محکمہ آبپاشی کے سیکشن آفیسر (جنرل )محمود احمد وغیرہ کیخلاف کوٹ لکھپت پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم

محکمہ آبپاشی کے سیکشن آفیسر (جنرل )محمود احمد وغیرہ کیخلاف کوٹ لکھپت پولیس کو ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سرفراز ڈوگر نے حکم امتناعی کے باوجود ڈپٹی سیکرٹری خزانہ اور اہل خانہ کو دھمکیاں دینے ، ہراساں کرنے اورسرکاری رہائش گاہ پر دھاوا بولنے پر محکمہ آبپاشی کے سیکشن آفیسر (جنرل )محمود احمد وغیرہ کے خلاف کوٹ لکھپت پولیس لاہور کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیدیا۔ فاضل عدالت میں درخواست گزار ڈپٹی سیکرٹری خزانہ (لیگل )اسلم سپراء کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ دوران تعیناتی محکمہ آبپاشی کینال کالونی چونگی امر سدھو میں مکان نمبر 11 رہائش کیلئے دیا گیا ،محکمہ آبپاشی سے تبادلے کے بعد محکمہ کی جانب سے سرکاری رہائش گاہ خالی کرنے کیلئے کہا گیاتاہم ڈپٹی سیکرٹری اسلم سپراء نے سول عدالت سے حکم امتناعی لے لیا۔تھانہ کوٹ لکھپت پولیس کے روبرو دی گئی اندراج مقدمہ کی درخواست کے مطابق 10 ستمبر کے روز ملزمان محمود احمد سیکشن آفیسر ، اور ایس ڈی او سمیت 25 سے 30 افراد چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے میرے سرکاری گھر میں گھس آئے اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دینے لگے اور کہا گھر فوری طور پر گھر خالی کردو۔ڈپٹی سیکرٹری اسلم سپراء نے گھر خالی نہ کرنے کے حوالے سے عدالت کی جانب سے جاری کیا گیا حکم امتناعی دکھایا۔جسے محمود احمد سیکشن آفیسر نے پھاڑ دیا اور کہا کہ ہم کسی عدالت اور قانون کو نہیں مانتے ، تم یہ گھر فوری طور پر خالی کردو۔ پولیس ہیلپ لائن (15 ) پر فون پولیس بلوائی اور اپنی اور اہل خانہ کی جان بچائی۔ملزمان نے پولیس کے سامنے زبردستی سائل سے بیان حلفی / معاہدہ تحریر کروایا۔۔جبکہ ایک روز قبل محمود احمد نے سائل کو ٹیلی فون کرکے اور ایس ایم ایس کے ذریعے دھمکیاں بھی دیں۔اس درخواست پر سیشن عدالت نے کوٹ لکھپت پولیس کو قانون کے مطابق کاروائی کی ہدایت کی لیکن پولیس نے کوئی کاروائی نہ کی ۔ملزمان نے ایڈیشنل سیشن عدالت کے فیصلے کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ، ہائیکورٹ نے محمود احمد کے ساتھی جاوید شہزاد کی یہ درخواست خارج کردی ۔لہذا ایڈیشنل سیشن عدالت کے حکم پر عمل درآمد کرنے کا حکم دیا جائے ،فاضل عدالت نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد پولیس کو مقدمہ درج کرنے کا حکم دیتے ہوئے درخواست نمٹا دی۔

مزید :

صفحہ آخر -