سیاسی اقتدار کے لئے علاقائیت کا نعرہ، مسلم لیگ (ن) نے لگایا تھا، اب بلاول نے لگادیا

سیاسی اقتدار کے لئے علاقائیت کا نعرہ، مسلم لیگ (ن) نے لگایا تھا، اب بلاول نے ...

  

ملتان سے شوکت اشفاق

آج 2016 میں بھی جب دنیا میں ان گنت معاشرتی، معاشی اور سیاسی تبدیلیاں آچکی ہیں لگتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا سیاستدان آج بھی 30 سے 40 سال پہلے کی سطح پر کھڑا ہے اور اسی سوچ اور نعرے کے ساتھ عوام کو مسلسل ’’چکمہ‘‘ دیتے جا رہے ہیں۔ اپنے آپ کو قومی سیاسی جماعت قرار دینے والے نہ صرف علاقائی تعصب کی دلدل سے باہر نہیں نکل پا رہے ہیں بلکہ صوبائی اور علاقائی نفرت کے مزید بیج بوئے جا رہے ہیں جو ہماری ثقافتی، معاشرتی، سیاسی اور معاشی سرگرمیوں کو گھن کی طرح چاٹ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہمیں سڑکیں بنانے کے لئے بھی دوسرے ممالک پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے جو ہماری معاشی ترقی اور زوال کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اگر ماضی پر نظر دوڑائیں تو 1988 میں ہونے والے عام انتخابات میں اس وقت کی مسلم لیگ نے پنجاب میں پیپلز پارٹی کو سیاسی شکست دینے کے لئے ’’جاگ پنجابی جاگ، تیری پگ نوں لگ گیا داغ‘‘ کا نعرہ محض اس لئے لگایا تھا کہ اس وقت پیپلز پارٹی اپنے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور جنرل ضیاء الحق کے طویل مارشل لاء کے بعد پہلی دفعہ عام انتخابات میں حصہ لے رہی تھی اور ان کی خواہش تھی کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کو ان انتخابات میں کیش کروا کر زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے مرکز اور صوبوں میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنائی جائے جس کے لئے اندرون سندھ جب پیپلز پارٹی کی قیادت دورے کرتی تھی تو پنجاب کے خلاف سیاسی زہر اگلا جاتا تھا۔اس وقت پارٹی کی قیادت بے نظیر بھٹو کر رہی تھیں لیکن جب وہ پنجاب، سرحد (خیبر پختون خوا) اوربلوچستان میں سیاسی جلسے کرتی تھیں تو ان کی زبان یکسر تبدیل ہو جاتی تھی جس سے یہ تاثر ابھر رہا تھا کہ پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی میں صوبہ پنجاب اور اس میں بسنے والے لوگوں کا زیادہ کردار ہے۔

دوسری طرف مسلم لیگ کے اکابرین کو کسی بہت ہی ’’ذہین اور فطین‘‘ نے اس مشورے سے نواز دیا کہ وہ چونکہ سندھ میں جا کر براہ راست پیپلز پارٹی اور اس کی قیادت کے خلاف بات نہیں کر سکتے اس لئے پنجاب کے اندر پیپلز پارٹی کی مخالفت اس طرح کی جائے اور پنجاب کے عوام کو یقین دلا دیا جائے کہ پیپلز پارٹی اس سے مخلص نہیں ہے وہ اپنے بانی کی پھانسی کا انتقام لینا چاہتی ہے بد قسمتی سے پیپلز پارٹی اندرون سندھ اپنے سیاسی جلسوں میں یہ باتیں کرتی بھی رہی تھی۔ جس پر ’’جاگ پنجابی جاگ‘‘ کا سلوگن کھڑا کر کے پیپلز پارٹی کو کم از کم پنجاب میں حکومت قائم کرنے سے روک دیا اور اس وقت پیپلز پارٹی وفاق میں تو اقتدار حاصل کر سکی مگر پنجاب ان کے ہاتھ سے نکل گیا اور جو آج تک ان کے ہاتھ نہیں آسکا۔ 1988 سے آج تک بہت سارے سیاسی مرحلے گزر چکے، محترمہ بے نظیر بھٹو قتل کر دی گئیں قبل ازیں میر مرتضیٰ بھٹو کو دن دھاڑے کراچی میں اس وقت قتل کر دیا گیا جب ان کی بہن وفاق میں صاحب اقتدار اور وزیر اعظم تھیں۔

سیاسی محاذ آرائی، پیپلز پارٹی اور اس کے بعد بننے والی مسلم لیگ نواز گروپ میں اقتدار کے حصول کی رسہ کشی چلتی رہی 88ء سے 99ء تک دونوں دو دو مرتبہ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب رہے لیکن 1999ء میں جنرل مشرف نے دونوں سیاسی پارٹیوں کی باہمی چپقلش اور اس وقت کے وزیر اعظم کے ایک غلط فیصلے پر نہ صرف ان کی حکومت ختم کر کے مارشل لاء کا نفاذ کر دیا بلکہ بعد ازاں نواز شریف کو اپنے خاندان سمیت ملک بدر ہونا پڑا، تاہم حالات سدا ایک جیسے نہیں رہتے۔ یہ بات بالکل درست ہے جنرل مشرف کے اقتدار کے کافی عرصے بعد ایک ’’بہی خواہ‘‘ نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی قیادت کو ایک ٹیبل پر لا بٹھایا اور یوں تین دھائیوں سے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار دونوں متحارب سیاسی جماعتوں نے ’’میثاق جمہوریت‘‘ تشکیل دے کر نہ صرف پاکستانی عوام بلکہ اسٹیبلشمنٹ کو بھی حیران و پریشان کر دیا۔ یہ اسی کا نتیجہ تھا شاید کہ بے نظیر بھٹو کو عام انتخابات کی مہم کے سلسلہ میں راولپنڈی کے اندر جلسہ عام کے بعد گولی مار کر قتل کر دیا گیا تاہم ’’میثاق جمہوریت‘‘ کی موجودگی اور اس پر عمل درآمد کی خواہش پر پیپلز پارٹی کو وفاق میں اقتدار تو مل گیا مگر پنجاب پھر مسلم لیگ ن کے پاس ہی رہا، کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ میثاق کا حصہ تھا۔ اب 2013 کے انتخابات کے نتیجہ میں اقتدار مسلم لیگ ن کو پنجاب سمیت مل گیا ہے یعنی کہنے والوں کی بات کو پہلے تسلیم کر لیا جائے کیونکہ اس دوران پیپلز پارٹی کی حکومت اور مسلم لیگ کی حکومت نے فرینڈلی اپوزیشن کا کردار اپنائے رکھا۔

اب اچانک پیپلز پارٹی کا سیاسی مزاج تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور جس قسم کے سلوگن اور نعروں کی سیاست سے جان چھڑوا کر محترمہ بے نظیر بھٹو نے جان دی تھی اب اس کا بیٹا وہی کچھ دوبارہ کرنے جا رہا ہے۔ 1988 میں میاں نواز شریف کے پیچھے تو ’’ذہین و فطین‘‘ حسین حقانی تھا اب محترمہ بے نظیر بھٹو کے بیٹے کے پیچھے کون ’’ذہین و فطین‘‘ کار فرما ہے جس نے لاہور میں منائے جانے والے یوم تاسیس کی تقریب میں ’’جاگ پنجاب جاگ، پاکستان جل رہا ہے‘‘ کا نعرہ لگوا دیا ہے اور یہ کون سی سیاسی چال ہے جو ایک مرتبہ پھر صوبائیت اور علاقائیت کو مزید ہوا دینے کیلئے چلی جا رہی ہے اور کیا بلاول زرداری یہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھٹو کا نام لگا کر کئی دھائیوں سے لگی اس آگ کو بجھانے کی کوشش کریں گے یا پھر اس جلتی پر تیل ڈالیں گے اور کیا انہیں احساس ہے کہ اس قسم کی لگنے والی آگ سب کو جلا کر بھسم کر دیا کرتی ہے اس لئے نوجوان بلاول بھٹو زرداری کے لئے ضروری ہے کہ وہ ’’میثاق جمہوریت‘‘ والی مثبت سیاست کی طرف توجہ دیں، اب وہ اس پر توجہ دیتے ہیں کہ نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔

دوسری طرف پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہوئے ایک سال کا عرصہ ہو گیا ہے لیکن ابھی تک ان اداروں کے سربراہوں کا چناؤ ممکن نہیں ہو سکا اب اس میں مسلم لیگ ن کی کیا سیاسی حکومت عملی ہے یہ وہ خود ہی بتا سکتے ہیں لیکن ایک بات پکی ہے کہ لیگی قیادت کے زور لگانے کے باوجود پارٹی کے اندر بلدیاتی اداروں کی سربراہی کے حصول کے لئے بڑی شدید قسم کی دھڑے بندی موجود ہے جس کا مظاہرہ مخصوص نشستوں کے انتخابات میں بھی دیکھنے میں آیا مگر لیگی قیادت کو شاید اپنے احکامات پر بہت زیادہ بھروسہ ہے اس لئے وہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے دوسری طرف ناظمین اور کونسلرز ایک سال گزرنے کے باوجود بلدیاتی اداروں کی بحالی نہ کرنے اور منتخب افراد کو اختیارات نہ دینے پر اب احتجاج کا راستہ اختیار کر رہے ہیں اس سلسلہ میں ملتان سمیت مختلف شہروں میں منتخب ناظمین اور کونسلرز حضرات نے حکومت کے خلاف احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ بلدیاتی اداروں کو فوراً فعال کر کے ان کے سربراہ مقرر کیے جائیں تاکہ وہ لوگ جن سے ووٹ لے کر آئے ہیں ان کے چھوٹے چھوٹے کام کر کے انہیں مطمئن کر سکیں۔ جبکہ دوسری طرف مسلم لیگ ن کے عہدیداروں پر مشتمل گروپ اپنے طور پر مختلف منتخب ناظمین کو میئر، ڈپٹی اور چیئر مین ضلع کونسل نامزد بھی کر رہے ہیں جبکہ کچھ سیاسی دھڑے ناظمین کو ساتھ ملا کر اپنا گروپ مضبوط کر رہے ہیں لیکن اب یہ کب ہوتا ہے اس کا وقت آنے پر ہی معلوم ہو گا مگر ملتان کے ناظمین اور کونسلرز نے 11 دسمبرکے بعد حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کر دیا ہے اب دیکھیں یہ کیا کرتے ہیں تاہم یہ کچھ کریں یا نہ کریں لیکن انتظامی سرکاری ملازمین منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دے کر راضی نظر نہیں آرہے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ ان دفاتر سے قیمتی اشیاء غائب کر رہے ہیں جو ان بلدیاتی اداروں کے پاس جاتی ہیں جبکہ ملازمین کی غیر قانونی بھرتیاں بھی کی جا رہی ہیں گاڑیوں کو کنڈم کیا جا رہا ہے فرنیچر غائب ہو رہا ہے جبکہ فنڈز کو دھڑا دھڑ بے دریغ خرچ کیا جا رہا ہے ایسی صورت میں بلدیاتی اداروں کے ساتھ کیا ہو گا یہ تو آنے والا وقت ہی بتا سکے گا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -