نوازشریف جواب داخل کردیں تو بہتر ہے، ایسا نہ ہو سخت حکم جاری کرنا پڑے: لاہور ہائیکورٹ

نوازشریف جواب داخل کردیں تو بہتر ہے، ایسا نہ ہو سخت حکم جاری کرنا پڑے: لاہور ...

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے ملکہ برطانیہ کی طرف سے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو سر کا خطاب دینے کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ نواز شریف جواب داخل کرا دیں تو بہتر ہے، ایسا نہ ہو کہ سخت حکم جاری کرنا پڑے۔جسٹس مامون رشید شیخ نے وزیر اعظم نواز شریف کو سر کا خطاب دینے کے خلاف درخواست پر سماعت کی، درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف غیرقانونی طور پر سر کا خطاب استعمال کر رہے ہیں، سر کا خطاب استعمال کرنے سے قبل وزیر اعظم نے پارلیمنٹ سے منظوری نہیں لی اور نہ ہی اس حوالے کوئی گزٹ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم نواز شریف سر کا خطاب استعمال کر رہے ہیں جو آئین کے آرٹیکل 258اور 259کی خلاف ورزی ہے ،وزیر اعظم نواز شریف کو سر کا خطاب استعمال کرنے سے روکا جائے، وفاقی حکومت کی طرف سے سٹینڈنگ کونسل ندیم انجم نے استدعا کی جواب داخل کرانے کے لئے مہلت دی جائے، عدالت نے جواب داخل نہ کروانے پر وزیر اعظم نواز شریف پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ متعدد نوٹسز کے باوجود وزیر اعظم نواز شریف نے جواب داخل نہیں کرایا، وزیر اعظم کو براہ راست نوٹس جاری کر رہے ہیں، وزیر اعظم کو کہیں کہ وہ جواب داخل کرا دیں تو بہتر ہوگا، ایسا نہ ہو کہ عدالت کو کوئی سخت حکم جاری کرنا پڑے، ایسی نوبت نہ آنے دیں کہ جواب کے لئے وزیر اعظم نواز شریف کا اشتہارجاری کرنا پڑے، عدالت نے مزید سماعت 19دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف کو براہ راست نوٹس جاری کر دیاہے۔

مزید :

صفحہ آخر -