بڑے نے چھوٹا بھائی قتل کر دیا، نوجوان ٹرین کی زد میں آکر جاں بحق، مختلف واقعات میں 3ہلاکتیں

بڑے نے چھوٹا بھائی قتل کر دیا، نوجوان ٹرین کی زد میں آکر جاں بحق، مختلف ...

  

حاصل پور، عبدالحکیم،ساہوکا، رحیم یار خان (نمائندگان)معمولی جھگڑے پر چھوٹے بھائی کو اینٹیں مار مار کر ابدی نیند سلادیا،نوجوان ٹرین کی زد میں آکر چل بسا، محنت کش کرنٹ لگنے سے دم توڑ گیا،ڈاکٹروں کی غفلت سے بچہ مریضہ کے پیٹ میں ہی دم توڑ گیا،کینسر کی مریضہ ہسپتال میں خالق حقیقی سے جاملی۔حاصل پور سے نامہ نگار اور نمائندہ خصوصی کے مطابق قائم پور کے نواحی علاقوں منظور آباد میں 13 سالہ علی حسنین نے اپنے 7 سالہ سوتیلے بھائی جمشید کو اینٹیں مار کر موقع پر ہلا ک کر دیا بتایا جاتا ہے کہ دونوں بھائیوں کے درمیاں اکثر جھگڑا رہتا تھا بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ شام دونوں بھائی گلی میں کھیل رہتے تھے کہ معمولی بات پر تلخ کلامی ہوئی جس پر مشتعل ہو کر علی حسنین نے قریبی کھیت میں لے جا کر 7 سالہ جمشید کے سر میں اینٹیں مار کر ہلا ک کردیا ۔عبدالحکیم سے نمائندہ خصوصی اور نامہ نگار کے مطابق نواحی بستی تھراجانوالہ کا رہائشی لیاقت علی تھراج سرگودھا سے کراچی جانے والی ساندل ایکسپریس کے نیچے آوٹر سگنل کے قریب آکر جاں بحق ہو گیا،پولیس نے اتفاقیہ مو ت قر ار دیکر اسکو دفنانے کی اجازت دی جس پر بستی تھراجانوالہ میں اسکی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد اسی بستی کے قبرستان میں اس کو دفنا دیا گیا ہے۔ساہوکا سے نمائندہ پاکستان کے مطابق واپڈا اہلکاروں نے فتح شاہ کے علاقہ پرانہ سلدیرا کے رہائشی 18سالہ نوجوان محمد عابد ولد اعجاز احمدماچھی کے گھر کے سامنے بجلی کا پول لگا کر اس کی سپورٹ محمد عابد کے گھر کے اندر لگائی ہوئی تھی گذشتہ روز بجلی کے پول کی سپورٹ میں کرنٹ آنے سے محنت کش محمد عابد کرنٹ کا جھٹکا لگنے سے موقع پر جاں بحق ہو گیا ورثہ نے میپکو اہلکاروں کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے میپکو چیف سمیت حکام بالا سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔رحیم یار خان سے ڈسٹرکٹ رپورٹر اور بیونیوز کے مطابق گزشتہ روز شاہنواز کالونی کے رہائشی محمد شبیر کی بیوی 25سالہ سکینہ بی بی کو ڈلیوری کے لیے شیخ زید ہسپتال کے لیبر روم میں داخل کرایاگیاجہاں پر ڈاکٹروں کی مبینہ غفلت کے باعث اسے بروقت طبی امداد میسرنہ آسکی جس کے باعث حاملہ خاتون کا بچہ پیٹ ہی میں جاں بحق ہوگیا ،خاتون کی حالت غیر ہونے پر اسکا آپریشن کیاگیا اور جوں ہی اسے گائنی وارڈ سے آئی سی یو وارڈ میں منتقل کیاگیا جہاں ایک روز تک زیرعلاج رہنے کے باوجود سکینہ بی بی چل بسی ا سکے اہل خانہ نے ڈاکٹروں کی غفلت اور بروقت طبی امداد نہ دینے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔تاہم ڈاکٹروں نے انہیں ڈرادھمکا کر خاموش کرادیا جس پر جاں بحق ہونے والی خاتون سکینہ بی بی کے شوہر نے ڈاکٹروں کے خلاف قانونی کاروائی سے انکار کردیا۔دریں اثناء تھلی چوک کی رہائشی50 سالہ ممتاز بی بی جوکہ کینسرکے مرض میں مبتلا تھیں حالت تشویشناک ہونے پر ورثاء نے طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کیاجہاں طبی امداد کے باوجود ممتاز بی بی جانبر نہ ہوپائی اوردم توڑگئی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -