پاناما کیس ، سپریم کورٹ کے وزیر اعظم کے وکیل سے 3سوال ، حسین نواز نے این ٹی این سرٹیفکیٹ جمع کرا دیا

پاناما کیس ، سپریم کورٹ کے وزیر اعظم کے وکیل سے 3سوال ، حسین نواز نے این ٹی ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ نے وزیرا عظم کی نااہلی کیلئے جاری پاناما کیس کی سماعت آج تک کیلئے ملتوی کردی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں قائم 5رکنی لارجر بینچ نے تحریک انصاف ، جماعت اسلامی ، وزیر اعظم نواز شریف ، انکے بچوں کے وکلاء اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت آج تک کیلئے ملتوی کردی۔عدالت نے نوازشریف کے وکیل سے تین سوال اٹھائے کہ پہلا سوال یہ ہے کہ بچوں نے کمپنیاں کیسے بنائیں اور دوسرا سوال یہ ہے کہ زیر کفالت ہونے کے معاملے کی وضاحت کریں جبکہ تیسرا سوال یہ ہے کہ تقریروں میں سچ کہا گیا ہے یا نہیں ؟آج سماعت شروع ہوئی تو جماعت اسلامی کے وکیل اسدمنظور بٹ نے کہا کہ چاہتے ہیں احتساب وزیراعظم نوازشریف سے شروع ہو مگر دیگر کو بھی نہ بخشا جائے ، 556آف شور کمپنیاں ہیں تو صر ف نواز کا احتساب نہ ہو اور کمیشن تشکیل دیاجائے جس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دئیے کہ اگر اس نتیجے پر پہنچے کہ کمیشن کے بغیر انصا ف نہیں ہو رہا تو ضروربنائیں گے ،ہم نے تما م آپشن کھلے رکھے ہیں تاہم نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر نے کچھ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ جب ہم نے دیکھا کہیں کوئی کارروائی نہیں ہو رہی تو معاملہ ٹیک اپ کیا لیکن اگر اداروں نے کوئی کام نہیں کرنا توان کو بند کردیں۔انسداد بدعنوانی کے اداروں کے کام نہیں کرناتو انکی کیا ضرورت ہے۔ ادارے قومی خزانے پر بوجھ بن گئے ہیں۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ادارے اپنا کام کریں ، اداروں کو کام کرنے سے کس نے روکا ہے ؟ہم بھی اپنا کام کر رہے ہیں۔سپریم کورٹ نے کسی ادارے کو کام سے نہیں روکا۔نعیم بحاری کے دلائل شروع ہوئے تو چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے ’’آپ کے پاس صرف 35منٹ ہیں ‘‘دلائل بار بار نہ دہرائیں۔ نعیم بحاری نے کہا کہ 74کروڑ کے تحفے 2014ء اور2015ء میں حسین نواز نے ابو جی کو دئیے تاہم نوازشریف نے ان تحفوں پر ٹیکس ادا نہیں کیا۔، وزیر اعظم نے لگاتار ٹیکس چوری کی ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ وزیرا عظم کے گوشواروں میں مریم نواز کو زیر کفالت کہاں لکھاہے ؟ جس پر نعیم بحاری نے کہا کہ میرے پاس مریم کے اپنے والد کے زیر کفالت ہونے کے واضح ثبوت ہیں۔2011ء سے2012ء کے دوران مریم نوا ز کے اثاثوں میں 7کروڑ کا اضافہ ہوا ، وہ چودھری شوگر ملز کی شیئر ہولڈر ہیں۔انکے شیئر اور زرعی اراضی بھی ہے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہوسکتا ہے مریم نواز کا ذریعہ آمدن چودھری شوگر مل ہو۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مریم نواز کو ایک گاڑی پر 1 کروڑ 96 لاکھ روپے منافع کیسے ہوا ، بی ایم ڈبلیو توپہلے سے استعما ل شدہ تھی۔نعیم بحار ی نے عدالت کو تبایا کہ مریم نواز نے کہا ہوا ہے انہوں نے کوئی یوٹیلٹی بل جمع نہیں کرائے جس پر جسٹس عظمت سعیدشیخ نے ریمارکس دیے کہ بل جمع کرانا گھرکے مردوں کا کام ہوتا ہے ، کیا اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ مریم نواز والد کی زیر کفالت تھیں ؟ نعیم بحاری نے کہا کہ ویلتھ ٹیکس میں بھی مریم نواز کے زیر کفالت ہونے کے واضح شواہد ہیں۔نوازشریف نے 2011ء میں بتایا کہ مریم نواز ان کی زیر کفالت ہیں ، پہلے نوازشریف نے مریم نواز کو 3اور پھر 5کرو ڑ روپے تحفے میں دئیے ۔پاناما کیس کی دستاویز ڈاؤن لوڈ کی گئی ہیں ، 1999ء میں حسن نواز نے کہا کہ فلیٹس میں کرائے پر رہتا ہوں جس پر جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ کیا قطری شہزادے کا خط حسن نواز کے بیان سے مطابقت رکھتا ہے ؟ قطری خط میں کہا گیا کہ جائیدادیں ان کی تھیں تو اس کا مطلب کرایا پاکستان سے قطر جاتا رہا۔ نعیم بخاری نے کہا کہ کرایہ کاروبار سے ادا کرنے کے کوئی ثبوت نہیں دیے گئے۔ حدیبہ پیپر مل کے ڈائریکٹر شہبازشریف حسین نوازاور مریم نواز تھے۔ 1999ء کو لند ن کی ایک عدالت نے فیصلہ بھی جاری کیا تھا۔ لندن فلیٹس کیسے خریدے گئے اس راز سے پردہ کیسے اٹھائیں؟جنوری 1999 ء میں فلیٹس کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں میاں شریف اور شہباز شریف شامل ہیں جبکہ حمزہ شہباز ،شمیم اختر، صبیحہ اختر اور مریم نواز بھی اسی بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل ہیں۔نعیم بخاری نے عدالت کو مزید بتایاکہ حسن نواز مان چکے کرایہ میاں شریف کے شروع کردہ کاروبار سے آتا ہے۔ کمپنیوں کے ٹرسٹ ڈیڈ کی کوئی حیثیت نہیں ، قانون کے مطابق مریم نواز انکی مالک ہیں جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ تمام بیانات کو ملا کر پڑھیں پیسا دبئی سے قطر پھر سعودی عرب اور بعد میں لندن گیا جس پر نعیم بخاری نے جواب دیا کہ حسین نواز نے کہا کہ حسن نواز کو کاروبار کے پیسے اس نے دئیے تو چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ہو سکتا ہے میاں شریف بچوں اور پوتوں کی دیکھ بھال کرتے ہوں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ کومبر کمپنی کے نام سے بھی ایک آف شور کمپنی ہے کومبر کو یہ رقم دبئی میں کہا ں سے آتی ہے یہ سوال وکیل دفاع سے پوچھیں گے۔چیف جسٹس نے نعیم بخاری سے استفسار کیا کہ بتائیں میاں شریف کی وفات کب ہوئی جس پر انہوں نے جواب دیا کہ میاں شریف کا انتقال 2004 ء میں ہوا تاریخ یاد نہیں ، 1999ء میں حسن نواز طالبعلم تھا تو 2سال بعد فلیگ شپ کمپنی بنانے کی رقم کہاں سے آئی جبکہ کرایہ کاروبار سے ادا کرنے کا کوئی دستاویزی ثبوت بھی نہیں ہے۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ کرایہ پاکستان سے ضرور آتا ہے لیکن وہ بزنس سے آتا ہے یہ بات ہم نے نوٹ کی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گاڑی کی مالیت میں 1کروڑ 96لاکھ کا اضافہ کیسے ہو گیا جبکہ بی ایم ڈبلیو گاڑی تو پہلے سے استعمال شد ہ تھی۔’’جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ کے دلائل سے لگتا ہے مریم زیر کفالت ہیں تاہم مریم کا کسی کے زیر کفالت ہو نا ثابت ہونا ابھی باقی ہے۔مریم نے3 کروڑ سترہ لاکھ اور حسین نے 2 کروڑ کے تحفے وزیر اعظم کو دئیے جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیس کو اس طرف نہ لے جائیں جہاں مفاد عامہ کے آرٹیکل کے تحت سن نہ سکیں۔نعیم بخاری نے کہا کہ وزیر اعظم کی پہلی تقریر میں فیکٹریوں کی فروخت کا نہیں بتایا۔جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ زیر کفالت ہونے کا معاملہ اہمیت کا حامل ہے، قانون میں زیر کفالت کی تعریف کا جائزہ لینا ہو گا، ہم بھی تلاش کر تے ہیں اور آپ بھی تلاش کریں جس پر نعیم بخاری نے کہا کہ جناب میں عمر میں آپ سے بڑا ہوں جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ بخاری صاحب آپ عمر بتادیں کچھ نہیں کہوں گا تو نعیم بخاری نے جواب دیا کہ میری عمر 68برس سے زیادہ ہے عدالت میرے ساتھ مذاق نہ کرے۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ پھر توآ پ تسبیح پکڑیں گھر جائیں اور اللہ اللہ کریں۔سماعت کے دوران وقفہ کر دیا گیا جس کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے بقیہ دلائل تحریری طورپر عدالت کو فراہم کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے بیانات میں تضاد ہے وہ صادق اور امین نہیں رہے جس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیے کہ کیا مفاد عام کی بنیا دپر کی جانے والی سماعت میں صادق اورامین کا معاملہ سن سکتے ہیں ،اس حوالے سے قانون کے مطابق فورم موجود ہے۔ ہمارے بینچ کیلئے بظاہر ممکن نہیں لگتا۔ دیکھنا ہے دستاویزات پر جواب لیکر کمیشن بنائیں یا فیصلہ کریں۔نعیم بخاری نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کی جائے جس پر چیف عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ سماعت کیسے کرنی ہے یہ ہم نے طے کرنا ہے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ فریق مخالف کو جواب کیلئے سارا ریکارڈ پیش کرنا ہو گا۔ جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کو پہلے سزاہوئی پھر نااہل ہوئے۔نعیم بخاری نے مزید کہا کہ حسن نواز نے فلیٹ نمبر 12اے 2004ء4 میں خریدا۔نعیم بخاری نے بقیہ دلائل تحریری طورپر جمع کرادیے جس کے بعد میں شیخ رشید نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پاناما کیس کے حوالے سے الیکشن کمیشن ، ٹی او آر کمیٹی اور دیگر فورم پر بھی گئے مگر فائدہ نہیں ہوا ، قائمہ کمیٹی میں ایف بی آر نے ارکان پارلیمنٹ کی توہین کی۔جدہ اور دبئی کی جائیداد کی تفصیلات پر نہیں جاؤں گا ، دودھ کی رکھوالی پر بلوں کو نہیں بیٹھایا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ٹی اورآر پر ملاقات ہوئی دیگر تمام اداروں نے کیس سننے سے انکار کردیا اور ہمیں کہا گیا کہ آپ کون ہیں جنہیں سنیں۔نواز شریف کے کاغذات میں قانون دان موجود ہیں جس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ زیر کفالت میں اہلیہ اوردوسری بیوی ہے تو شیخ رشید نے عدالت سے کہا کہ کاغذات نامزدگی بھرنے والوں کا نام لینا عدالت کے شایان شان نہیں ہو گا۔شیخ رشید نے موقف اپنایا کہ مریم نواز زیر کفالت ہیں تو آف شور کمپنیاں ظاہر کر دینا چاہئے تھیں ، ذرا برابر بھی شک نہیں کہ آف شور کمپنیاں نواز شریف کی ہیں۔نیلسن اور نیسکول کو گوشواروں میں ظاہر کرنا چاہئے تھا ، انہوں نے کہا کہ وکیل نہیں ہوں اس لئے غلطی کیلئے پہلے سے معذرت چاہتا ہوں جس پر جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ معافی ملے گی یا نہیں یہ بعد کی بات ہے آپ دلائل جاری رکھیں ، کیا انصاف کی خاطر قانون کو روندتے چلے جائیں پھر متعلقہ فورم پر اپیل کی جانی چاہیے ؟ شیخ رشید نے کہا کہ علم نہیں کہ بارہ ملین درہم کو کہاں سے ہاتھ لگوایا گیا ہے جو اتنے برکت والے ہیں اور 1989ء سے لیکر آج تک12ملین درہم ختم ہی نہیں ہو رہے۔ کسی نے وزیراعظم سے بیٹی سے متعلق نہیں پوچھا تھا تو کاغذات نامزدگی میں انکو کیوں ظاہر کیا گیا۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ اگر ٹیکس گوشوارے غلط بھرے گئے تو اس کا فیصلہ کیا سپریم کورٹ کریگی ؟شیخ رشید نے مزید بتایا کہ فرگوسن کی رپورٹ کیسے پھیلائی گئی اس بارے میں بخوبی جانتا ہوں ، عام آدمی ہوں میرا وکیل رب ہے۔ملکی تاریخ میں ایسے مواقع آتے رہتے ہیں جمہوریت کو مضبوط کرنے کا آخری موقع ہے۔ کومبر کمپنی کی ٹرسٹ ڈیڈ میں شریف خاندان کی سمارٹنیس دیکھانا چاہتا ہوں ، جس دن مریم نواز کے دستخط ہوئے اس دن اس کی تصدیق بھی ہو گئی۔مریم نواز نے 2 تاریخ کو دستخط کئے لیکن نوٹری پبلک سے ٹرسٹ ڈیڈزکی تصدیق نہیں ہوئی۔ درحقیقت دونوں ٹرسٹ ڈیڈ جعلی ہیں ان پر وزارت خارجہ کی تصدیقی مہر نہیں، ، دونوں ڈیڈز پر دستخط ایک دوسرے سے مماثلت نہیں رکھتے،4تاریخ تک جدہ سے لندن تک یہ ڈیڈ قطری جہاز کے علاوہ نہیں پہنچ سکتی ۔شیخ رشید نے عدالت کے سامنے موقف اپنایا کہ ہر دستاویز اور تحفہ خاندان کے افراد کو 19سال کی عمر میں دیا گیا ، 1973ء میں طارق شفیع 19سال کے تھے۔’’لگتا ہے کسی نجومی نے شریف خاندان کو 19سال سے کم عمر کا کہا ، 19سال کی عمر میں شریف خاندان کے افراد ارب پتی بنے تاہم یہ معاملہ 1993ء میں موٹروے بننے کے بعد شروع ہوا اور ادھر موٹر وے بنی تو وہاں کمپنی ، رابرٹ ارج پاکستان آئے اور کمیشن مانگا۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنے دلائل مکمل کیے جس پر جسٹس کھوسہ نے کہا کہ شیخ صاحب آپ کی بات میں بظاہر وزن لگتا ہے اس کے بعد وزیر اعظم کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے اپنے دلائل شروع کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ درخواستوں پر عائد الزامات کا جواب دونگا تاہم صرف درخواستوں پر اٹھائے گئے الزامات 184/3میں نہیں آتے ، وزیرا عظم کی تقاریر کو تفصیل سے سامنے رکھوں گا ، مریم نواز پر فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا گیا اور زیر کفالت ہو کر گوشواروں میں کمپنیاں ظاہر نہ کرنے کا الزام لگایا گیامگر درخواست گزاروں نے اس سے متعلق کوئی ثبوت فراہم نہیں کیے توجسٹس کھوسہ نے کہا کہ ملکیت تسلیم کرنے کے بعد ثبوت فراہم کرنے کی ذمہ داری آپ پر ہے۔ہر بار ثبوت پر ایسے لوگوں نے بھی بات کی جن کو قانون کا کچھ علم نہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ کے پاس دفاع کیلئے بنیادی طور پر کیا ہے ؟ الزامات رقم منتقلی سے متعلق بھی عائد کیے گئے ہیں اور ان میں تضاد کا بھی الزام ہے۔جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ وزیراعظم کی تقاریر 27بار پڑھی جا چکی ہیں۔ جسٹس آصف کھوسہ نے نوازشریف کے وکیل سے تین سوال اٹھائے کہ پہلا سوال یہ ہے کہ بچوں نے کمپنیاں کیسے بنائیں اور دوسرا سوال یہ ہے کہ زیر کفالت ہونے کے معاملے کی وضاحت کریں جبکہ تیسرا سوال یہ ہے کہ تقریروں میں سچ کہا گیا ہے یا نہیں۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ الزام ہے کہ کمپنیاں اور جائیداد غیر قانونی طریقے سے بنائی گئی ہیں۔ عدالت نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد سماعت آج تک کیلئے ملتوی کردی۔

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کے نیشنل ٹیکس نمبر (این ٹی این) کا سرٹیفکیٹ سپریم کورٹ میں جمع کرادیا گیا ہے۔این ٹی این سرٹیفکیٹ بطوراضافی دستاویز حسین نواز کے وکیل اکرم شیخ نے سپریم کورٹ میں جمع کرایا ، سرٹیفکیٹ سے پتا چلتا ہے کہ وزیر اعظم کے صاحبزادے پچھلے 21 سال سے پاکستان کے ٹیکس ادا کرنے والے شہری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تحائف کی رقم پر ٹیکس چوری کے الزام کے جواب میں سپریم کورٹ میں سرٹیفکیٹ جمع کرایا گیا ہے۔سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے سرٹیفکیٹ سے پتا چلتا ہے کہ حسین نواز کو فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) نے 30 اکتوبر 1995 کو نیشنل ٹیکس نمبر کا سرٹیفکیٹ جاری کیا۔ سرٹیفکیٹ میں حسین نواز کو شوگر مینو فیکچرر کی حیثیت سے این ٹی این ہولڈر دکھایا گیا ہے۔ سرٹیفکیٹ پرحسین نواز کی تاریخ پیدائش یکم مئی 1972 درج ہے جبکہ انہیں شناختی کارڈ نمبر 8418398-5 35201-پر این ٹی این جاری کیا گیا۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ حسین نواز کے پاس این ٹی این نمبر ہی نہیں ہے۔

مزید :

صفحہ اول -