تھیلی سیمیا جیسے مہلک مرض کی روک تھام کیلئے عوامی شعور کی آگاہی کی کوششیں ناگزیر ہیں ، پرویز خٹک

تھیلی سیمیا جیسے مہلک مرض کی روک تھام کیلئے عوامی شعور کی آگاہی کی کوششیں ...

  

پشاور( سٹاف رپورٹر) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے تھیلی سیمیا جیسے مہلک مرض کی روک تھام کے لئے عوامی شعور کی آگاہی کے لئے کوششوں کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے اس مرض پر قابو پانے کے لئے قانون سازی کے عزم کا اظہار کیا ہے تاکہ حفاظتی تدابیر کو لازمی بنا کرنئی نسل تک اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ وہ خیبر میڈیکل کالج میں گیارھویں تھیلی سیمیا کانفرنس سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس میں ملک بھر سے صحت کے ماہرین تھیلی سیمیا میں مبتلا بچوں اور انکے والدین کے علاوہ تھیلی سیمیا کے مرض پر قابو پانے کے لئے جدوجہد کرنے والی تنظیموں کے منتظمین نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے تھیلی سیمیا فیڈریشن کی نو منتخب کابینہ سے حلف بھی لیا۔ کانفرنس میں صحت کے ماہرین نے اپنے تحقیقی مقالات پیش کئے جبکہ کانفرنس کے شرکاء اور مریضوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کانفرنس کے انعقاد کو تھیلی سیمیا کے بارے میں شعوری کی بیداری کے لئے اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے تھیلی سیمیا کے مریضوں کے علاج کے لئے سرگرم رفاہی اداروں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس کو عظیم انسانی خدمت قرار دیا۔ وزیر اعلیٰ نے تھیلی سیمیا کی روک تھام کے لئے مؤثر کوششوں اور مقامی تحقیق کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بہت سی بیماریاں انسانی غلطیوں اور ماحولیاتی وجوہات سے پھیلتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسی کوئی وجہ نہیں کہ درست سمت میں کوششوں کے باوجود بیماریوں پر قابونہ پایا جا سکے۔ انہوں نے صحت کے ماہرین اور رضاکاروں پر زور دیا کہ وہ مریضوں میں جینے کا حوصلہ اور بیماری سے مقابلے کی ہمت پیدا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح مریض بیماری سے نمٹ سکتے ہیں اور با وقار انداز میں ایک مقصدکی خاطر زندگی گزار سکتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے مختلف تنظیموں کی انسانیت کی فلاح کے لئے بغیر کسی لالچ خدمات کو سراہتے ہوئے اسے عبادت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دین نے بھی ہمیں انسانی خدمت کا درس دیا ہے اور اس خدمت کا صلہ اللہ تعالیٰ ضرور دے ۔ انہوں نے سب کو انسانی خدمت کے اس عظیم کام میں حصہ لینے کی اپیل کی۔ وزیر اعلیٰ نے اس سلسلے میں اپنے وقت اور وسائل کے استعمال کو اعلیٰ درجے کی خدمت قرار دیا۔ وزیر اعلیٰ نے غریب مریضوں کی مدد اور انکی زندگی بحال کرنے کے لئے مؤثر کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس سلسلے میں ایک بھرپور اور مؤثر ابلاغی مہم چلانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے میڈیا اور مقامی حکومت کے نمائندوں کی مدد سے تھیلی سیمیا کے بارے میں آگاہی مہم چلانے کا حکم دیا تاکہ عام آدمی اس مہلک مرض سے با خبر ہو کر حفاظتی تدابیر اختیار کرے۔ انہوں نے کہا کہ مؤثر ابلاغی مہم کے ذریعے سے ہی اس بیماری کو نئی نسل تک پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے تھیلی سیمیا کے بارے میں آگاہیْ کے سلسلے میں رفاہی تنظیموں کی بھرپور مدد کرنے کا یقین دلایا۔ انہوں نے صحت کی سہولیات کی بہتری کے لئے صوبائی حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نادار لوگوں کی خدمت کے لئے حکومت نے صحت انصاف کارڈز کا صوبے بھر میں اجراء کیا جس سے نادار لوگوں کی اکثریت مستفید ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کے دائرہ کار سے باہر رہ جانے والے لوگوں کے لئے الگ منصوبہ شروع کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے تھیلی سیمیا کی روک تھام کے لئے قانون سازی کا اعلان کرتے ہوئے شادی سے پہلے تھیلی سیمیا کے ٹسٹ لازمی قرار دینے کا عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ تھیلی سیمیا زندگی بھر کی ایک تکلیف دہ مرض ہے اور اس سے نئی نسل کو بچانے کے لئے مؤثر قانون سازی وقت کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ہسپتالوں میں تھیلی سیمیا وارڈاور بلڈ بنک کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اس سلسلے میں سیکرٹری صحت، صحت کے ماہرین اور رفاہی اداروں کے نمائندوں پر مشتمل اجلاس بلانے کا یقین دلایا۔ انہوں نے کانفرنس کے شرکاء کو تھیلی سیمیا کی روک تھام کے لئے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔

پشاور( سٹاف رپورٹر) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے صوبے میں موجود جنگلات سے قانونی طور پر کاٹی گئی لکڑی کے فروخت کے عمل کو تیز کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ اس آمدنی کے ساتھ عوام کو سستے داموں لکڑی مہیا ہو سکے۔ وہ آج وزیر اعلیٰ ہاؤس میں گرین پالیسی پر عمل در آمد کے بارے میں ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے ما حولیات و جنگلات اشتیاق ارمڑ، سپیشل سیکرٹری جنگلات ضیاء الحق اور چیف کنزرویٹر محمد صدیق خان خٹک نے شرکت کی۔ سابق صوبائی وزیر یوسف ترند بھی موقع پر موجود تھے۔ اجلاس میں وزیر اعلیٰ کو 2003پالیسی کے تحت قانونی طور پر جنگلات سے کاٹی گئی لکڑی کی نقل و حمل اور فروخت کے بارے میں پیش رفت سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ اس وقت صوبے میں 33 لاکھ مکعب فٹ لکڑی موجود ہے جس کو باقاعدہ کمیٹی نے پاس کیا ہے۔ اسی طرح 20 لاکھ مکعب فٹ لکڑی مارکیٹ پہنچ گئی ہے جبکہ 5لاکھ فٹ لکڑی فروخت کی گئی ہے جس سے 700ملین روپے کی آمدنی ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ سے صوبے میں موجودہ لکڑی کی فروخت کے طریق کار کی سست روی کا نوٹس لیتے ہوئے فروخت کے عمل کو تیز کرنے اور اپریل تک تمام لکڑی فروخت کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس سلسلے میں مزید تساہل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے موجود لکڑی ٹھکانے لگانے کے لئے منصوبہ ایک ہفتے کے اندر پیش کرنے کا حکم دیا۔ اجلاس کو جنگلات کے انتظام و انصرام کے لئے ورکنگ پلان کی تیاری کے بارے میں بتایا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ جنگلات کی کٹائی اور فروغ کے لئے 42پلان کی تیاری کے ہدف میں سے 18اب تک مکمل کئے گئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے جنگلات کے فروغ کے لئے منصوبوں کی جلد تشکیل اور اس پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اس سلسلے میں ہر ہفتے منصوبوں کی تیاری کے عمل کا جائزہ لینے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ضلع کی سطح پر جنگلات سے متعلق لوگوں کو اعتماد میں لینے اور جنگلات کی کٹائی کے نہ ہونے سے ان کو درپیش مسائل حل کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے اس سلسلے میں ہر ضلع کے لئے ٹیم تشکیل دینے کا بھی حکم دیا۔ وزیر اعلیٰ نے محکمہ جنگلات کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے جنگلات کے تحفظ کے لئے اس کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -