نواز شریف 2018ء میں جیل ، سعودی عرب یا نہ جانے کہاں ہونگے ، بلاول بھٹو ،عدلیہ نے یوسف رضا گیلانی جیسافیصلہ نہ دیا تو گو نواز گو ہو گا ؛ خورشید شاہ

نواز شریف 2018ء میں جیل ، سعودی عرب یا نہ جانے کہاں ہونگے ، بلاول بھٹو ،عدلیہ ...

  

 لاہور( نمائندہ خصوصی،مانیٹرنگ ڈیسک) چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پنجاب میں ضیاء الحق کی باقیات ابھی تک چل رہی ہیں، ہمیں ان شریفوں کو سمجھانا ہے کہ یہ ان کی آخری باری ہے۔ اگر عوام ساتھ دیں تو 2018ء میں نواز شریف کو خدا حافظ کہہ دیں گے، 2018ء کے بعد نواز شریف جیل میں ہونگے یا سعودی عرب میں یا پتہ نہیں کہاں ہونگے؟تاہم اس ملک پر کوئی شریف کہلانے والا راج نہیں کرے گا اب ہمیں ان شریفوں کی شکل نہیں دیکھنی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز بلاول ہاؤس لاہور میں پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس کے سلسلہ میں جاری تقریبات کے آخری روز وسطی پنجاب کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت نے اگر ہمارے چار آئینی مطالبات پر عمل درآمد نہ کیا تو 27 دسمبر سے لانگ مارچ کا اعلان اور دمام دم مست قلندر ہوگا۔ ہم حکومت کو دکھا دیں گے کہ عوام اور بھٹو کی طاقت کیا ہوتی ہے، ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے اور بلاول باہر آرہا ہے۔ بلاول بھٹو نے پیپلز پارٹی کے چھ ماہ کے شیڈول کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پہلے تین ماہ گو نواز گو اور اگلے تین ماہ الیکشن مہم چلائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ 27 دسمبر کے بعد لاہور میں رہ کر بھرپورسیاست کروں گا،ہم پنجاب پر جمہوری قبضہ کرنے آئے ہیں۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے حکومتی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے نعرے پر الیکشن لڑنے والوں نے بجلی کی قیمت دوگنی کر دی۔،ملک میں صنعتیں بند اور عوام بے روزگار ہو رہے ہیں، تخت رائیونڈ کی حکومت میں اقلیتوں اور عورتوں پرتشدد ہو رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ تخت رائیونڈ کی خارجہ پالیسی نے پاکستان کو دنیا میں تنہا کر دیا ہے، سٹیل سے میٹرو بنانے کے شوقین خاندان نے سکولوں کوچھت دی نہ استاد، ہسپتالوں پر بھی کوئی توجہ نہیں دی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کہاں گیا سستا تندور اور آشیانہ سکیم کا منصوبہ؟ عوام کے ساتھ اتنا بڑا دھوکا کیوں کیا گیا؟انہوں نے کہا کہ ملک کاہر بچہ ایک لاکھ ایک ہزار روپے کا مقروض ہے مگر تخت رائے ونڈ کی شاہ خرچیاں ختم نہیں ہو رہیں ۔ انہوں نے کہاکہ دنیا کے بڑے کرپشن سکینڈل نے وزیراعظم کو دبوچ رکھا ہے دنیا میں پاکستان بدنام ہو رہا ہے ، ہمارے وزیراعظم قطری شہزادے کے خط کے پیچھے چھپ رہے ہیں، بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ جب سے بینظیر بھٹوکا بیٹا عملی سیاست میں آیا ہے تو کیا سندھ یا پارٹی میں تبدیلی ہے یانہیں؟اور پارٹی میں تبدیلی آرہی ہے ، ہم جمہوری طریقے کواپناکر وزیراعظم کونکالیں گے۔ انہوں نے کہاکہ گو نواز گو کا نعرہ سندھ کی کسی گلی یا شہر سے نہیں میاں صاحب آپ کے گھر سے شروع ہوا ہے ۔بلاول بھٹو نے کہا کہ لاہوریوں نے ناکام اور شوباز شریفوں کو دکھادیاکہ پیپلزپارٹی زندہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے مل کر اس ملک کو جمہوریت دی، بے نظر بھٹو اورآصف زرداری پاکستان میں جمہوریت واپس لائے۔انہوں نے کہاکہ اگرپنجاب، سندھ اوربلوچستان دل کی دھڑکن سنٹرل پنجاب، گلگت بلتستان اور کشمیر میرا ساتھ دیگا تو ہم راج کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے جن کھیتوں کو آباد کیا ان کو شریفوں نے بنجر کر دیا ، کسان بدحال، ہسپتالوں میں بسترنہیں اور ڈاکٹرز ہڑتالوں پر ہیں ؟انہوں نے کہاکہ پاکستان کو امن کے راستے مضبوط بنانا ہے اور یہی ہماری خارجہ پالیسی ہو گی ۔،ہم ہنستے اور ناچتے ہوئے وزیر اعظم کو نکالیں گے اور پھر وہ واپس نہیں آئیں گے ۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ اپنے چار مطالبات کیلئے کمیٹی بناء وں گا جو ہمارے مطالبات لے کر آگے بڑھے گی ،بلاول بھٹو نے کہا کہ آصف زرداری ملک میں جمہوریت لے کر آئے لیکن پنجاب میں ابھی تک ضیا کی آمریت چل رہی ہے ہم نے شریفوں کو سمجھانا ہے کہ یہ آپ کی آخری باری ہے اور ہم نے آپ کا منہ مزید نہیں دیکھنا اگر عوام ساتھ دیں تو ہم میاں نواز شریف کو خدا حافظ کہہ دیں گے اور اس کے بعد وہ جیل میں ہوں گے یا سعودی عرب ، اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن یہ بات طے ہے کہ اب کوئی شریف ملک پر حکومت نہیں کرسکتا۔ول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ شریفوں کی خارجہ پالیسی نے ہمیں دنیا میں تنہا کردیا ، کرپشن کے سب سے بڑے سکینڈل نے وزیر اعظم کو دبوچ رکھا ہے۔دنیا میں جہاں بھی کسی پر یہ الزام لگا اس کا احتساب ہوا لیکن ہمارا وزیر اعظم قطری شہزادے کے خط کے پیچھے چھپ رہا ہے لیکن ہم جمہوری احتساب چاہتے ہیں۔

لاہور( نمائندہ خصوصی) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نواز شریف کی جیب میں مال مسروقہ پایا گیا اور اب انہوں نے ثابت کرنا ہے پیسے کہاں سے آئے ، عدلیہ نے یوسف رضا گیلانی جیسا فیصلہ نہ دیا تو گو نواز گو کانعرہ لگے گا۔آج پاکستان کا ہر طبقہ پریشان حال ہے لیکن پانامہ والا خاندان خوشحال ہے ‘ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا دعویٰ کر کے عوام سے جھوٹ بولا گیااور فراڈ کیا گیا ۔ ان خیالات کا اظہا ر انہوں نے گزشتہ روز بلاول ہاؤس لاہور میں پیپلز پارٹی کے 49ویں تاسیس کے موقع پر پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ سید خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جو کہتے تھے کہ پیپلز پارٹی ختم ہو گئی ہے وہ یہاں آ کر دیکھ لیں ،بلاول ہاؤس جیالوں کا گھر ہے یہ رائے ونڈ کا محل نہیں جہاں پر چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی۔ یہ بھٹواور اس کے پرستاروں کا گھر ہے، پیپلز پارٹی کا لاہور میں قائم ہونا ایک تاریخ ہے اور یہ لاہور والوں کے نصیب میں آئی ۔ انہوں نے کہا کہ میرا ایمان ہے کہ سیاست عبادت ہے اور عبادت میں جھوٹ اور منافقت حرام ہے ہماری قیادت سولی پر چڑھ گئی کسی کے آگے سر نہیں جھکایا ، کسی سے دھوکہ اور فریب نہیں کیا مگر آج اقتدار اور مفادات کی خاطر عوام سے جھوٹ بولا گیا او رمنافقت کی گئی ،آج جمہوریت کے رنگ میں ڈھل کر عوام سے جھوٹ بولا گیا کہ ہم پاکستان سے چھ مہینے میں لوڈ شیڈنگ ختم کر دیں گے لوڈ شیڈنگ تو ختم نہیں کی گئی البتہ بجلی کی قیمتوں کو دو گنا کر کے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ضرور ڈالا گیا۔ لوگوں سے کیسے کیسے ڈرامے کئے گئے او رکیمپ لگائے گئے سستی روٹی اور تنوروں کا اسٹیج لگایا گیا کہ ہم سستی روٹی دیں گے غریب کے بچے کو تعلیم دینے کے نام پر دانش سکول بنانے کا اعلان کیا گیا وہ کہاں ہیں ،غریب کو چھت دیں گے اور آشیانہ ہاؤسنگ سکیم کا اعلان کیا گیا وہ کہاں ہیں؟ آپ کے وعدے کہاں گئے آج پاکستان کا کسان دو وقت کی روٹی کا محتاج ہو گیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے دور میں خوشحال تھا جو موجودہ حکومت نے چھین لی آج صرف مزدورنہیں صنعتکار بھی پریشان ہے ، انڈسٹری بند ہو رہی ہے ہر طبقہ پریشان ہے لیکن اگر کوئی خوش ہے تو وہ ایک خاندان پانامہ والا خاندان خوش حال ہے جن کے ضامن کبھی لبنانی وزیر اعظم کبھی قطرہ شہزاد ہ بن جاتا ہے ہمارے لیڈر سولی پر چڑھ جاتے ہیں لیکن کبھی کسی کے سامنے جھکتے نہیں بھیک نہیں مانگتے ہم ملک میں بھٹو کا نظام لانا چاہتے ہیں اور بلاول بھٹو کی لیڈر شپ میں بھٹو اور بی بی کے خواب کو پورا کریں گے ۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی وسطی پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ نے کہا کہ جو کہتے تھے پیپلز پارٹی قصہ پارینہ بن گئی وہ یہاں آ کر دیکھ لیں اب شہبازشریف کی شوبازیاں ختم ہوجائیں گی پنجاب اب لاوارث نہیں رہاآپ کی سکھا شاہی ختم ہو جائے گی آپ کی کرپشن اور غنڈہ گردیوں کو روکیں گے ختم کریں گے ہم نے کارکنوں کو روک رکھا تھا لیکن اب ہم شو باز شریف کو بھگا کر دم لیں گے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قربانیاں اور شہادتیں پیپلز پارٹی دے اور لڈو کھانے رائے ونڈ کا دربارسامنے آجاتاہے ،اب ہم اور شہادتیں دینے کے لئے تیار نہیں ، حکمران کمیشن مافیا بن چکے ہیں ،شریف خاندان سیاست پاکستان میں کرتا ہے لیکن ذاتی مفادات کیلئے مخصوص امیر بین الاقوامی خاندانوں سے گٹھ جوڑ اور تعلق بناتے ہیں اور اپنے مفادات کیلئے یہ خاندان بھی ان کی مد د کو پہنچ جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے عوام کے ماتھے سے دھول صاف کر کے انہیں عزت دی اورکہا کہ طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں۔ ذوالفقا رعلی بھٹو نے پاکستان کی سیاست کو ایک نیا مزاج دیا اور اسے بڑے بڑے محلات کے ڈرائنگ رومز سے نکال کر چوکوں اور کھوکھے والے کے حوالے کیا ۔جب ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد بی بی شہید نے علم سنبھالا تو ہم نے پانچواں صول بھی وضع کیا ۔ ہم نے کہا کہ اسلام ہمارا دین ہے ، جمہوریت ہماری سیاست ہے ، سوشل ازم ہماری معیشت ہے ، طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں اور شہادت ہماری منزل ہے ۔ بتایا جائے تاریخ میں کس جماعت نے اتنی شہادتیں دی ہیں لیکن اب ہم اور شہادتیں دینے کو تیار نہیں ، ہم نے اپنے قائد کی جان کو تحفظ دینا ہے۔انہوں نے کہا کہ شریف خاندان 30سالوں سے بر سر اقتدار ہے لیکن آپ نے سرکاری سکولوں، ہسپتالوں کی حالت دیکھی ہے ۔ پاکستان بلکہ ایشیاء کی سیاست میں ایک نیا رنگ ڈھنگ آیا کہ چند خاندان ہیں یہ سلسلہ قطر میں ہے ، اردن میں ہے ، ہمارے حکمرانوں کے اماراتی شہزادوں اور سعودی عرب والوں سے ذاتی تعلقات ہیں۔2000ء میں نواز شریف کو لبنان کا امیر ترین وزیر اعظم بچانے آتا ہے ۔ آج جب پانامہ کیس سپریم کورٹ میں ہے تو ایک قطری شہزادہ آ گیا ہے ۔ یہ سیاست پاکستان میں کرتے ہیں لیکن ذاتی مفادات کے لئے مخصوص امیر سیاسی بین الاقوامی خاندانوں سے گٹھ جوڑ اور تعلقات بناتے ہیں۔یہ کس طرح پاکستان کے مفادات کا خیال رکھیں گے ۔جب حکمران قطری، چینی کمپنیوں سے معاہدے کرتے ہیں تو ایک اصول طے ہے کہ اس پر پیپرا قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا ۔ قانون میں موجود اس سقم کا شریف خاندان پورا پورا ناجائز فائدہ اٹھا رہا ہے ۔ دوسرے ممالک او ران کی کمپنیوں کو من پسند نرخوں پر ٹھیکوں دو تاکہ ان میں زیادہ کمیشن ملے بڑا ٹانکالگے ۔ ایل این جی میں ٹانکا، نندی پور ، میٹرو بس میں ٹانکا لگا یا گیا ۔ ہم میٹرو کے خلاف نہیں لیکن جو امرتسر اور احمد آباد میں بنی ہے لاہور میں بننے والی میٹرو ان سے آٹھ گنا زائد قیمت پر بنائی گئی ۔ حکمران کمیشن مافیا بن گئے ہیں ۔ یہ تمام خاندان سہولت کیلئے مدد دینے پہنچ جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دو ممالک کے وزائے اعظم کے درمیان دوستی ہونی چاہیے لیکن کیا وجہ ہے کہ جب بھارتی نیوی کے حاضر سروس کرنل کو جاسوسی کرتے ہوئے پکڑا جاتا ہے تو نواز شریف کی زبان پر اس کا نام نہیں آتا ۔ سکیورٹی کونسل میں اس کا نام نہیں لیا جاتا جبکہ بھارت میں پٹاخہ بھی چلے تو اس کا الزام پاکستان پر عائد کر دیا جاتا ہے ۔جس دن انہوں نے کلبھوشن یادو کا نام لے لیا اس دن نابینا افراد میں 50ہزار روپے دیدوں گا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی جیب میں مال مسروقہ پایا گیا اور اب انہوں نے ثابت کرنا ہے کیسے پیسے آئے اور عدلیہ نے یوسف رضا گیلانی جیسا فیصلہ نہ دیا تو گو نواز گو کانعرہ لگے گا۔

خورشید شاہ

مزید :

صفحہ اول -