22اگست کی تقریر سے کوئی تعلق نہیں، متحدہ رہنماؤں کا عدالت میں وجواب

22اگست کی تقریر سے کوئی تعلق نہیں، متحدہ رہنماؤں کا عدالت میں وجواب

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر) ایم کیوایم پاکستان کے رہنماؤں نے سندھ ہائی کورٹ میں جواب جمع کرادیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ملک کے خلاف بات کرنے والوں کی حمایت نہیں کرسکتے اور 22 اگست کی تقریر سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔منگل کوسندھ ہائی کورٹ میں بانی ایم کیو ایم کی ملک مخالف تقریر اور متحدہ قومی موومنٹ پر پابندی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس میں درخواست گزار مولوی اقبال حیدر نے موقف اختیار کیا کہ بانی ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم ایک منصوبہ بندی کے تحت ملک توڑنا چاہتے ہیں، تمام منتخب نمائندوں نے الطاف حسین سے تاحیات وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے، جس دن تقریر ہوئی سارے پارٹی رہنما بشمول فاروق ستار سہولت فراہم کر رہے تھے، جب ایم کیوایم کے خلاف اقدامات اور پکڑ دھکڑ ہوئی تو لندن سے بیان آگیا جس میں ایم کیو ایم بانی اور قائد نے پارٹی بچانے کے لیے اختیارات ڈاکٹر فاروق ستار کے حوالے کردیے، حکمت عملی کے تحت الیکشن کمیشن کے معاملات ڈاکٹر فاروق ستار کے سپرد کردیے گئے تھے، اربوں روپے کا پارٹی فنڈ بھی پہلے سے فاروق ستار کے حوالے کردیا گیا لہذا متحدہ کے خلاف دہشت گردی اور سیکیورٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے پابندی عائد کی جائے۔سماعت کے دوران بیرسٹر فروغ نسیم نے ڈاکٹر فاروق ستار کی جانب سے تحریری جواب جمع کرادیا جس میں کہا گیا ہے کہ ایم کیوایم پاکستان کے رہنماں نے ارکان اسمبلی کی حیثیت سے آئین پاکستان اور ملک سے وفاداری کا حلف اٹھایا ہے، ہم محب وطن اور قانون پسند شہری ہیں، ملک کے خلاف بات کرنے والوں کی حمایت نہیں کرسکتے لہذا 22 اگست کی تقریر سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، اشتعال انگیز تقریر کے بعد لاتعلقی کا اعلان کرنا چاہتے تھے مگر رینجرز نے حراست میں لے لیا۔ہائی کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا کہ ہمیں عوام نے ووٹوں کے ذریعے منتخب کیا ہے، عوام کا اعتماد حاصل ہے، متحدہ قومی موومنٹ سندھ کی ایک بڑی جماعت ہے الیکشن کمیشن کی جانب سے متحدہ کو انتخابات میں انتخابی نشان بھی الاٹ کیا گیا ہے لہذا پابندی کی درخواست بلیک میلنگ اور ہراساں کرنے کے مترادف ہے اس کو مسترد کیا جائے۔ عدالت نے درخواست گزار کو جواب الجواب داخل کرنے کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -