ظلم کی رات ختم اور انصاف کا سورج طلوع ہونے والا ہے: انصاف لائیرز فورم

ظلم کی رات ختم اور انصاف کا سورج طلوع ہونے والا ہے: انصاف لائیرز فورم

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )انصاف لائیرز فورم کے زیر اہتمام منعقدہ وکلاء کنونشن میں مقررین نے کہا ہے کہ ظلم کا سورج غروب جبکہ انصاف کا سورج طلوع ہونے والا ہے ۔ ملک میں جمہوریت کا راگ الاپنے والے موجودہ سیاست دان صرف وکلاء کی جدوجہد کی موہون منت ہیں۔ جنہوں نے 2007کی وکلاء تحریک میں کامیابی حاصل کی اور عدلیہ کو آزاد کرایا۔ پی ٹی آئی لیڈر شپ نے کبھی منافقت کی سیاست نہیں کی ۔پاناما لیکس کیس میں کسی کمیشن قائم کرنے کی ضرورت موجود نہیں یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے کمیشن کی ضرورت نہیں ۔مختلف مقررین نے ان خیالات کا اظہار انصاف لائیرز فورم کے زیر اہتمام لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے کراچی ہال میں وکلاء کنونشن سے خطاب کے دوران کیا،کنونشن میں پی ٹی آئی لاہور کے صدر ولید اقبال کے علاوہ پنجاب بارکے عہدیدار عمر نیازی ایڈووکیٹ ، رکن پنجاب اسمبلی سعدیہ سہیل رانا ، عظیم پاہٹ ، احمد اویس ، رانا جاوید خاں ایڈووکیٹ ، سیکرٹری جنرل پنجاب انیس ہاشمی سمیت دیگر نے شرکت کی ۔ ولید اقبال نے اپنے خطاب میں کہا کہ تحریک انصاف کی جدوجہد جاری ہے ظلم کا سورج غروب جبکہ انصاف کا سورج طلوع ہونے والا ہے اس ملک میں جمہوریت کا راگ الاپنے والے موجودہ سیاست دان صرف وکلاء کی جدوجہد کی موہون منت ہیں جنہوں نے 2007کی وکلاء تحریک میں کامیابی حاصل کی اور عدلیہ کا آزاد کرایا مقررین نے اس بات پر بھی زور دیا ہے نوجوان قیادت نے تبدیلی کے نعرے کو سچ کر دکھایا ہے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی میں موجود لیڈران نے کبھی منافقت کی سیاست نہیں کی ۔ رکن صوبائی اسمبلی سعدیہ سہیل رانا نے کہا کہ کبھی بھی اپنے مفادات کو ترجیح نہیں دی پارٹی معاملات کو آگے لے کر چلے ہیں انہوں نے کہا کہ عمران خان گذشتہ بیس سالوں سے عوام کے مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر ہیں میرا لیڈر عمران خان ایک سچا اور محب وطن ہے انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی میں بھی اصطلاحات اور بہتری کی ضرورت ہے پارٹی کی ترقی کے لیے ضروری اصطلاحات ہونے ناگزیر ہیں انہوں نے کہا کہ سب سے پہلے اپنے آپ کو احتساب کے کٹہرے میں کھڑا کرنا ہو گا انہوں نے کہا کہ وٹس اپ پر تصویروں کی گنتی سے اپنے کام کی گنتی سے کبھی بھی موازنہ نہ کیا جائے ۔احمد اویس نے کہا کہ ملک میں تبدیلی ناگزیر ہے پی ٹی آئی میں کوئی ورکر یا لیڈر ہو تبدیلی کے لیے کوشاں ہے انیس ہاشمی کے سوالات کے جوابات آنے چاہئے انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت تک تبدیلی نہیں آسکتی جب تک لیڈر شپ کے مائند سیٹ میں تبدیل نہیں ہوتا انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لیے ترجیح بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے انہوں نے کہا کہ آج ملک کا وزیر اعظم ہزاروں ڈالر عوام کی کمائی کے ساتھ آرام کر رہا ہے جب تک اسے عوام کی عدالت میں نہیں کھسیٹا جاتا ملک میں تبدیلی نہیں آئے گی انہوں نے کہا کہ موجودہ نظام صرف چند کو تحفظ دیتا ہے عام آدمی کے بنیادی حقوق کو تحفظ نہیں دیتا جب یہ جمود نہیں توڑا جائے گا ملک میں تبدیلی نہیں آئے گی انہوں نے پانامہ لیکس کیس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ قوم نے عدلیہ کو آخری موقع دے دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے انصاف کے تقاضوں کو مکمل طور پر پورا کرتے ہوئے انصاف کر کے دکھائیں انہوں نے کہا کہ ایک جج انصاف کی کرسی پر خدا کی ڈیوٹی دے رہا ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کیس میں کسی کمیشن قائم کرنے کی ضرورت موجود نہیں یہ فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے کمیشن کی ضرورت نہیں احمد اویس نے کہا کہ میاں نواز شریف اور اس کے اہل خانہ نے ثابت کرنا ہے کہ ان کے پاس یہ پیسہ کہاں سے آیا اگر وہ یہ ثابت کرنے میں ناکام ہوتے ہیں تو وزارت عظمیٰ اور پارلیمنٹ کی رکنیت تو کھو ہی دیں گے جبکہ انہیں جیل بھی جانا پڑے گا انہوں نے کہا کہ 2007وکلاء تحریک میں عوام سڑکوں پر تھے اگر وہ نہ ہوتے تو سپریم کورٹ کبھی بھی اپنا فیصلہ نہ بدلتے ۔ انصاف لائرز فورم پنجاب کے صدر انیس ہاشمی نے اپنی تقریر میں پی ٹی آئی لیڈر شپ کے لیے چند سوالات چھوڑے کہ کیا پی ٹی آئی نے جو تبدیلی کا قوم سے وعدہ کیا تھا ہم نے وہ تبدیلی کی ہے ؟تبدیلی صرف ووٹ سے آتی ہے انہوں نے کہا کہ کیا ہم نے ملک میں ہونے والے الیکشن کے حوالے سے اصطلاحات کیں ہیں ؟کیا ہم کرپشن روکنے کے لیے تیاری کر رہے ہیں ؟پی ٹی آئی میں نوجوان قیادت کا وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا ہے ؟ہم سٹیٹس کو کے خلاف ہیں ۔

مزید :

صفحہ آخر -