تقریبات رہیں جو 30 نومبر سے شروع ہوکر گزشتہ روز اختتام پذیر ہوئیں۔ اس کے علاوہ پاک سرزمین پارٹی کے مصطفی کمال کی لاہور آمد، مختلف رہنماؤں سے ملاقاتیں اور باتیں ہوئیں۔ انہوں نے لاہور پریس کلب کے پروگرام ’’میٹ دی پریس‘‘ میں بھی شرکت کی اور لاہور ہائی کورٹ بار بھی گئے اس کے علاوہ لاہور روایتی طور پر آمد رسولؐ کے حوالے سے تیاریوں میں مصروف نظر آیا اور اب یہاں رنگ عید میلاد النبیؐ کا ہی ہے۔

جہاں تک پیپلز پارٹی کے یوم تاسیس کی تقریبات کا تعلق ہے تو ان کیلئے بلاول ہاؤس (بحریہ ٹاؤن) کو مرکز بنایا گیا تھا اور تقریبات کو ایک ہفتے تک اس طرح پھیلایا گیا کہ یوم تاسیس کی افتتاحی تقریب کے بعد چاروں صوبوں کے ورکرز کنونشن منعقد ہوئے اور گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو بھی صوبائی حیثیت دی گئی یوں ہر روز ایک صوبائی کنونشن ہوا۔ گزشتہ روز اختتامی طور پر پنجاب کا کنونشن تھا جو ان تقریبات کا میزبان بھی تھا۔ بلاول بھٹو زرداری اور ان کی دونوں بہنوں بختاور بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری نے لاہور میں قیام کیا اور تمام تقریبات میں شرکت کی۔

بلاول نے اس 49 ویں یوم تاسیس کو پیپلز پارٹی کی احیاء نو کا ذریعہ بنالیا اور اس سے پہلے تمام تنظیم نو کرلی تھی چنانچہ یوم تاسیس میں شرکت کیلئے پورے ملک سے عہدیدار اور کارکن آئے ان میں سے بیشتر نے ایک ہفتے تک یہیں قیام کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے ترقی پسندانہ پروگرام کے احیاء کا نعرہ بھی لگایا ور حکومت پر سخت تنقید بھی کی۔ ان کی تقریروں میں مجموعی طور پر چار مطالبات کی منظوری پر ہی زور دیا گیا اور یہ کہا گیا کہ یہ مطالبات 27 دسمبر تک مان لئے جائیں دوسری صورت میں 27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی برسی ہوگی اور اسی روز نوڈیرو میں پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوگا تو اس میں حکومت مخالف تحریک کا فیصلہ کرلیا جائے گا۔ بلاول مسلسل جذباتی تقریریں کرتے رہے اور اعلان کیا کہ وہ قومی اسمبلی کا ضمنی انتخاب لڑیں گے۔ اس کا فیصلہ بھی مجلس عاملہ ہی کرے گی اور فیصلہ ہوگیا تو وہ اپنی والدہ کی آبائی نشست این اے 207 سے انتخاب لڑیں گے پھوپھو فریال تالپور استعفیٰ دیں گی۔ اگرچہ لاڑکانہ شہر والی نشست این اے 205 سے ایاز سومرو اپنی نشست کی بھی پیشکش کرچکے ہوئے ہیں۔ بلاول نے یہاں یہ بھی اعلان کیا کہ وہ 2018ء کا انتخاب جیت کر وزیراعظم بنیں گے۔

بلاول کی کوشش کامیاب ہوتی نظر آئی اگرچہ ابھی کافی سفر باقی ہے تاہم کنونشنوں میں روایتی جوش و خروش پیدا ہوگیاہے اور سب انکل بھی مکمل بیعت کرچکے ہیں اگرچہ کارکنوں کے بعض انکل حضرات کے بارے میں اپنے تحفظات بھی ظاہر کردیئے ہیں بہرحال پیپلز پارٹی کی احیاء کیلئے پالیسی بھی بہتر اور یہ تقریبات بھی اچھی ثابت ہوئی ہیں۔ مستقبل کا اندازہ آگے چل کر ہوگا اگلا امتحان 27 دسمبر کو گڑھی خدا بخش اور اس موقع پر مستقبل کے پروگرام کا ہوگا۔

پاک سرزمین پارٹی کے مصطفی کمال نے بھی پھر سے اپنی سرگرمیوں میں بہتری پیدا کی ہے وہ لاہور آئے اور یہاں مصروف دن گزارا ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما جہانگیر بدر کے گھر گئے اور ان کی وفات پر اہل خانہ سے تعزیت کی۔ مزار حضرت داتا گنج بخشؒ پر حاضری اور لاہور پریس کلب آئے جہاں ’’میٹ دی پریس‘‘ پروگرام میں شرکت کی اور اراکین پریس کلب کے سوالات کے بھی جواب دیئے۔ انہوں نے یہاں بتایا کہ وہ اپنی جماعت کو وسعت دے رہے ہیں اور پنجاب کے شہروں میں بھی جماعت کے دفتر بنائیں گے۔ جب وہ لاہور ائے تو بنکاک (تھائی لینڈ) میں سانحہ بلدیہ کراچی کے مرکزی ملزم رحمان(بھولا) کی گرفتاری عمل میں آچکی تھی اور اس کا تعلق ایم کیو ایم سے ہے۔ الزام یہ ہے کہ وہ بھتہ وصول کرتا تھا اور مبینہ طور پر آٹھ کروڑ روپے کے مطالبہ پر معاملہ طے نہ ہوا تو فیکٹری کو آگ لگا دی جس کے نتیجے میں بہت بڑا سانحہ پیش آیا اور سینکڑوں محنت کش آگ سے جھلس کر جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ مصطفی کمال سے بھی سوال ہوا تو انہوں نے اپنی جماعت کے ساتھ تعلق سے انکار کیا البتہ یہ تسلیم کیا کہ ملزم ایم کیو ایم کا سیکٹر کمانڈر تھا۔

ان سرگرمیوں کے علاوہ باقی سب معمول تھا اور شہری روزمرہ کے مسائل کا شکار ہیں تاہم عید میلادالنبیؐ کی آمد آمد کے باعث ان کے اندر ایک نیا جذبہ اور جوش پیدا ہوچکا ہے، شہر میں ابھی سے روشنیاں لگ گئیں۔ گھروں‘ مساجد اور عمارتوں کو سجایا جا رہا ہے۔ عید میلادؐ کے حوالے سے جلوسوں کی بھی ابتدا ہوگئی ہے۔ آج ربیع الاول کی 7 تاریخ ہے اور یوں مرکزی دن میں پانچ روز باقی ہیں لیکن جذبہ عروج پر ہے۔ محفل میلادؐ کا سلسلہ تو پورا مہینہ اور اس کے بعد تک جاری رہے گا تاہم اتوار اور سوموار کے دن رونق اور خراج عقیدت رسول اکرمؐ عروج پر ہوگا۔ مجموعی طور پر محافل درود و سلام جاری ہیں۔

اس ہفتے کے دوران وزیراعظم محمد نواز شریف اور نئے چیف آف آرمی سٹاف دونوں لاہور آئے اور خاموشی سے اپنا وقت گزار کر واپس اسلام آباد گئے۔ وزیراعظم جاتی عمرہ میں دو روز مقیم رہے اور ذاتی سرگرمیوں میں وقت گزارا، والدہ کے پاس بھی رہے جبکہ چیف آف آرمی سٹاف ایک روز کیلئے آئے اور یہاں اپنا مقررہ پروگرام پورا کرکے واپس گئے۔ اب عوام کی پوری توجہ عید میلادالنبیؐ پر ہے۔

مزید :

ایڈیشن 1 -