لنڈی کوتل میں بیوہ خاتون انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

لنڈی کوتل میں بیوہ خاتون انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور

  

خیبر ایجنسی (بیورورپورٹ )لنڈیکوتل میں پورا خاندان اپاہج ہے ، ایک بوڑھی بیوہ خاتون کے دوبیٹے ایک بیٹی مکمل اپاہج ہیں،ایک بیٹا میٹرک کے بعد ہاتھوں اور پاؤں سے معذور ، گھر کاواحد کفیل پانچ سال قبل ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گیا، دو بیٹیاں بیوہ بن کر انکے گھر پر بچوں سمیت بیٹھ کر بوجھ بن گئیں ، خدا کے سوا کوئی اسرا نہیں ،بیو ہ خاتون معمولی سامان گھروں میں جاکر فروخت کرکے بمشکل گھر چلا تی ہیں، 23افراد پر مشتمل خاندان کے پیٹ بھرنے والی خاتون بوڑھاپے سے نڈھال ہو چکی، یومیہ کروڑوں روپے آمدن والی تحصیل اور خیبر ایجنسی میں بیوہ خاتون پورے خاندان سمیت بھوک و افلاس میں زندگی گزارنے پر مجبور ،پولیٹکل انتظامیہ ماہانہ وظیفہ مقرر کریں اس مفلوج خاندان کی کفالت کا انتظام کرے ، سماجی کارکنوں اورعمائدین علاقہ کا مطالبہ ۔لنڈیکوتل کے علاقہ ولی خیل میں ایک بیو ہ خاتون دو معذوربیٹوں ، ایک معذور بیٹی ، دو بیوہ بیٹیوں سمیت پوتے اور پوتیوں پر مشتمل 23افراد کی واحد کفیل ہیں بیوہ خاتون نزدیک گھروں میں کام کاج کرکے اور کچھ سودہ سلف بیچ کر معذور بیٹوں اور بیٹیوں سمیت پوتے اور پوتیوں کے پیٹ پالتی ہیں بیوہ خاتون کا ایک چالیس سالہ بیٹا یو سف شیر ولد یوسف خان میٹرک کرنے کے بعد ہاتھوں اور پاؤں سے معذور ہو چکا ہے اور چلنے پھیرنے کے لئے بھی دوسروں کے سہارے کا محتاج ہے یو سف شیرنے میٹرک کے امتحان سے پہلے شادی کرکے انکے تین بیٹے اور دو بیٹاں ہیں جبکہ بیوہ خاتون کا دوسرا بیٹا ولایت شیر جو پا نچویں تک پڑھا ہے وہ بھی عمر بھر کیلئے معذور ہو چکاہے انکا ایک بیٹا ہے جبکہ بوڑھی خاتون کی ایک تیس سالہ بیٹی مزینہ بھی اپاہج ہو گئی ہے اور عمر بھر کیلئے معذور ہو گئی ہے بیو ہ خاتون کی دوبیٹوں کی شادی ہو گئی تھیں لیکن وہ بھی کچھ عرصہ بعد بیوہ بن کر اپنی ماں کے گھر بچوں سمیت بیٹھ گئیں ہیں جس سے ان کے گھر پر مذید بوجھ بن چکا ہے بیوہ خاتون کا ایک بیٹا جو ڈرائیوار تھا اور گھر کا واحد کفیل تھا وہ پانچ سال قبل ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گیا لیکن اب پو رے خاندان کی واحد کفیل بیو ہ خاتون ہیں جو نز دیک گھروں میں کام کا ج کرکے اپنے خاندان کا پیٹ پالتی ہیں بیو ہ خاتون کے مطابق انکے اپنے بچوں کے علاج پر ایسی کوئی جمع پونجی نہیں جو وہ خرچ کر کے ان کا علاج کر سکے انہوں نے کہا کہ واحد اسرا اللہ کی ذات ہیں انکے سوا کوئی نہیں بالغ بیٹے اور بیٹاں معذور ہو کر گھر پر بیٹھ گئیں ہیں جو ایک تکلیف دہ اور پریشان کن صورتحال سے دو چار ہیں ان حالات سے ان کے گھر کا پتہ چلتا ہے تاہم دوسری طرف خیبر ایجنسی اور باالخصوص لنڈی کوتل کی پولیٹیکل انتظامیہ روزانہ کروڑوں روپوں کے ساتھ کھیلتی ہیں اور ان کی توجہ بھی اس مجبور اور بے بس گھرانے کی طرف مبذول کرائی گئی ہے لیکن ان کو توفیق نہیں ملی کہ وہ اس لاچار گھر کے باشندوں کی مالی مدد کر سکے اور اسی طرح قبائلی باشندے اور منتخب نمائندے بھی ارب پتی ہیں تاہم ان کو ایسے معذور اور بے بس گھرانے کی مالی مدد کی کوئی فکر نہیں عمائدین علاقہ اور سماجی کارکنوں نے پولیٹیکل انتظامیہ اور منتخب نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ولی خیل خیبر کے اس بے یارو مدد گار خاندان کیلئے ماہانہ وظیفہ مقر ر کریں اور ان کی بھر پور مالی مدد کریں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -