دنیا میں امن کے قیام برے پیش رفت سست روی کا شکار

دنیا میں امن کے قیام برے پیش رفت سست روی کا شکار

  

سٹاک ہوم (اے پی پی)امن پر تحقیق کے سویڈش ادارے سپری کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں اسلحے کی فروخت میں کمی واقع ہوئی ہے تاہم اس سے یہ نہیں سمجھا جانا چاہیے کہ دنیا امن کی جانب بڑھ رہی ہے۔جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق سپری کے محققین نے کہا ہے کہ دنیا بھر میں گزشتہ برس ہتھیاروں کی فروخت میں معمولی سی کمی آئی ہے اور 2014ء کے مقابلے میں یہ 0.6 کم ہے۔ اس جائزہ میں یہ واضح بھی کیا گیا ہے کہ2011ء سے اسلحے کی تجارت میں مسلسل کمی کا رجحان ہے۔ تاہم گزشتہ برس ہونے والی اس کمی کے باوجود دنیا میں امن کے قیام کی رفتار سست روی کا شکار ہے۔ ہتھیاروں کی تجارت میں کمی کے باوجود 2015ء میں سو بڑے اسلحہ ساز اداروں کی فروخت 370 ارب ڈالر کے برابر رہی۔امریکا میں موجود کمپنیاں ابھی بھی دنیا کی اسلحے کی منڈی پر چھائی ہوئی ہیں اور گزشتہ برس کے دوران دنیا بھر میں فروخت ہونے والے اسلحے کا 80 فیصد انہی اداروں کا تیار شدہ تھا، جس کی مالیت 209.7 ارب ڈالر بنتی ہے۔ یورپی کمپنیوں کے اسلحے کی فروخت 95.7 ارب ڈالر رہی۔ اس میں سب سے بڑا حصہ 6 فرانسیسی کمپنیوں کا تھا، جو تقریباً ساڑھے 21 ارب ڈالر بنتا ہے۔سپری کی رپورٹ کے مطابق 2015ء کے دوران تین جرمن کمپنیوں کے بنائے گئے اسلحے کی فروخت 2014ء4 کے مقابلے میں7.4 فیصد کے اضافے کے ساتھ 5.6 ارب ڈالر رہی۔ سویڈش کمپنی سیئب ہتھیاروں میں 19.8 فیصد اوربرطانوی بی اے ای سسٹمز کی ہتھیاروں کی فروخت میں 2.8 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ 2015 ء کے دوران گیارہ روسی اسلحہ ساز اداروں کی فروخت30.1 ارب ڈالر رہی۔ ایشیائی کمپنیوں کی بنائے گئے اسلحے کی فروخت بھی بڑھی ہے جبکہ اس فہرست میں چین کے اعداد وشمار شامل نہیں ہے۔

مزید :

عالمی منظر -