تختیاں لگانے کی بجائے عملی اور ٹھوس اقدامات پر یقین رکھتے ہیں ، حیدر ہوتی

تختیاں لگانے کی بجائے عملی اور ٹھوس اقدامات پر یقین رکھتے ہیں ، حیدر ہوتی

  

 تخت بھائی(نامہ نگار) خیبر پختونخواہ کے سابقہ وزیر اعلیٰ اور عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر ایم این اے امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ عمران خان کے چوکیدار خانہ بدوش وزیر اعلیٰ پروزیر خٹک حقائق سے چشم پوشی کر کے اپنی تین سالہ خراب کارکردگی کا ملبہ ہم پر ڈالنے کی بجائے اپنی خراب عینک کا نمبر تبدیل کر لیں۔ ہم تختیاں لگانے کی بجائے عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے ضلع اور گھر کو جانے والی سڑک بھی میرے دور میں تعمیر کردہ ہے جن لوگوں کے بزرگوں نے پختون قوم کے ساتھ غداری کر کے انگریز سرکار سے خان بہادر کا اعزاز اور مراعات حاصل کیں آج وہ لوگ بھی قوم پرستی کا لبادہ اوڑھ کر پختون قوم کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں ۔ باچہ خان بابا نے پختون قوم کو فرنگی سامراج کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے 35سال تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر کے اصل پختون لیڈر ہونے کا ثبوت دیا اور آج پوری دنیا نے ان کے فلسفہ عدم تشدد کو تسلیم کر لیا ہے ۔ وہ تحصیل تخت بھائی جھنڈی کے علاقہ میر آمان کلے میں قومی وطن پارٹی PK-26کے سابقہ چیئرمین ظہور حسین مہمند کے خاندان اور سینکڑوں ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کے موقع پر منعقدہ جرگہ تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ جرگہ تقریب سے اے این پی ضلع مردان کے جنرل سیکرٹری حاجی لطیف الرحمان اور ظہور حسین مہمند نے بھی خطاب کیا ۔ اے این پی کے مرکزی رہنماء حاجی فاروق خان، ضلعی نائب صدر محمد ایوب یوسفزئی ، جائینٹ سیکرٹری جواد خان ٹکر، ملگری تنظیموں کے ڈسٹرکٹ کوارڈینیٹر میاں طاہر ایڈوکیٹ، تحصیل صدر ناصر خان، سینئر نائب صدر حاجی اویس خان، جنرل سیکرٹری حاجی عطاء اللہ، جائینٹ سیکرٹری سعید دیروی، نیشنل یوتھ PK-26کے آرگنائز ملک ارشاد خان مہمند، دامن کوہ کے صدر محمد اسرار ، یو سی جہانگیر آباد کے صدر ظاہر شاہ ، جنرل سیکرٹری امیر حسین وغیر بھی اس موقع پر مجبور تھے۔ جبکہ اس موقع پر ظہور حسین مہمند نے اپنے خاندان اور ساتھیوں ناظم شیر زمین خان سمیت، قومی وطن پارٹی کے آٹھ سابقہ یو سی عہدیداروں شیر حسن، عبد المالک مہمند، فہمید خان، سجاد خان، سردراز خان،جہانزیب، سلیم خلجی اور عبد اللہ وغیرہ نے اے این پی میں باضابطہ شمولیت کا اعلان کیا۔ امیر حیدر ہوتی نے کہا کہ آج جو لوگ قومی پرستی کا لیبل لگا کر پختون قوم کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے اباء و اجداد نے انگریز سرکار کے ساتھ پختون قوم کے سروں کا سودا کر کے خان بہادر کے خطابات اور مراعات حاصل کی جبکہ ایک بڑی سیاسی جماعت کی صوبائی صدارت سے ہٹانے پر اسے خیر آباد کہہ دیا جس نے انہیں شناخت دی۔ انہوں نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہمارے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگانے کے شوقین خانہ بدوش وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے تین سال میں صوبے اور عوامی کے لیے کچھ نہیں کیااور ہمارے منصوبوں پر اپنی تختیاں لگا کر عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے دور حکومت کے منظور کردہ منصوبے آج بھی جاری ہیں۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال پشاور کے لیے ہم نے 70کروڑ روپے کی قیمتی اراضی اور پانچ کروڑ روپے نقد دیئے اور عمران خان کے ساتھ اس کا افتتاح کیا۔ لیکن وزیر اعلیٰ پرویز خٹک حقیقت سے آنکھیں چرا کر اپنی ناکامی کا ملبہ ہم پر گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پختون قوم تختیاں لگانے کے شوقین اور قوم پرستی کا رونا رو نے والوں کی اصلیت جان چکی ہیں۔ جنہوں نے چار سدہ کے علاوہ کسی علاقے میں ترقی کی ایک اینٹ تک نہیں رکھی اور نہ ہی اپنے کارکن کو عزت دی جس کی وجہ سے پختون قوم ان سے بے زار ہو کر اے این پی کے سرخ جھنڈے تلے جمع ہو رہی ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -