جھنگوی عوام کی عدالت میں

جھنگوی عوام کی عدالت میں
 جھنگوی عوام کی عدالت میں

  

پیپلز پارٹی کے نوجوان چیئر مین بلاول بھٹو زرداری سمیت بعض سیاسی شخصیات کی تنقید کی وجہ سے ضلع جھنگ جو کبھی حق نواز جھنگوی اور مولانا لدھیانوی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور تھا اب حق نواز جھنگوی کے جانشین نو منتخب ایم پی اے مسرور نواز جھنگوی کی وجہ سے دنیا بھر میں زیر بحث ہے واقعہ کچھ یوں ہے کہ چند روز قبل جھنگ میں ضمنی الیکشن کے نتیجہ میں مسرور نواز جھنگوی 48662 ووٹ لیکر ممبر پنجاب اسمبلی منتخب ہو گئے ہیں ان کے مد مقابل ن لیگ کا امیدوار 35469 ووٹ لیکر دوسرے پیپلز پارٹی کے امیدوار سرفراز ربانی 3671 ووٹ حاصل کر کے تیسرے جبکہ پی ٹی آئی کے امیدوار صرف 2821 ووٹ لے سکے اس ضمنی الیکشن میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی تھا کہ پاکستان عوامی تحریک کے امیدوار کو صرف چند سو ووٹ ملے حالانکہ علامہ ڈاکٹر طاہر القادری جھنگ سے تعلق رکھتے ہیں جھنگ ان کا آبائی علاقہ ہے یہ الگ بات ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری آج کل عالمی لیڈر ہیں اور پاکستان میں انقلاب لانے کیلئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ اس الیکشن میں انتخاب جیتنے والے امیدوار مسرور نواز جھنگوی پر اعتراض کرنے والے حضرات میں بعض بیرونی اور کچھ اندرونی ہیں۔ بیرونی میں سب سے زیادہ اعتراض امریکہ کے بعض اداروں کو ہے جبکہ اندرونی دوستوں میں پیپلز پارٹی کی قیادت اس مسئلہ کو اٹھا رہی ہے۔ میڈیا اس پر اپنے اپنے انداز میں بحث کر رہا ہے۔ کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ مسرور نواز جھنگوی کے جیتنے سے نیشنل ایکشن پلان تباہ و برباد ہو گیا ہے۔ بعض اکابرین کا خیال ہے کہ پنجاب حکومت نے یہ الیکشن منصوبہ بندی کے ساتھ مسرور نواز جھنگوی کو جتوایا ہے۔ میں کئی دنوں سے اس حوالے سے کالم پڑھ رہا ہوں ، ٹاک شوز دیکھ رہا ہوں اور تبصرے ، تجزیے سن رہا ہوں مجھے سمجھ نہیں آ سکی کہ جب پیپلز پارٹی نے جھنگ کے ضمنی الیکشن میں اپنے امیدوار کی کامیابی کیلئے بھرپور انتخابی مہم چلائی ، بلاول بھٹو زرداری سے لیکر آصف علی زرداری ، خورشید شاہ اور قمر زمان کائرہ تک میں سے کچھ نے حلقے میں جا کر اور کچھ پیغامات کے ذریعے بھرپور زور لگاتے رہے۔ سیاسی میدان میں مقابلہ ہوا ایک جیت گیا، ایک ہار گیا اب تنقید کیسی ۔ اسی طرح پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کا امیدوار اگر ہار گیا ہے تو اعتراض اور احتجاج کیوں۔

باقی جہاں تک ن لیگ کے امیدوار کے ہارنے کی بات ہے انتخابی نتائج وہ بھی تسلیم کر رہا ہے تو پھر اعتراض کس بات کا اور تنقید کس بات پر کی جا رہی ہے۔ ہاں اگر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا خیال ہے کہ ایک ایسا شخص انتخاب جیت گیا ہے جس نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اس کا تعلق ماضی میں سپاہ صحابہ سے رہا ہے تو اس پر اعتراض کرنے یا تنقید کرنے کی بجائے ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے۔ ریاست بوجوہ جن تنظیموں کو کالعدم قرار دے چکی یہ افراد ان کو چھوڑ کر نئے نام سے جہادی سرگرمیوں کی بجائے سیاسی سرگرمیاں شروع کر رہے ہیں اور وہ آج ملک میں تبدیلی بندوق کی بجائے ووٹ سے لانے کے جمہوری راستے پر گامزن ہیں تو ایسے افراد کیلئے ہمدردی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ووٹ سے تبدیلی کے جمہوری راستے کو روکا گیا تو پھر کچھ طبقات نے بندوق کا سہارا لیا ہمیں بندوق اور گولی کی زبان میں بات کرنے کے انداز کو بدل کر ایک بار پھر جمہوریت اور جمہوری سسٹم کی طرف واپس لوٹنے والوں کو کھلے دل کیساتھ قبول کرنا چاہیے۔ ایک طرف تو ہم بلوچستان میں عسکریت پسندوں کو بڑے بڑے پر کشش پیکیج دیکر ان کے ساتھ تصویریں بنواتے ہیں اور دوسری طرف کراچی میں سینکڑوں افراد کے قاتلوں کو راتوں رات ڈرائی کلین کرکے حب الوطنی کے سرٹیفکیٹ جاری کئے جا رہے ہیں ۔ پہلے آؤ پہلے پاؤ کی بنیاد پر جاری کئے جانیوالے ان سرٹیفکیٹس میں سے ایک سرٹیفکیٹس مولانا لدھیانوی اور ایک مسرور نواز جھنگوی کو بھی جاری کر ہی دینا چاہیے کیونکہ مولانا لدھیانوی کے بارے عوامی تاثر یہی ہے کہ جب سے انہوں نے ریاستی فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے جماعت اہلسنت و الجماعت کے پلیٹ فارم سے سیاسی اور جمہوری سرگرمیوں کا آغاز کیا ہے صورتحال بہت بہتر ہوئی ہے ۔ ریاست کے بڑوں کو بھی ایسے افراد کے بارے ہمدردانہ غور کرنا چاہیے جو جمہوری اور پارلیمانی نظام کا حصہ بن کر کردار ادا کرنا چاہتے ہیں ہمیں 2013ء کے انتخابات کا وہ وقت نہیں بھولنا چاہیے جب پیپلز پارٹی کی قیادت دہشت گردی کے خوف سے کسی جگہ جلسہ کرنے کی جرأت نہیں کرتی تھی آج اسی پیپلز پارٹی نے ضلع جھنگ کے ضمنی انتخابات میں نہ صرف آزادانہ طریقے سے انتخابی مہم چلائی اور جلسے کئے ہیں بلکہ پیپلز پارٹی کی قیادت شہلا رضا ، قمر زمان کائرہ اور دیگر رہنما کئی دن تک

حلقے میں موجود رہ کر جلسے بھی کرتے رہے ہیں اور دوران انتخابی مہم پیپلز پارٹی کے کسی رہنما نے دھونس دھاندلی حتیٰ کہ کسی طرح کی دھمکی کی بھی شکایت نہیں کی جب الیکشن ہو گیا نتیجہ کسی اور کے حق میں آ گیا تو پھر آپ کو دہشت گرد نظر آ گئے۔ نیشنل ایکشن پلان یاد آ گیا ہمیں پوائنٹ سکورنگ کی بجائے عوام کے ایشوز پر آنا چاہیے جس امیدوار کو ریاست پاکستان کے تمام ادارے انتخاب لڑنے کی اجازت دے رہے ہیں اس کے انتخاب جیتنے کے بعد ہم کو احتجاج کرنے کی بجائے اس کو کھلے دل سے مبارکباد پیش کرنی چاہیے۔ جھنگ کے الیکشن کے حوالے سے پیپلز پارٹی کی تنقید پر مجھے ایک دوست نے فون کر کے کہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب میں دہشت گردی کے خاتمے کی بات کرتی ہے اور سندھ میں خود دہشت گردی کو پروموٹ کرنے کا باعث بنتی ہے ۔ سندھ میں دہشت گردی اور کرپشن کا گٹھ جوڑ ریاست کیلئے الگ سے مسئلہ بنا ہوا ہے۔ ہماری مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو آخر ہو کیا گیا ہے۔سب کے پاس اپنے اپنے دہشت گرد ، اپنے اپنے شہید اور اپنے اپنے غازی ہیں اور اپنے اپنے ایجنڈے ہیں وہ وقت کب آئیگا جب ہماری سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا پاکستان کا ایجنڈا ہو گا ۔ میرے خیال میں ریاست کو دہشت گردی اور دہشت گردوں سے ضرور لڑنا چاہیے مگر پہلے اس بات کا فیصلہ میرٹ پر کرنا ہو گا کہ کون دہشت گرد ہے اور کون امن پسند شہری اور اس سے بھی بڑھ کر اس امر کا بھی غیر جانبدارانہ جائزہ لینا ہو گاکہ کون دہشت گردی اور تشدد کے راستے پر چلنا چاہتا ہے اور کون تشدد اور دہشت گردی کے راستے کی بجائے امن اور جمہوریت کے راستے پر چلنا چاہتا ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اگر اس باریک سے نقطے کو ہم نے نہ سمجھا تو حالات بہتر ہونے کی بجائے خراب ہونگے۔ ریاست کے فیصلے ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر یا جذباتیت کی بنیاد پر نہیں ہوتے بلکہ مستقبل کو سامنے رکھ کر انتہائی سوچ سمجھ کر ٹھنڈے دل کے ساتھ فیصلے کئے جاتے ہیں۔ حق نواز جھنگوی کے بیٹے اور مولانا لدھیانوی نے اپنے آپ کو اگر عوام کی عدالت میں پیش کیا ہے تو یہ خوش آئند ہے کیونکہ جمہوری معاشروں اور جمہوری ممالک میں فیصلے میدان جنگ میں نہیں بلکہ انتخابی میدانوں میں ہونے چاہئیں۔ یہی سوچ پاکستان کو لیکر آگے بڑھ سکتی ہے۔ اس سے بڑی تبدیلی کیا ہو سکتی ہے کہ آج مولانا لدھیانوی نے کہا ہے کہ فوج اور رینجرز کی وجہ سے جھنگ میں دھاندلی سے پاک انتخاب کا انعقاد ممکن ہوا ہے اور پہلی بار بغیر کسی خوف کے لوگوں نے ووٹ ڈالے ہیں۔ یعنی جن پر سب سے بڑا الزام تھا کہ وہ ملکی سلامتی کے اداروں اور ملکی سسٹم کو نہیں مانتے وہ اپنی کامیابی ان اداروں کے غیر جانبدار کردار کی مرہون منت سمجھتے ہیں۔

مزید :

کالم -