پشاور ہائیکورٹ بنوں بنچ ،محکمہ صحت کرک کے 15 ملازمین بحال

پشاور ہائیکورٹ بنوں بنچ ،محکمہ صحت کرک کے 15 ملازمین بحال

  

کرک (بیورورپورٹ) پشاور ہائی کورٹ کے بنوں بنچ نے ڈی جی ہیلتھ کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے محکمہ صحت کرک کے 15کلاس فور ملازمین بحال کر دئے ، فیصلہ آنے پر مرجھائے چہرے کھل اٹھے ،ڈیوٹیاں سنبھالنے کے بعد ویران وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال کی رونقیں پھر سے بحال ہو نگیں تفصیلات کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مظہر عالم میانخیل نے ہائی کورٹ بنوں بنچ میں دیگر ججز صاحبان کے ہمراہ کرک سے تعلق رکھنے والے محکمہ صحت کے 15کلاس فور ملازمین کی تعیناتیاں منسوخ کرائے جانے کے خلاف دائر رٹ پیٹشن کی سماعت کرتے ہوئے وکلاء کے دلائل کی روشنی میں ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے ان ملازمین کو نوکریوں پر بحال کرنے کا فیصلہ سنایا ہے سال 2014میں ان ملازمین کی تقرریاں منسوخ کی گئیں تھیں ملازمین اور ان کے ورثاء نے فیصلے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت عالیہ کا شکریہ ادا کیا ہے دوسری جانب سے ملازمین کی بحالی کے فیصلے سے عرصے سے ویران وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال کرک کی رونقیں پھر سے بحال ہونے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں واضح رہے کہ محکمہ صحت کی جانب سے ڈی ایچ او کرک فضل الہادی اور وومن اینڈ چلڈرن ہسپتال کرک کے نو تعینات ایم ایس ڈاکٹر فخر عالم عدالت میں پیش ہو ئے جبکہ نکالے جانے والے ملازم امجد اللہ و دیگر کی جانب سے کرک کے معروف نوجوان قانون دان ہارون الرشید ایڈووکیٹ نے دلائل دئے ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -