کالج آف ہوم اکنامکس میں داخلہ کے باوجودسیکنڈ شفٹ کلاسز شروع نہ ہو سکیں

کالج آف ہوم اکنامکس میں داخلہ کے باوجودسیکنڈ شفٹ کلاسز شروع نہ ہو سکیں

  

لاہور(محمد نواز سنگرا)کالج آف ہوم اکنامکس میں انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے سیکنڈ شفٹ میں کلاسز شروع نہ ہو سکیں۔سیکنڈ شفٹ یا سیلف فنانس کی بنیاد پر داخل کی جانے والی طالبات کو صبح کی کلاسز میں ضم کر دیا گیا ہے۔ سیکنڈ شفٹ یا سیلف فنانس کی مد میں طالبات سے اضافی فیسیں وصول کرنے کے باوجود اساتذہ کو معاوضہ بھی نہیں دیا جا سکا۔ہوم اکنامکس کالج میں ہر سیشن میں 200سے زائد طالبات کا سیکنڈ شفٹ یا سیلف فنانس میں داخلہ کیا گیا ہے ۔جس کی فیس عموماً ریگولر یا مارننگ کلاسز سے ڈیڈھ گنا ہوتی ہے۔ہوم اکنامکس کالج میں 6سے7سو طالبات کی سیکنڈ شفٹ کے نام پر داخلے کرنے کے باوجود الگ کلاسز شروع کرنے کی بجائے صبح کی کلاسز میں شامل کر لیا گیا اور اساتذہ کو فی گھنٹہ کے حساب سے اضافی رقم بھی نہیں دی جا رہی ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ ہو م اکنامکس کالج میں ہر سیشن میں 2سو سے زائدطالبات کا داخلہ کیا گیا ہے جس کی مد میں سالانہ لاکھوں روپے اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ سیلف فنانس یا سیکنڈ شفٹ میں داخل کی جانے والی طالبات کی الگ کلاسز شروع کرنے کی بجائے ان کو مارننگ کلاسز میں ضم کر کے ایک ہی کلاس ہو رہی ہے جس وجہ سے مارننگ کی کلاسز میں تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے طالبات کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے تو دوسری طرف خواتین اساتذہ کو بھی سیکنڈ شفٹ کی مد میں اضافی رقم ادا نہیں کی جا رہی ۔مزید بتایا گیا ہے کہ کالج انتظامیہ قوم کے معمار کے ساتھ امتیازی سلوک کر رہی ہے کلیریکل کیڈر کو سیکنڈ شفٹ کی مد میں 13ہزار روپے اضافی ادا کیے جا رہے ہیں جب کہ کالج میں ٹیچنگ کے فرائض سرانجام دینے والے20سے25خواتین اساتذہ کو سیکنڈ شفٹ کی مد میں فی گھنٹہ کے حساب سے ادائیگی بھی نہیں کی جا رہی۔واضح رہے کہ قوانین کے مطابق ہر سرکاری کالج میں سیکنڈ شفٹ ایک بجے شروع ہونی چاہیے تاہم چند کالجز نے اجازت لے کر 12بجے بھی سیکنڈ شفٹ شروع کر رکھی ہے۔اس حوالے سے ہوم اکنامکس کالج کی پرنسپل ڈاکٹر عنبرین احمد نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ سیکنڈ شفٹ بھی جاری ہے اور اساتذہ کو فی گھنٹہ کے حساب سے ادائیگیاں بھی کر رہے ہیں ،فی گھنٹہ کے حساب سے کتنی ادائیگیاں کی جا رہی ہیں اس سوال کے جواب میں پرنسپل نے بتایا کہ وہ نہیں بتا سکتیں کہ اساتذہ کو فی گھنٹہ کتنی رقم ادا کی جاتی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -