ہم عورت کوذمہ دار فرد سمجھتے پر تیار نہیں!

ہم عورت کوذمہ دار فرد سمجھتے پر تیار نہیں!
ہم عورت کوذمہ دار فرد سمجھتے پر تیار نہیں!

  

پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کی شرح میں اضافہ ذی شعور شہریوں کے لئے پریشانی کا باعث بنتا جارہا ہے۔ جس کی فی الفور روک تھام انتہائی ضروری ہے۔غیرت کے نام پر قتل کو بند کرنے لئے بل مُسلم لیگ ن کی حکومت نے حال ہی میں اسمبلی میں پاس کیا ہے۔ جو کہ محترمہ مریم نواز کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ہم اُن کے اِس تعمیری کام کے لئے اُن کو داد دیتے ہیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ گُزارش بھی کریں گے کہ قا نوں کا پارلیمنٹ میں پاس ہونا بڑی اچھی بات ہے لیکن اِس پر عمل درآمد کرانا سب سے بڑی بات ہے۔ اِ س کے لئے ضروری ہے کہ وُہ خود خاتون ہیں اور خواتین کے مسائل کو اچھی طرح جانتی ہیں لہذا وُہ اِن وسائل کی وکالت اور نشاندہی بھر پُور انداز میں کر سکتی ہیں۔

پچھلے تین سال کے اعداد و شمار پر سر سری نظر ڈالی جائے تو یہ حیرت انگیز انکشاف سامنے آتا ہے کہ تین سال کی قلیل مُدت میں پاکستان میں تقریباً دو ہزار عورتوں کو غیر ت کے نام پر قتل کر دیا گیا۔ بیشک، غیرت کے نام پر قتل پاکستان میں کوئی نئی بات نہیں لیکن گذشتہ تین سالوں میں اضافہ مُلک و قوم کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔ حقوق نسواں کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زیادہ قتل غلط فہمی اور تعلیم کی کمی کے باعث ہوتے ہیں۔ حکومت اُنکو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن عوام کی جانب سے تعاون نہیں ملتا۔ لوگ ایسے واقعات کی رپورٹ پولیس میں درج نہیں کرواتے ۔ عوام کی عدم دلچسپی کے باعث پولیس درست انداز میں تفتیش کرنے سے قاصر رہتی ہے۔

پاکستان میں عورت فاؤنڈیشن نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ ہر سال تقریباً ایک ہزار عورتیں پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کر دی جاتی ہیں اور اُنکے قاتل اپنے اثرو رسوخ کیوجہ سے قتل کے جُرم سے بچ جاتے ہیں۔ کیونکہ پاکستان میں عورت کو مساوی درجہ دینے پر ہمارا سماج تیار نہیں۔ ہمارے نزدیک عورت مر د کی جنسی تسکین اور او لاد پیدا کرنے والی ایک جنس ہے۔ جس کو مرد اپنی انا کی خاطر ہر شعبۂ زندگی میں کم تر درجے پر رکھنا چاہتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں عورت کا استحصال کئی طریقوں سے کیا جاتا ہے۔ عورت کو محکوم رکھنے کے لئے اُس کو تعلیم کے زیور سے جان بوجھ کر محروم رکھا جاتا ہے۔ معاشی طور پر عورت کو اَس طرح اُلجھا دیا جاتا ہے کہ اُسکے لئے گھر سے باہر جا کر کام کرنا باعث ذلت بنا دیا جاتا ہے۔ اور اگر وُہ خُدانخوستہ کسی وجہ سے بھی اچھی مُلازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اُس کی حوصلہ شکنی کے لئے کئی بہانے تراشے جاتے ہیں۔ اُسکو باور کروایا جاتا ہے کہ ایک عورت کے طور پر تہمارا کام صرف اولاد پیدا دکرنا، مرد کی جنسی تسکین کے لئے تیار رہنا ، بچوں کی پرورش کرنا او ر گھرکے کام کاج میں مُصروف رہنا ہے۔ اُس کو یہ باور کرویا جاتا ہے کہ اُسکی اپنی کوئی شناخت نہیں اور نہ ہی اُسکو اپنی خواہش پوری کرنا کا حق حاصل ہے۔ بد قسمتی سے یہی طرز عمل پاکستان کے ہر طبقہ میں پایا جاتا ہے۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ ہم لوگ عورت کی عزت کرنے کے بجائے خو د اُسکو اپنے ہاتھوں سے ذلیل کرتے ہیں۔ اِس حقیقت سے کو در خور اعتنا نہیں سمجھا جاتا کہ عورت بھی ایک انسان ہے۔ وُہ بھی کس کی بہن، بیوی یا ماں ہے۔ کوئی شخص بھی الزام لگانے سے پہلے اُسکی چھان بین کرنا مُناسب نہیں سمجھتا۔ اگر چہ الزام غلط بھی ہو، تو بھی عورت معاشرے میں بد نام ہو جاتی ہے۔ وُہ اپنے گھر میں ہی عزت گنوا دیتی ہے۔ گھر سے باہر بھی منُہ نہیں دکھا سکتی۔ ہمار معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ مرد برائی کا ارتکاب کر ہی نہیں سکتابلکہ معاشرے میں بُرائی کی جڑ عورت ہے۔

بد قسمتی سے عورت کے حقوق کے تحفظ کے لئے جتنی بھی تنظمیں میں پاکستان میں موجود ہیں اُنکی حکومت کے اداروں تک رسائی بھی بہت محدود ہے۔ پارلیمنٹ میں جو بِل تجویز کیا جاتا ہے، اُس کے متن کو پارلیمنٹ میں پیش کرتے وقت انتظامیہ مُختلف بہانوں سے بدل دیتی ہے۔ چونکہ اسمبلی میں بِل پا س کروانے کے لئے مرد حضرات کی ضرورت ہوتی ہے لہذا کوئی بھی بِل متفقہ عورتوں کے حقوق کی مکمل طور پر حفاظت نہیں کرتا۔ بلکہ بعض مبصرین کے مُطابق جنرل ضیاء کے دور حکومت میں عورت کے یکسر ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ عورتوں کو مرد کے ساتھ کام کرنے پا پندی لگانے کی کوشش کی گئی۔ اشتہارات سے عورتوں کو غائب کرنے کی عمداً سعی کی گئی۔ کالج میں جبراً پردہ کروانے کی پابندی نا فذ کر نے کی کوشش کی گئی۔ حتی ٰ کے کھیل کے میدان میں بھی عورتوں کو تعصب کا نشانہ بنا یا گیا۔ اُن کے لئے شرط رکھ گئی کہ وُہ عورتوں کے سامنے ہی اپنے کھیل کا مظاہرہ کر سکتی ہیں۔ الغر ض عورت کو ہر طرح سے کم تر ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ۔

ہم سب کے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ کیا ہم عورت کیساتھ انصاف کر رہے ہیں؟ کیا ہم عورت کو ایک ذمہ دار فرد کے طور پر قبول کرنے کے لئے تیار ہیں؟ کیا ایک متعلم معاشرے میں عورتوں کے ساتھ جانوروں جیسا سُلوک ہونا چاہئے؟ اِس میں کوئی شک نہیں کہ حکومت نے عورتوں کے حقوق کو محفوظ بنانے کے لئے کُچھ قو ا نیں بنائے ہیں لیکن بد قسمتی سے وُہ دکھاوے کے لئے بنائے گئے ہیں تاکہ ہم بین الاقوامی طور پر دوسرے لوگوں کو دکھا سکیں کہ ہم عورت کو معاشرے میں برابر کے حقوق دیتے ہیں۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ عورت فاؤنڈیشن کی تحقیق کے مُطابق، پولیس، وکلاء برادری اور عدلیہ کے محترم جج صاحبان بھی عورتوں کے حقوق کے بارے تفصیلی علم نہیں رکھتے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنی عورتوں پر ظُلم کرکے یا اُنکے حقوق سُلب کرکے خوش و خرم زندگی کی تمنا کر سکتے ہیں؟ بالکل نہیں۔ سکھیُ گھرانے کے لئے باہیمی اعتماد کا ہو نا ضروری ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کہ بہتر تعلیم دے سکیں تو ہمیں اُنکی ماؤوں کو بہتر تعلیم دینی ہوگی۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

.

مزید :

بلاگ -