”کمیشن بنائیں یا ہم خود فیصلہ دیں “سپریم کورٹ نے وکلاءکو اپنے موکلین سے جواب لینے کی ہدایت کے بعدپاناما کیس کی سماعت 9دسمبر تک ملتوی کردی

”کمیشن بنائیں یا ہم خود فیصلہ دیں “سپریم کورٹ نے وکلاءکو اپنے موکلین سے ...
”کمیشن بنائیں یا ہم خود فیصلہ دیں “سپریم کورٹ نے وکلاءکو اپنے موکلین سے جواب لینے کی ہدایت کے بعدپاناما کیس کی سماعت 9دسمبر تک ملتوی کردی

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں جوڈیشل کمیشن کے تشکیل کے حوالے سے فریقین کو جواب دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 9 دسمبر تک ملتوی کردی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے پاناما کیس کی آٹھویں باضابطہ سماعت کی اور فریقین کے دکلاءکو جوڈیشل کمیشن بنانے یا بینچ سے فیصلہ لینے کے حوالے سے اپنے موکلین سے مشاورت کر کے جواب پیش کرنے کی ہدایت کر تے ہوئے کیس کی مزید سماعت 9 دسمبر (جمعہ )صبح ساڑھے 9 بجے تک ملتوی کر دی۔

قطری اور شریف خاندان کے درمیان معاملہ کیسے شروع اور طے ہوا معلوم نہیں : وزیراعظم کے وکیل سلمان بٹ کا سپریم کورٹ میں موقف

سپریم کورٹ نے وزیرا عظم نوازشریف کے وکیل سلمان بٹ کے دلائل سننے کے بعد جوڈیشل کمیشن بنانے یا نہ بنانے کے حوالے سے فریقین کے رائے لینے کیلئے وکلاءکو ہدایت کی اور کہا ہے کہ عدالت کو بتایا جائے پاناما کیس پر جوڈیشل کمیشن بنایا جائے یا عدالت خود اس کیس کا فیصلہ کرے۔

چیف جسٹس نے وزیر اعظم نوازشریف کے وکیل سلمان بٹ سے پوچھا کہ کیاآپ سمجھتے ہیں نکا ت سن کر فیصلہ ہو سکتا ہے جس پر وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ دلائل سن کر فیصلہ نہیں ٰ ہو سکتا تاہم آرٹیکل 62اور 63کے تحت وزیراعظم کو نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا تو چیف جسٹس نے کہا کہ پھر ہم بحث کس لیے سن رہے ہیں ؟ آپ سے دستاویزا تکا پوچھیں تو کہتے ہیں کہ نیٹ سے لے لیں۔ہمیں کمیشن ہی بنانا ہے تو وقت کیوں ضائع کیا جا رہاہے ؟ اور بھی بہت سے گراﺅنڈ موجود ہیں۔

گجر پورہ میں نامعلوم ملزمان 3افراد پر تیزاب پھینک کر فرارہو گئے

عدالت نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کیلئے وکلاءکو موکلوں سے بات کر کے ادھے گھنٹے میں جواب دینے کا حکم دیدیا۔عدالت نے وکلاءکو ہدایت کی ہے کہ اپنے موکلوں سے پوچھ کر بتائیں کہ کمیشن بنائیں یا ہم خود فیصلہ کریں ؟آدھے گھنٹے کے وقفے کے بعد ٹی آئی کے وکیل نعیم بخاری عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اپنایا کہ ہمیں جوڈیشل کمیشن پر اعتراض نہیں مگر جن اداروں نے تحقیقات کرنی ہے ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے کیونکہ وہ وزیراعظم کے ماتحت ہیں تاہم ہمیں اس حوالے سے حتمی فیصلہ کرنے کیلئے وقت دیا جا ئے جس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیے کہ کسی پر کوئی دباو¿ نہیں ، اطمینان سے مشاور ت اور فیصلہ کریں۔شیخ رشید نے بھی جوڈیشل کمیشن کی تشکیل پر جواب دینے کیلے وقت مانگا جس کے بعد عدالت نے فریقین کو 2 دن کا وقت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کمیشن کوتمام اداروں کی معاونت حاصل ہو گی ۔ کمیشن سپریم کورٹ کے جج پرہی مشتمل ہو گا اور کمیشن کی رپور ٹ سپریم کورٹ کو پیش کی جائے گی۔ کمیشن تحریک انصاف کے الزامات پر ہی بنایا جائے گا کمیشن میں فریقین کو موقف کیلئے پورا موقع ملے گا ۔”پاناما لیکس کیس تحقیقاتی اداروں کی ناکامی ہے“۔ 

سلمان بٹ اپنے موکل وزیراعظم کے دفاع کیلئے خطرناک دلائل دے رہے ہیں : سپریم کورٹ کے ریمارکس

آج سماعت شروع ہوئی توجسٹس عظمت سعید شیخ نے وزیر اعظم کے وکیل سلمان بٹ سے اسفتسار کیا کہ مریم نواز کے گھر کا پتہ کیا ہے جس پر انہوں نے جواب دیا کہ مریم نواز جاتی امراءمیں رہتی ہیں جہاں خاندان کے دیگر افراد بھی رہائش پزید ہیںجس پر عدالت نے سوال کیا کہ رقم والد نے بیٹی کو تحفے میں دی پھر واپس کر دی جس پر وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ بیٹیوں کو سب لوگ تحائف دیتے ہیں تاہم بیٹی کو تحفے دینے سے وہ زیر کفالت نہیںہو جاتیں جس پر عدالت نے پوچھا کہ کیا جاتی امراءکی زمین مریم نواز کے نام پر ہے اور بتایا جائے کہ وزیرا عظم نے مریم نواز کیلئے زمین کب خریدی ۔ وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ اراضی 19اپریل 2011ءکو خریدی گئی ، مریم قانونی طور پر شوہر کے زیر کفالت ہیںنہ کہ والد کی اور انکی زرعی آمدن بھی ہے۔

وکیل سلمان بٹ نے عدلات کو بتایا کہ قانون کے مطابق وزیرا عظم مریم نوازکے گوشوارے ظاہر کرنے کے پابند نہیں ،بیٹی کو تحفے دینے سے وہ زیر کفالت نہیں ہو جاتیں جس پر جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ ابھی زیر کفالت ہونے کا معامہ باقی ہے ۔آپ یہ بتائیں کہ مریم کے اخراجات کہاں سے اور کیسے پورے ہوتے ہیں تو سلمان بٹ نے عدالت کو بتایا کہ مریم نواز کی زرعی آمد ن ہے تاہم تحریک انصاف نے واجبات اور اثاثوں کو مکس کر دیا جس پرعدالت نے کہا کہ گوشوارے کس طرح جمع ہوتے ہیں ۔مریم کے شوہر صفدر کی ملکیت 160کنال اراضی ہے ۔

پاناما کیس ہمارے وزیراعظم کا سکینڈل ہوتا تو پھانسی چڑھایا جا چکا ہوتا : بلاول بھٹو

عدالت نے کہا کہ پتہ دیکھ لیا ، آمدن کہاں سے آتی ہے اب یہ دیکھنا ہے ۔آمدن کا ذریعہ ٹیکس کے حوالے سے نہیں پوچھ رہے ۔ ریٹرنز کے مطابق مریم کی قابل ٹیکس آمدن صفر ہے ۔ مریم نے گوشواروں میں زرعی آمدن 21لاکھ اور سفری اخراجات 35لاکھ روپے ہیں ۔

عدالت نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ کمپنی کا ٹرسٹی ٹیکس ادا کرے جس پر سلمان بٹ نے کہا کہ آف شور کمپنیوں کو ٹیکس ادا نہیں کرنا پڑتا ۔ ٹیکس دینا ہوتا تو پھر شاید آف شور کمپنیاں ہی نہ ہوتیں ، ٹرسٹ ڈیڈ کو رجسٹر کرانے کی ضرورت نہیں ہوتی زبانی کلامی بھی ہو سکتی ہے جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ کیا برطانوی قانون کے مطابق ایسے ٹرسٹ ڈیڈ کی اجازت ہے جس پر وکیل نے موقف اپنایا کہ برطانوی قانون کے مطابق اسے ٹرسٹ ڈیڈ کی اجا زت ہے ۔

جسٹس جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ کچھ دستاویز ات کے مطابق مریم نواز کچھ کمپنیوں کی بینی فشری ہیں۔“ پاناما کیس میں وزیرا عظم کو جواب دینا ہو گا “۔نواز شریف ہمارے بھی وزیر اعظم او ر قابل احترام ہیں ۔وزیرا عظم نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کاروبار سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے ، کیا ہمیں اس انٹرویو کا ریکارڈ مل سکتا ہے تو سلمان بٹ نے جواب دیا کہ کیا 1980ءسے لیکر آج تک وزیرا عظم کے خاندان کا کھوج لگانا ہے ۔

 جسٹس کھوسہ نے کہا کہ کھوج لگانا مشکل ہے مگر عدالت میں سب کچھ آنا چاہیئے ۔تشنگی کی بنیاد پر کیس کا فیصلہ نہیں کر سکتے ، ٹکڑوں پر مشتمل کاغذات پر منتخب وزیرا عظم کو نااہل کردیں ؟ سیاست میں انتظار ہو سکتا ہے انصاف پر سمجھوتہ نہیں ۔پاناما معاملے میں تحقیقات ضروری ہیں ۔

جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ آپکے کیس میں منی ٹریل دبئی سے شروع ہو کر لندن جاتی ہے ، میڈیا اپنے کیس کا فیصلہ خود کرے ہم وہ فیصلہ کریں گے جو ہمارے سامنے معاملہ ہے ۔ میڈیا پر دیکھو تو لگتا ہے کسی اور کیس پر بات ہو رہی ہے ۔ عدالت میں دلائل کم اور میڈیا پر زیادہ دیے جاتے ہیں ۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ دستاویزات کا جائزہ لینے کیلئے کمیشن بنانا پڑیگا ۔کمیشن بنانے کے تمام آپشن کھلے ہیں ”۔ثبوت اور شواہد ریکارڈ کرنا ہمارا کا م نہیں “۔ زبانی ڈیڈ دستاویز کے برعکس ہو تو کیا حیثیت ہو گی ؟ مریم کے پا س نہ کوئی نوکری ہے نہ آمدن ، مریم کا ذریعہ آمدن زراعت ، والد اور بھائیوں سے تحفے لینا ہے ۔ موزیک فونسیکا کو ٹرسٹ ڈیڈ کا بتایا گیا تھا تو پھر کس بنیاد پر موزیک فونسیکا نے مریم نواز کو بینی فشری قرار دیا ۔وکیل نے کہا کہ ٹرسٹ ڈیڈ سے متعلق کسی کو ضرورت نہیں تھی۔ پاناما پیپر کی قانونی اور مصدقہ حیثیت نہیں ہے ۔پی ٹی آئی نے کہا دبئی مل کے واجبات 36ملین درہم تھے جبکہ نعیم بخاری نے کہا کہ بجلی کے واجبات 2ملین ہیں ، بجلی کے واجبات قسطوں میں ادا کیے ۔جسٹس کھوسہ نے پوچھا کہ اقساط میں رقم کس نے ادا کی تو وکیل سلمان بٹ نے بتایا کہ رقم طارق شفیع نے ادا کی جس پر عدالت نے مزید کہاکہ اگر مل خسارے میں تھی تو واجبات کیسے ادا کیے تو سلمان بٹ نے موقف اپنایا کہ 40سال پرانا ریکارڈ ہے کہاں سے لائیں ، دبئی کے بینک 5سال سے پرانا ریکارڈ نہیں رکھتے ۔”کیا پتہ چالیس سال قبل سکول کی کتنی فیس جمع کرائی “۔ 1999ءکے مارشل لاءکے بعد ہماری کمپنیوں کا ریکارڈ سیل کر کے قبضے میں لے لیا گیا تو عدالت نے ریمارکس دیے کہ سلمان بٹ اپنے موکل وزیرا عظم کے دفاع کیلئے خطرناک دلائل دے رہے ہیں ۔”آپ کا یہ موقف آپکے لیے خطرنا ک ثابت ہو سکتا ہے “۔

چیف جسٹس نے کہا کہ کمپنیاں ٹیکس بچانے کیلئے دستاویزات لے آتی ہیں مگر ادا شدہ اور اصل ٹیکس میں فرق ہو تا ہے ۔جو بھی معاہدے ہوتے ہیں وہ اصل مالیت پر ہوتے ہیں ، کروڑوں مالیت ظاہر کرنے والی کپنی کی اصل مالیت اربوں کی ہوتی ہے ۔جسٹس کھوسہ نے کہا کہ آج بھی فیصل آباد میں بڑی کمپنیوں میں اربوں کا کاروبار پرچیوں پر ہوتا ہے ، ایک عام آدمی کی زندگی کا ریکارڈ اور حیثیت اور کمپنی کا ریکارڈ مختلف حیثیت رکھتا ہے ۔

سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ پاناما پیپرز میں کہیں بھی وزاعظم کا نام نہیں آیا ، جس وقت وزیرا عظم کے بچے پڑھ رہے تھے اس وقت کار ریکارڈ کہاں سے لائیں ، قطری خاندان کے ساتھ معاملہ کیسے شروع اور طے ہوا معلوم نہیں ، جو ریکارڈ تھا پیش کر دیا جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں ریکارڈ پر وزیرا عظم کا بیان غلط ہے تو وکیل نے جواب دیا کہ وزیراعظم نے جو کہا سچ کہا تاہم شریف فیملی کے ہر کام کی ذمہ داری نوازشریف پر نہیں آتی ۔ اس زمانے میں کاروباری معاملات کیش پر چلتے تھے ۔ وزیرا عظم کی تقریر عدالتی بیان نہیں سیاسی تقریر تھی۔الثانی سے متعلق بات کا جواب حسین نواز کے وکیل دیں گے ۔

میاں شریف ہر کام اپنی مرضی سے کیا کرتے تھے لہذٰ اہو سکتا ہے دادا اورپوتے کے بارے میں بزنس کے معاملات کا نوازشریف کو علم ہو جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ آپ کہنا چاہتے ہیں دادا اورپوتے کے درمیان باتوں کا باپ کو علم نہیں تو وکیل نے جواب دیا کہ نوازشریف نے کسی دستاویز پر دستخط نہیں کیے ۔اگلی لائن یہ ہے کہ یہ وسائل حسن اور حسین نوا ز نے اپنے کاروبار کیلئے استعمال کیے تو جسٹس کھوسہ نے کہا کہ اگلی لائن بھی پڑھیں اسے شائد آپ نے خطرناک سمجھ کر چھوڑ دیا ۔

سلمان بٹ نے عدالت کو بتایا کہ فیکٹری کیلئے سعودی بینک سے قرض لیا گیا جو بعد میں فروخت کی گئی ۔وزیراعظم نے کہا مکہ میں کارخانہ لگایا جو جد ہ کی فیکٹری سے متعلق ہے ۔

جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ عوام کے سامنے کیوں کہا گیا تمام ریکارڈ موجود ہے اور سامنے بھی لائیں گے ۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ”جو بات عدالت میں کہہ رہے ہیں بہتر ہوتا عوام کے سامنے کہتے “۔ عدالت میں ثبوت کم اور میڈیا پر زیادہ دیے جاتے ہیں ۔

اپنے اطمینان کیلئے راجہ پرویز اشرف سے سوالات کرتے رہے ، انہیں توہین عدالت کیس میں بلوایا تو ان سے کہا کہ آپ وزیر اعظم ہیں

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عدالت کے پاس جو ریکارڈ ہے اس پر فیصلہ عدالت سنا دے گی تاہم ٹرک کی بتی کا فیصلہ میڈیا کردے گا ، میڈیا کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اس مقدمے کی نہیں اور کیس کی سماعت ہے ، فریقین جو عدالت میں بولتے ہیں باہر اس سے مختلف بولتے ہیں ۔

عدالت نے سماعت میں وقفہ کر دیا جس کے بعد سماعت دوبارہ شرو ع ہوئی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کیاآپ سمجھتے ہیں نکا ت سن کر فیصلہ ہو سکتا ہے جس پر وکیل سلمان بٹ نے کہا کہ دلائل سن کر فیصلہ نہیں ٰ ہو سکتا تاہم آرٹیکل 62اور 63کے تحت وزیراعظم کو نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا تو چیف جسٹس نے کہا کہ پھر ہم بحث کس لیے سن رہے ہیں ؟ آپ سے دستاویزا تکا پوچھیں تو کہتے ہیں کہ نیٹ سے لے لیں ۔ہمیں کمیشن ہی بنانا ہے تو وقت کیوں ضائع کیا جا رہاہے ؟ اور بھی بہت سے گراﺅنڈ موجود ہیں ۔

عدالت نے جوڈیشل کمیشن کے قیام کیلئے وکلاءکو موکلوں سے بات کر کے ادھے گھنٹے میں جواب دینے کا حکم دیدیا ۔عدالت نے وکلاءکو ہدایت کی ہے کہ اپنے موکلوں سے پوچھ کر بتائیں کہ کمیشن بنائیں یا ہم خود فیصلہ کریں ؟چاہتے ہیں آج کیس کی سماعت طے کی جائے ۔کمیشن کو مہنیوں کی تاریخ نہیں دیں گے ۔

جسٹس کھوسہ نے کہا کہ کھوج لگانا مشکل ہے مگر عدالت میں سب کچھ آنا چاہیئے ۔تشنگی کی بنیاد پر کیس کا فیصلہ نہیں کر سکتے ، ٹکڑوں پر مشتمل کاغذات پر منتخب وزیرا عظم کو نااہل کردیں ؟ سیاست میں انتظار ہو سکتا ہے انصاف پر سمجھوتہ نہیں ۔پاناما معاملے میں تحقیقات ضروری ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

قطری اور شریف خاندان کے درمیان معاملہ کیسے شروع اور طے ہوا معلوم نہیں : وزیراعظم کے وکیل سلمان بٹ کا سپریم کورٹ میں موقف

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) وزیر اعظم نوازشریف کے وکیل نے کہا ہے کہ قطری اور شریف خاندان کے درمیان معاملہ کیسے شروع اور طے ہوا معلوم نہیں ۔

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے انہوں نے عدالت کو بتایا کہ جو ریکارڈ تھا پیش کردیا ہے تاہم قطری خاندان کے ساتھ معاملہ کیسے شروع اور طے ہوا معلوم نہیں ہے ۔ جس پر عدالت نے کہا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں ریکارڈ پر وزیر اعظم کا بیان غلط ہے تو وکیل نے جواب دیا کہ وزیراعظم نے جو کہا سچ کہا تاہم وزیرا عظم کی تقریر عدالتی بیان نہیں سیاسی تقریر تھی۔الثانی سے متعلق بات کا جواب حسین نواز کے وکیل دیں گے ۔

جسٹس کھوسہ نے ریمارکس دیے کہ عوام کے سامنے کیوں کہا گیا تمام ریکارڈ موجود ہے اور سامنے بھیلائیں گے ۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ”جو بات عدالت میں کہہ رہے ہیں بہتر ہوتا عوام کے سامنے کہتے “۔

عظمت سعید شیخ نے کہا کہ آف شور کمپنیوں کی ملکیت تسلیم شدہ ہے ، منورہ ہولڈنگ کی دستاویزات پوچھ پوچھ کر تھک گئے ہیں ۔سیاست میں انتظار ہو سکتا ہے انصاف پر سمجھوتہ نہیں ۔ حساب خلاف گیا تو مشکل نہیں ہو گی ۔عدالت نے وزیر اعظم کے وکیل سلمان بٹ کے دلائل سننے کے بعد سماعت ملتوی کردی۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -