شہر کے بچوں کی خیر

شہر کے بچوں کی خیر
 شہر کے بچوں کی خیر

  

لڑکوں بالوں کو شوق ہے، وہ چھتیں پھلانگنا چاہتے ہیں، گڈے چڑھانا چاہتے ہیں، بہت برسوں سے پابندی ہے، اس وقت سے جب پرویز مشرف ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہوا کرتے تھے اور شہنشاہ معظم نے پنجاب کے وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب میں بسنت کا تہوار منانے کا حکم دیا تھا، وہ خود بھی لاہور تشریف لائے تھے لیکن چونکہ وہ ایک سویلین صدر نہیں تھے لہذا جہاں انہوں نے بسنت منائی تھی وہاں میڈیا پر بھی نہیں مار سکا تھا بلکہ یاد ش بخیر اس علاقے تک میں داخل نہیں ہو سکا تھا۔ اس بسنت نے ہمارے بہت سارے بچوں کی جان لی تھی، مجھے یاد آ رہا ہے کہ ہم جی او آر میں نئے بنے ہوئے چیف منسٹر سیکرٹریٹ میں موجود تھے، وہاں چہروں سے ہی غریب، مظلوم اور لاچار نظر آنے والے مردوں اور عورتوں کے بہت سارے چہرے تھے جن پر آنسو بہہ رہے تھے۔کہنے والے کہہ سکتے ہیں کہ صوبے کے حاکم سے ملتے ہوئے رونے کی کوئی تُک نہیں اور چودھری پرویز الٰہی انہیں لاکھوں روپوں کے چیک تھما رہے تھے اور وہ واپس کر رہے تھے۔ آپ اس پر بھی حیران ہوں گے کہ یہاں تو لوگ چند سو روپوں کے لئے ایک دوسرے کے گلے کاٹ دیتے ہیں، وہ لاکھوں روپے لیتے ہوئے رو رہے تھے ، انہیں واپس کر رہے تھے، وہ کہہ رہے تھے کہ یہ روپے ان کے ان بچوں کی قیمت کے طو ر پر دئیے جا رہے ہیں جو شہنشاہ معظم کے عیاشی کے شوق کی وجہ سے مارے گئے، کسی کا گلا ڈور سے کٹا اور کوئی گھر کی چھت سے گرا، کسی کو پتنگ لوٹتے ہوئے گاڑی نے کچلا اور کسی کو کرنٹ نے زندگی سے محروم کر دیا۔ وہ روہے تھے کہ بھلا اپنے بچوں کی جان کی قیمت بھی لی جا سکتی ہے، وہ کہہ رہے تھے چودھری صاحب آپ یہ چیک واپس رکھ لیں مگر ہمارے بچے ہمیں واپس کر دیں ۔

پتنگ بازوں کے شوق پر کیا تبصرہ کیا جائے مگر پتنگ سازوں کے اپنے رونے ہیں، وہ روتے ہیں کہ گڈیاں پتنگیں بناتے تھے، ڈوریں لگاتے تھے تو سیزن لگا لیا کرتے تھے، اس دھندے سے ہی گھر کے چولہے جلتے تھے، میں بھی ان کی اسی آہ وزاری سے متاثر ہوا اور ان کے ساتھ ایک ریکارڈنگ رکھ ڈالی۔ اس نشست کے جواب میں مجھے لاہور کے علاقے گارڈن ٹاون سے ایک خط موصول ہوا، اس خط کے ساتھ نصف درجن کے قریب تصویریں بھی تھیں جن میں مجھ سے بھی اونچا لمبا اور بہت ہی خوبصورت نوجوان اپنی فیملی کے ساتھ کھڑا تھا، یہ خط اس کی ماں کی طرف سے تھا، دوسری تصویر کسی جگہ موٹر سائیکل کے گرے ہونے اور وہاں خون بکھرے ہونے کی تھی، تیسری تصویر میں لوگ رو رہے تھے، چوتھی تصویر نماز جنازہ کی تھی اور پانچویں تصویر میں ایک قبر کی تھی جس کی تازہ مٹی پرلا ل رنگ کے پھولوں کی بھرمار تھی، اس ماں نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا میں اس کا بیٹا اسے لوٹا سکتا ہوں جو موٹرسائیکل چلاتے ہوئے گلے پر ڈور پھرنے سے جاں بحق ہو گیا، بھلا میں اس ماں کا بیٹاکہاں سے لوٹا سکتا تھا، میرے پاس تو اس خط کا جواب دینے کے لئے بھی الفاظ نہ تھے۔ بہت سارے دوست یہ کہتے ہیں کہ یہ تو حادثات ہیں جو سڑکوں پر ہوتے ہی رہتے ہیں تو کیا اب سڑکیں ہی بند کر دی جائیں، میں ان کی بات سے دو بنیادوں پر عدم اتفاق کرتا ہوں ، پہلا یہ کہ سڑکوں پر ٹریفک کی موجودگی ایک ضرورت ہے، یہ کوئی کھیل یا عیاشی نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ آپ کو ٹریفک حادثے میں اس گاڑی کا نمبر اور ڈرائیور کا علم ہو سکتا ہے جو کسی کی جان لے رہا ہو مگر آپ اس پتنگ باز سجناں کو نہیں پکڑ سکتے جس کی گڈی کٹ گئی اوراس کی کٹی ہوئی ڈور کسی کے گلے پر پھر گئی۔مجھے دوستوں کی ضد کا علم ہے، وہ معاشی سرگرمیوں میں اضافے اور پاکستان کے سافٹ امیج کی بحالی کی بات کرتے ہیں ، مجھے کہنا ہے کہ کیا کسی ایسی معاشی سرگرمی کی اجازت دی جا سکتی ہے جس سے کسی دوسرے کی زندگی متاثر ہو رہی ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ایک ، دو روز ہی کی تو بات ہوتی ہے کہ بسنت نائیٹ ہو اور پھر اگلے روز بسنت منا لی جائے اور میرا جواب یہ ہے کہ جب آپ کے گھر ڈور اور گڈی موجود ہو گی تو پھر آپ کسی طور بھی ایک دن کی پابندی کو قبول نہیں کریں گے۔مجھے ایک خبر یاد آ گئی، ایک شخص کا گلا لوگوں کو فروری کی یخ بستہ صبح فجر کی نماز پڑھنے کے لئے جاتے ہوئے کامرس کالج علامہ اقبال ٹاون کے سامنے سڑک پر کٹا ہوا ملا، وہ موٹر سائیکل پرجا رہا تھا او رکوئی ٹھندی ٹھار رات کو بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے پتنگ بازی کر رہا تھاکہ کٹی ہوئی آوار ہ ڈور نے ایک عورت کو بیوہ اوراس کے بچوں کو یتیم کر ڈالا۔

لاہور شہر نے آخری بسنت اس وقت منائی تھی جب سلمان تاثیر مرحوم گورنر راج کے تمام تر اختیارات کے ساتھ گورنر ہاوس میں موجود تھے، یہ وہ دن تھاجب میاں محمد نواز شریف وکلاء سے اظہار یک جہتی کرتے ہوئے عدلیہ کی بحالی کے لئے لانگ مارچ کر نے اپنے گھر سے نکلے تھے۔ خیال تھا کہ لاہوری زندہ دل ہیں وہ اپنی اپنی چھتوں پر گڈیاں چڑھائیں گے اور لانگ مارچ پولیس کے ساتھ ساتھ اس بسنتی حکمت عملی سے ناکام بنا دیا جائے گا مگرمیں نے دیکھا کہ اچھرے اور مزنگ جیسے علاقوں سے بھی لاہوری ہزاروں کی تعداد میں باہر نکل آئے تھے۔ اس بسنت کے موقعے پر موٹرسائیکلوں کے لئے مفت راڈ فراہم کئے گئے تھے تاکہ موٹرسائیکل سواروں کا گلا نہ کٹ سکے۔ اب معاملہ یہ ہے کہ بسنت منانے کے لئے یہ پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے کہ اگر اندرون لاہور بسنت منائی جا رہی ہے تو وہاں موٹرسائیکل ہی نہ چلانے دی جائے یعنی سگ آزاد ہوں اور شہریوں کے نکلنے پر پابندی ہو۔ بسنت پتنگ بازی کے ساتھ ساتھ ہلے گلے کا بھی نام ہے ، شراب کی فروخت بھی بڑھ جاتی ہے ، ہوائی فائرنگ بھی کی جاتی ہے اور گلی محلوں میں اوباش دوسروں کی چھتوں اور ورانڈوں پردوسروں کی بہو بیٹییوں پر بھی نظریں جمائے رہتے ہیں اور اس مرتبہ تو سونے پر سہاگہ چودہ فروری کو بسنت منانے کی تجویز ہے ، چودہ فروری کو عاشقوں کے دن کے طور پر منایا جاتاہے یعنی اس مرتبہ بسنت کا بے شرمی اور بے حیائی کا رنگ چوکھا آئے گا، یہ الگ بات کہ چودہ فروری کو منگل کا دن ہو گا جبکہ عمومی طور بسنتیں اتوار کے روز منائی جاتی رہی ہیں۔دلیل ہے کہ محفوظ بسنت منائی جا سکتی ہے، قانون حفاطتی انتظامات کو موثر بنانے کے لئے ایک ڈسٹرکٹ کائیٹ فلائینگ ایسوسی ایشن قائم کرتا ہے، پتنگوں اور گڈوں کے سائز کا تعین کرتا ہے، ڈور کی موٹائی بارے بھی ہدایات دیتا ہے، یوں لگ رہا ہے کہ پنجاب حکومت نے اس برس لاہو ر میں بسنت منانے کی اجازت دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بسنت کا مہینہ فروری آنے سے بہت پہلے ایک کمیٹی قائم کی گئی، اس کمیٹی نے تجاویز مرتب کیں اور سفارشات وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو بھیج دی ہیں۔ رانا مشہود غلط نہیں کہتے کہ چودہ فروری کو بسنت منائی جائے گی کہ آخر کمیٹی قائم ہی اس لئے کی گئی تھی اور زعیم قادری کی بات بھی درست ہے کہ ابھی اجازت نہیں دی گئی کہ حتمی اجازت دینے کا اختیار وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے پاس ہے۔

بسنت عیاشوں کا شوق ہے تو عیاشی پر باپ دادا کی کمائی ہی نہیں بلکہ دوسروں کی عزتیں اور جانیں تک قربان کی جا سکتی ہیں ۔ ہم تو دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اے ہمارے رب، بسنت منانے والوں اور نہ منانے والوں دونوں کے بچوں کے گلوں کو خونی ڈور سے محفوظ رکھنا، انہیں کرنٹ لگنے ، چھتوں سے گر کر اور سڑکوں پر کچل کر بے موت مارے جانے سے بھی محفوظ رکھنا۔ہوائی فائرنگ کی روک تھام اور شراب پی کر مستی کرنے والوں کے شر سے بچنے کے لئے بھی دعا ہی کی جا سکتی ہے ۔ آپ کو یہی مشورہ دیا جا سکتا ہے کہ طوفان بدتمیزی برپا ہونے جا رہا ہے، آپ اپنے بچوں کو گھروں میں بند رکھیں، اپنی بہنوں ، بیٹیوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنے چہرے اپنے دوپٹوں میں چھپا لیں کہ دہشت گردی میں بہنے والے خون نے ہمارے سافٹ امیج کو خراب کیا ہے اور اب ہم اپنے بچوں اور جوانوں کے نئے تازہ بہتے ہوئے لہو سے اپنے اس بگڑے ہوئے امیج کو ایک نیا رنگ دینا چاہتے ہیں۔۔۔ ہم کتنے عقل مند ہیں!!!

مزید :

کالم -