پاکستانی قوم میں اب تک تبدیلی کا شعور نہیں آیا: ڈاکٹر طاہر القادری

پاکستانی قوم میں اب تک تبدیلی کا شعور نہیں آیا: ڈاکٹر طاہر القادری

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر ) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی سے منظور ہونے والا اقلیتی بل بے ضرورت ہے ۔ اس موقع پر ایسے بل کا آنا سوالیہ نشان ہے ۔ حکومت فوری طور پر اسے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیج دے ۔ پاکستانی قوم میں اب تک تبدیلی کا شعور نہیں آیا ہے ۔ ہم نے گولیاں کھا کر جانیں دے کر یہ دیکھ لیا ۔ عمران خان کے حالیہ احتجاج میں بھی قوم نہیں نکلی ۔ عوام میں تبدیلی کی ابھی تک ہوا نہیں چلی ہے ۔ پارلیمنٹ جمہوری ادارہ نہیں ہے ۔ ان سب کو کرپشن نے شکست دی ہے ۔ ہم سب من الحیث القوم بے حسی کا شکار ہیں ۔ جب ایسی کیفیت ہوتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے عذاب آتے ہیں ۔ کیا ملک میں تبدیلی نہ آنے کی وجہ میری بیرون ملک موجودگی ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے فوج نے اپنا 10 فیصد کام مکمل کر لیا اور سول حکومت 90 فیصد کام مکمل نہیں کر سکی ۔ ملک میں جمہوریت نہیں ہے ۔ صرف عمارت کے باہر پارلیمنٹ لکھنے سے جمہوریت نہیں آتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو خواجہ ہاؤس طارق میں میڈیا کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے کے موقع پر غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر ڈاکٹر طاہر القادری کے فرزند حسن محی الدین ، پاکستان عوامی تحریک کے رہنما خرم نواز گنڈا پور ، تحریک منہاج القرآن کے رہنما خواجہ شرف الاسلام اور دیگر بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ ایک طویل عرصے تک کراچی آنا ہوا ہے ، جس پر میں اہل کراچی سے معذرت کرتا ہوں ۔ کراچی میں نہ آنے کے کئی اسباب ہیں ۔ بنیادی سبب 10 سال سے بیرون ملک موجودگی مسلسل بیرونی سفر اور صرف مخصوص حالات میں پاکستان کے دورے پر آنا تھا ۔ گذشتہ چند سالوں کی آمد اور قیام مخصوص حالات میں رہا ہے ۔ سندھ اسمبلی سے اقلیتوں کے حوالے سے منظور ہونے والے بل کے ضمن میں کہا کہ میری سمجھ میں یہ نہیں آ رہا ہے کہ ایسا بل اس موقع پر پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ یہ بل بے موقع اور غیر ضروری ہے ۔ حکومت سندھ سے میں مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اس کو فوری طور پر اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیج دے اور اس کی سفارشات کی روشنی میں قانون سازی کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے کسی بھی ملک میں اس طرح مذہب کی تبدیلی پر پابندی کا کوئی قانون نہیں ہے بلکہ یورپ میں 15 سال عمر ہوتے ہی بچے عملاً خود مختار بن جاتے ہیں ۔ ان کو ڈرائیونگ لائسنس سمیت تمام قانونی دستاویزات فراہم کی جاتی ہیں ۔ اس سوال پر کہ ایک طویل عرصے سے آپ تبدیلی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن حالیہ چند برسوں میں آپ ملک میں مخصوص حالات میں آتے ہیں اور واپس چلے جاتے ہیں ۔ ایسا کیوں اور اس کے مقاصد کیا ہیں ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاکہ میں بیرون ملک دوروں پر رہتا ہوں اور تقریباً دنیا کے سارے ممالک جاتا ہوں ۔ کیا ملک میں تبدیلی میری ذات پر یہاں موجودگی سے مشروط ہیں ۔ بہت سارے لیڈر اس ملک میں ہی رہتے ہیں پھر وہ تبدیلی کیوں نہ لا سکے ۔ دراصل من الحیث القوم ہم بے حسی کا شکار ہیں ۔ ہم نے گذشتہ سالوں کوشش کی لیکن سوائے ہمارے کارکنوں کے کوئی باہر نہیں آیا ۔ ہمارے 14 کارکن جاں بحق ، 90 اور ایک ہزار کے قریب مقدمات بنے ۔ میرے کسی کارکن نے پیٹھ پر گولی نہیں کھائی ۔ ہم نے 2014 میں جس قسم کی جنگ لڑی ہے ، پاکستان کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ہے ۔ ہماری قربانی ہے لیکن بدقسمتی سے قوم باہر آنے کے لیے تیار نہیں ۔ حال ہی میں اسلام آباد میں قوم کو بلایا گیا لیکن کوئی شخس گھر سے نہیں نکلا ۔ قوم نکلتی تو جنگ جدل ہوتا ، لاٹھی چارج ہوتی ، ٹکراؤ ہوتا ، اس کے بعد بے شک اسلام آباد نہ پہنچتے لیکن یہ کہا جاتا کہ قوم نکلی ۔ یہاں پر تو کنٹینر دیکھ کر قوم خاموش رہی ۔ جب تک قوم تبدیلی کے لیے تیار نہ ہو کوئی تبدیلی ممکن نہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ملک میں گلو بٹوں کی حکومت ہے ۔ گلو بٹ کرپشن میں ملوث ہے ۔ اقتدا رپر بھی گلو بٹ اور کاروبار بھی گلو بٹوں کے پاس ہے ۔ ادارے بھی ان کے سامنے بے بس ہیں ۔ اس ملک میں کرپشن ایک طاقتور ادارہ بن چکا ہے اور حکمران کرپشن کے اصل معمار اور بانی ہیں ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ کرپشن کے سامنے پارلیمنٹ شکست کھا چکی ہے ۔ پولیس ، ایف آئی اے ، ایف بی آر ، اسٹیٹ بینک اور دیگر تمام ادارے کرپشن کے مددگار بن گئے ہیں ۔ ادارے رریاست کے نہیں رہے بلکہ یہ حکمرانوں کے سیاسی ادارے بن گئے ہیں ۔ عملاً ہم سب من الحیث القوم بے حس ہو چکے ہیں اور ایسی صورت حال اللہ تعالی کے عذاب کو دعوت دینے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اج تک میں نے جو بات کہی ہے ، اس کو کوئی غلط ثابت نہیں کر سکا اور نہ ہی مجھ پر کرپشن کا الزام لگا سکتا ہے ۔ میں نے حکمرانوں کی ملوں میں بھارتی جاسوسوں کی موجودگی کی بات کی لیکن کسی نے اب تک اس کا جواب نہیں دیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے طالبان ایک دہشت گردوں کا ٹولہ ، جو مختلف جرائم پیشہ عناصر پر مشتمل ہے ۔ اصل طالبان افغانستان کے ہیں ، جنہوں نے روس کے خلاف اپنے وطن کی آزادی کی جنگ لڑی ۔ القاعدہ بھی ایک دہشت گرد ٹولہ ہے ۔ اسی طرح اب داعش ایک بہت بڑا ٹولہ ہے ۔ اطلاع یہ ہے کہ وہ بھی اپنے قدم پاکستان میں جمانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ فوج نے اپنے حصے کا کام کیا ہے لیکن سول حکومت نہیں کر رہی ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان دو حصوں پر مشتمل تھا ۔ ایک حصہ فوج اور دوسرا سول حکومت کا ۔ فوج کے حصے میں جو 10 فیصد کام تھا ، وہ مکمل ہوا ہے لیکن سول حکمرانوں نے 90 فیصد کام میں سے کچھ بھی نہیں کیا ۔ نیشنل ایکشن پلان پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے فوج اور حکومت کو ایک پیج پر ہی آنا ہو گا ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کراچی آنے کا مقصد کوئی اور نہیں بلکہ صرف کراچی آ کر کراچی کے حالات کا جائزہ لینا ہے ۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہاکہ جان و مال کا تحفظ فراہم کرنا حکمرانوں کا کام ہے اور ہمارے معاشرے میں حکموتیں ناکام رہی ہیں ۔ یہ عملاً آئینی ناکامی ہے ۔ ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے ۔ الیکشن کا دن ایک دن کی مہم ہے ۔ بنی اسرائیل کی قوم اور بھیڑ بکریوں کی طرح ہم یہاں آتے ہیں اور سرگرم ہو جاتے ہیں اس کے بعد ہمیں علم نہیں کہ کیا ہو رہا ہے ۔ کسی عمارت پر ایک بورڈ لگانے سے جمہوریت نہیں آتی ہے ۔ پارلیمنٹ میں بورڈ لگانے سے پارلیمنٹ نہیں بنتی ۔ اس کا کردار اور عمل اسے پارلیمنٹ بناتا ہے ۔ پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا دراصل کھاپا لگا ہوا ہے ۔ وہ اس کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ قانون ، نظام اور ادارے مراعاتی یافتہ طبقے کے لیے ہے ۔ پیمرا دراصل صحافتی دہشت گردی ہے ۔ میں اس کی مذمت کرتا ہوں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاناما لیکس مقدمے کا کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا ۔ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں ۔ جب فیصلہ ہو گا تو سب کے سامنے آئے گا ۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -