چیف سیکریٹری سند ھ سے نیشنل سیکیورٹی ورک شاپ کے وفد کی ملاقات

چیف سیکریٹری سند ھ سے نیشنل سیکیورٹی ورک شاپ کے وفد کی ملاقات

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)چیف سیکریٹری سند ھ رضوان میمن سے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کی طرف سے آرگنائز کی گئی نیشنل سیکیورٹی ورک شاپ- 18کے وفد نے وزیر اعلیٰ ہاؤس میں ملاقات کی ۔ملا قات میں سینیٹرز ، ایم این ایز ، میجرجنرل غلام قمر اور آرمی کے افسران شامل تھے ۔ جبکہ سندھ سے چیف سیکریٹری سندھ، آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری نوید کامران بلوچ ، ا یڈیشنل چیف سیکریٹری (ترقیات)محمد وسیم شامل تھے۔ ایک سوال کے جواب میں چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن نے کہاکہ کراچی میں 4 بڑے مسئلے ہیں جن میں قبضہ مافیا، صفائی ستھرائی ، دہشت گردی اور پانی کا مسئلہ شامل ہے۔انہوں نے کہاکہ محکمہ بلدیات کے منتخب نمائندے صفائی کے معاملات حل کرنے کے لئے بھر پور کام کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اس سلسلے میں کراچی کے میئر نے 100روزہ مہم کا بھی آغا ز کیاہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ کراچی کی اہم سڑکوں پر کام کا آغا ز ہو چکا ہے اور کچھ پر ہونے جا رہا ہے ،وزیراعلیٰ سندھ خود راتوں کو جاکر شہر کا دورہ کرتے ہیں اور شہر میں ہونے والے کاموں کا جائزہ بھی لیتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ رات کو دورے کے دوران پولیس اہلکاروں نے انہیں روک لیا تھا لیکن تعارف کر وانے پر چھوڑ دیا ۔ انہوں نے کہا صفائی کے لئے گا ڑیاں او رکچر ے اٹھانے کے انتظامات کئے جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کراچی میں زمینوں پر قبضوں کے لئے قبضہ مافیا متحرک تھی لیکن پولیس نے اس سلسلے میں سخت کارروائی کر کے قبضہ چھڑ وایا ۔ چیف سیکریٹری سندھ نے کہاکہ کراچی میں 17 سے 20ایکڑ زمینوں پر قبضہ تھا جو پولیس نے ان کے مالکان کو واپس کر وائیں ۔چیف سیکریٹری سندھ نے دہشت گردی سے متعلق سوال کے جواب میں کہاکہ 4ہزار پولیس اہلکار آرمی کی ٹریننگ حاصل کر رہے ہیں اور دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں ۔کرپشن سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے کہاکہ نیب ، اینٹی کرپشن اور اعلیٰ عدلیہ کرپشن کے خلاف کام کر رہی ہے اور سندھ حکومت کرپشن ختم کرنا چاہتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کراچی کا اہم مسئلہ اسٹریٹ کرائم تھا جو کافی حد تک کم ہو چکا ہے ۔ اے ڈی خواجہ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کراچی میں موٹر سائیکل چھیننے کی وارداتوں میں 17فیصد ، موبا ئل چھیننے کی وارداتوں میں 30فیصد کمی آئی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر ملزم پکڑے جاتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوتی تو وہ ضمانت پر رہا ہو جاتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ کراچی تقریباً 2کروڑ آبادی کا شہر ہے ۔ انہوں نے مزید کہاکہ اب اغواء برائے تاوان کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ اب تک 800پولیس افسران و اہلکاروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے اور اب تک 98 قتل فرقہ وارانہ بنیاد پر ہو چکے ہیں ۔ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ترقیات )نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ کراچی میں پانی کے مسائل حل کرنے کے لئے سندھ حکومت نے K-IVمنصوبہ شروع کیاہے اور اس سال 6بلین روپے خرچ کئے گئے ہیں اور دو سال کے اندر K-IV منصوبہ مکمل ہو جائے گا ۔ انہوں نے کہاکہ مٹھی میں 17بلین روپوں کی اسکیمیں جاری ہیں ۔انہوں نے کہاکہ تھر پارکر میں کم عمری میں شادیاں ہو جاتی ہیں جس سے بچوں کی پیدائش کا تناسب سب سے زیادہ ہے اور پیدائش گھر وں میں ہی ہوتی ہے جس سے بچوں میں انفیکشن پیدا ہو جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں صحت کی دیگر سہولیات کے علاوہ موبائل ہیلتھ سروسز بھی کام کر رہی ہیں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ سندھ حکومت کا عوام کی بھلائی کے لئے بینظیر بھٹو شہید یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام جاری ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ٹرانسپورٹ کی سہولیات کے لئے سندھ حکومت بہت سنجیدہ ہے اور اس کے لئے میگا پروجیکٹ پر کام جاری ہے جن میں گرین لائن منصوبہ ، بلیو لائن منصوبہ اور ریڈ لائن منصوبہ شامل ہے ۔بعد ازاں چیف سیکریٹری سندھ رضوان میمن نے میجر جنرل غلام قمر کو یاد گا ری شیلڈ پیش کی ۔ اس سے قبل چیف سیکریٹری سندھ رضوان میں نے نیشنل سیکیورٹی ورکشاپ۔18 کے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -