سرتاج عزیز عالمی کانفرنس میں شرکت کیلئے مامرتسر گئے ، باہمی مذاکرات کیلئے نہیں

سرتاج عزیز عالمی کانفرنس میں شرکت کیلئے مامرتسر گئے ، باہمی مذاکرات کیلئے ...

  

تجزیہ: قدرت اللہ چودھری

  ہمارے بعض سیاستدان اور تجزیہ نگار گلہ گزار ہیں کہ مشیر خارجہ سرتاج عزیز بھارت کیوں گئے تھے، تو بھارتی میڈیا بھی ان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے نہیں تھکتا۔ آخر انہیں سرتاج عزیز سے مسئلہ کیا ہے؟ بھارت کے دکھ تو سمجھ میں آتے ہیں لیکن یہ ہم پاکستانیوں کو ان سے کیا شکایت ہے؟ سابق صدر جنرل پرویز مشرف کہتے ہیں کہ سرتاج عزیز کو بھارت نہیں بھیجنا چاہئے تھا، لیکن ان کے پیشرو آرمی چیف جنرل (ر) جہانگیر کرامت کا خیال ہے کہ سرتاج عزیز نے بھارت میں جن خیالات کا اظہار کیا ان میں پاکستان کے نقطہ نظر کو بڑی اچھی طرح بیان کیا اور پاکستان کا مضبوط کیس پیش کیا۔ گویا ایک ہی عہدے پر رہنے والی شخصیات دو مختلف آراء رکھ سکتی ہیں۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ بعض سینئر سیاستدان اور سینئر تجزیہ کار سرتاج عزیز کے دورے کو ’’دورہ بھارت‘‘ کہہ اور لکھ رہے ہیں جبکہ یہ بھارت کا دورہ ہرگز نہ تھا۔ سرتاج عزیز ایک عالمی کانفرنس میں بالکل اسی طرح شرکت کرنے کیلئے گئے تھے جس طرح دوسرے ملکوں کے وزیر یا مندوبین گئے تھے۔ یہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس دراصل افغانستان کے بھلے کیلئے بلائی گئی تھی اور یہ اپنی نوعیت کی چھٹی کانفرنس تھی اس سے پہلے اس طرح کی پانچ کانفرنسیں ہوچکی ہیں، پانچویں کانفرنس اسلام آباد میں ہوئی تھی اور ساتویں کانفرنس تہران میں ہو رہی ہے۔ بعض حضرات سادگی سے یا سادہ لوحی سے یا دیدہ دانستہ ابہام پیدا کرنے کیلئے سرتاج عزیز کے اس دورے کو دورۂ بھارت کا نام دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس طرح پاکستان کی جگ ہنسائی کا سامان پیدا کیا گیا۔ یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ سرتاج عزیز کے دورے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کسی قسم کی باہمی بات چیت نہیں ہوئی، دونوں ملکوں کا کوئی چھوٹا بڑا مسئلہ کسی سطح پر زیر بحث نہیں آیا۔ یہ تو تب ہوتا کہ سرتاج عزیز کانفرنس میں شرکت کے ساتھ ساتھ اسے ’’باہمی دورہ‘‘ بھی بنا دیتے۔ چونکہ دونوں ملکوں کے درمیان بات چیت مطلوب و مقصود ہی نہ تھی اس لیے کسی کا یہ کہنا تو بنتا ہی نہیں کہ مسئلہ کشمیر پر بات چیت کیوں نہیں ہوئی؟ جب بات چیت ہو ہی نہیں رہی تھی تو موضوعات کا تعین چہ معنی دارد؟ دیواروں سے تو بات چیت نہیں ہونی تھی۔

سرتاج عزیز نے کانفرنس میں جو تقریر کی وہ بہت نپی تلی اور مدبرانہ تقریر تھی، عین ممکن ہے ان کی جگہ کوئی جوشیلا مقرر ہوتا تو اشرف غنی اور نریندر مودی کے لتے لے لیتا، لیکن سرتاج عزیز نے جو کچھ کہا، سوچ سمجھ کر کہا البتہ اشرف غنی کے ایک الزام کا جواب ضروری تھا جو انہوں نے سلیقے سے دیدیا۔ بھارت میں ان کے ساتھ کیسا سلوک ہوا؟ اور ہائی کمشنر عبدالباسط کے ساتھ کیا رویہ اختیارکیا گیا، یہ خود بھارتیوں کا اپنا ظرف ہے۔ عبدالباسط بھارت میں مستقل پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں، وہ نہیں ہوں گے تو کوئی دوسرا چلا جائے گا۔ سفارتی سطح پر تعلقات میں سفارتی روایات کو ملحوظ رکھا جائے تو ملکوں کی عزت میں اضافہ ہوتا ہے کمی نہیں ہوتی۔ بھارت نے آداب مہمان نوازی کے برعکس رویہ اختیار کیا تو اس پر بھارت کو پشیمان ہونا چاہئے، اس میں پاکستان کیلئے پریشانی کی کیا بات ہے؟ پاکستان نے تو اپنی بات ڈنکے کی چوٹ پر بیان کردی، اب اگر بھارتی حکومت نے سرتاج عزیز کو صحافیوں سے بات نہیں کرنے دی یا انہیں دربار صاحب نہیں جانے دیا گیا تو اس پر خود بھارت میں بھارتی حکومت پر نکتہ چینی ہو رہی ہے۔

بھارت میں پاکستانی رہنماؤں اور سفارتکاروں کے ساتھ اس سے پہلے بھی ایسی ہی حرکتیں ہوچکی ہیں، آپ کو یاد نہیں ہے تو یاد کرلیں کہ جب جنرل پرویز مشرف آگرہ کے دورے پر گئے تھے تو ان کے ساتھ کیا ہوا تھا؟ پہلے تو یہ بات ذہن میں لائیں کہ آگرہ جانے سے پہلے انہوں نے بطور چیف ایگزیکٹو اور بطور آرمی چیف اس وقت کے صدر پاکستان جناب رفیق تارڑ کو دو سطری حکم کے تحت برطرف کردیا تھا۔ ایک آرمی چیف کس اختیار کے ساتھ صدر کو برطرف کرسکتا تھا، اس کا جواب آج تک نہیں دیا گیا۔ جناب رفیق تارڑ بفضل تعالیٰ زندہ سلامت موجود ہیں کوئی جائے اور ان سے پوچھ لے کہ جنرل پرویز مشرف کے اس حکم کی قانونی حیثیت کیا تھی؟

جنرل پرویز مشرف اپنے ملک میں یہ کارنامہ انجام دینے کے بعد جب بھارت پہنچے تو میڈیا میں ان کی غیر معمولی پذیرائی ہوئی، غالباً کیمروں کی چکا چوند روشنیوں نے جناب پرویز مشرف کو کسی غلط فہمی میں مبتلا کردیا یا کوئی اور وجہ تھی کہ وہ اس خیال خام میں مبتلا ہوگئے کہ وہ اس دو روزہ دورے کے دوران مسئلہ کشمیر حل کرا کے ہی وطن لوٹیں گے۔ دہلی میں ان کا ایک آبائی گھر دریافت کیا گیا جسے ’’نہر والی حویلی‘‘ کہا گیا، یہاں نہ تو کوئی نہر تھی اور نہ کوئی حویلی، لیکن نہ جانے کیوں اس کا یہ نام رکھ دیا گیا۔ اپنے دورے کے دوران وہ اپنے گھر کو دیکھ کر نہال ہوئے تو ’’حویلی‘‘ کے مکین بھی خوش ہوئے کہ پاکستان کا صدر ان کے پاس چل کر آیا ہے، لیکن یہ سوال آج تک کیا جاتا ہے اور اگر جنرل پرویز مشرف برا نہ مانیں تو جواب بھی دے سکتے ہیں کہ ان کے اس دورے سے پاکستان کو کیا حاصل ہوا؟ دورے کے نتیجے میں کوئی اعلان تک جاری نہ ہوا اس کی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے۔ اعلان کا جو مسودہ تیار کیا گیا تھا اس میں بھارتی ہاکس نے کچھ تبدیلیاں کردیں جب یہ پاکستانی حکام کے پاس آیا تو انہوں نے بعض الفاظ بڑھا دیئے اور کچھ کاٹ دیئے، یوں ہاکی کے گیند کی طرح یہ مسودہ ایک دو بار اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر آیا گیا۔ آخری بار جب ’’گیند‘‘ بھارت کی کورٹ میں گیا تو غائب ہوگیا، اب پاکستان کے صدر انتظار کر رہے ہیں کہ اعلان کا مسودہ آئے تو وہ احساس فتح کے ساتھ وطن روانہ ہوں لیکن جب انتظار کی گھڑیاں طویل ہونے لگیں تو ان کی بے چینی بڑھنے لگی، وہ پہلو بدلتے بدلتے اٹھ کر ٹہلنے بھی لگے لیکن مسودہ نہ آیا۔ جب انہیں محسوس ہوا کہ اب اس تل سے تیل نہیں نکلنے والا تو وہ غصے سے اٹھے اور واپسی کیلئے رخت سفر باندھ لیا، کوئی الوداعی پروٹوکول بھی نہ ہوا۔ صد ر صاحب نے اگلے روز اپنے مذاکرات کی کہانی خود اسلام آباد میں آکر بیان کردی اور اس کا ’’حاصلِ مشاعرہ‘‘ ایک صحافی کی برطرفی تھی جس نے ایک گستاخانہ سوال کردیا تھا، اس واقعہ کا بیان ہمیں یوں کرنا پڑا کہ اگر سرتاج عزیز سے بھارت کے اندر کوئی بدسلوکی ہوگئی ہے تو اس سے ملتی جلتی بدسلوکی ہمارے صدر کے ساتھ بھی ہوچکی ہے۔ آج کل صدر صاحب اکثر ٹی وی چینلوں پر رونق افروز رہتے ہیں کوئی صاحب چاہیں تو ان سے پوچھ سکتے ہیں کہ اگر ان کے دورۂ آگرہ سے پاکستان کی عزت پر کوئی حرف نہیں آیا تھا تو سرتاج عزیز کے ایک عالمی کانفرنس میں جانے سے پاکستان کی کیا ہتک ہوگئی؟ سرتاج عزیز جنرل پرویز مشرف کی طرح کوئی بھارتی دورے پر تھوڑے گئے تھے۔

باہمی مذاکرات

مزید :

تجزیہ -