ہم کو بھی اک کاسترو چاہیے

ہم کو بھی اک کاسترو چاہیے
ہم کو بھی اک کاسترو چاہیے

  

تحریر: میاں عمران احمد

اس نے کرپشن کے خلاف سخت سزائیں مختص کیں اور دنیا کی کرپٹ ترین ریاست کو خوش حال ریاست میں بدل دیا۔ اس نے عوام کو یقین دلایا کہ ان کا پیسہ ریاست کے پاس امانت ہے اور وہ اس امانت میں خیانت نہیں کرے گا۔اس نے ایسی مثالیں قائم کیں کہ لوگ اس کے مرنے کے بعد بھی اسے اپنا لیڈر اور واحد مشکل کشا مانتے ہیں ۔اس نے حابونوس کے کمرشل وائس پریزیڈنٹ اور اس کے 13ساتھیوں کو سگارکی خرید و فروخت میں کرپشن کے الزامات میں 15سال کی قید کی سزادلوائی۔وزیر خوراک کو پھلوں کے جوسز اور دودھ میں کرپشن کے الزام میں 15سال کی قید بامشقت کی سزادلوائی ۔روجیلیوں ایکویڈیوجو کہ اس کا دوست اور 1959 انقلا ب کا خاص حصہ تھا، کو ہوائی جہاز بغیر اجازت لیز پر دینے کے الزام میں عہدے سے ہٹادیا گیا۔میکس میرنڈیو جو کہ اس کا قریبی دوست تھا، کو کرپشن کے الزام میں 20سال کی قید بامشقت کی سزا دلوائی ۔وزیر داخلہ اور اس کے 6ساتھیوں کو اختیارات ،سرکاری خزانے کے غلط استعمال اور کولمبیا کے ساتھ منشیات فروشی کے الزام میں 20سال کی قید بامشقت کی سزاہوئی اور اس کی موت بھی جیل میں ہی واقع ہوئی۔اس کے علاوہ بے شمار سرکاری افسروں کو کرپشن کے الزام میں عہدوں سے ہٹایا گیا،گرفتار کیاگیا اور سخت ترین سزائیں دی گئیں۔ان فیصلوں کی بدولت ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل 2015کی رپورٹ کے مطابق کیوبا کرپشن کے لحا ظ سے دنیا کے 175ممالک میں 43ویں نمبر پر ہے اور یہاں کرپشن صر ف4.3فیصد رہ گئی ہے جو کہ دنیا کے بہت سے ترقی یافتہ ممالک سے بہتر ہے۔۔۔۔یہ کیوبا کے ناقابل شکست ڈکٹیٹر اورکمیونیزم رہنما فیدل کاسترو کے کیوبامیں کرپشن کیخلاف اقدامات کی چھوٹی سی کہانی ہے۔

آ پ ان حقائق کو سامنے رکھیں اور ان کا موازنہ پاکستان میں ہونے والی کرپشن اور اس کرپشن پر دی گئی سزاؤں سے کریں تو آپ کو فیدل کاستروکو پاکستان کا نجات دہندہ ماننے اور ملکِ پاکستان میں غربت ،بے روزگار ی،چوری ،ڈکیتی ،اغواء برائے تاوان کی وجوہا ت اور پاکستان کے زوال کے اسباب جاننے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔آپ شرم کا مقام دیکھیں کہ ہماری پارلیمنٹ نے 5سال تک آصف علی زرداری کو پاکستان کا صدر بنائے رکھا جس کی وجہ شہرت صرف کرپشن اور مسٹر 10فیصد تھی ۔ہمارے وزیر اعلیٰ پنجاب میٹروبس کا 10 ارب کا منصوبہ30ارب میں مکمل کرتے ہیں اور چند ہی دنوں بعد اس کا سارا ریکارڈ جلادیا جاتا ہے۔آپ ہماری بدقسمتی ملاحظہ کیجئے کہ نندی پور پاور پروجیکٹ پر58ارب روپے خرچ ہوتے ہیں لیکن وہ ایک میگاواٹ بجلی بھی قوم کو نہیں دے پاتا اور جب اس معاملے کی تحقیق کرنے کی کوشش کی گئی تو وہاں بھی سارا ریکارڈ خودبخود جل گیا۔اب اورنج لائن منصوبہ زیر تعمیر ہے اور مجھے یقین ہے کہ اگلے الیکشن سے پہلے پہلے اس کے ریکارڈ کو بھی کوئی نہ کوئی آگ لگاجائے گااورملک پاکستان کی 26خفیہ ایجنسیاں ،پولیس کا محکمہ اور آزاد میڈیا اس بات کا پتہ نہیں لگاسکے گا کہ یہ آگ حکومت نے لگائی ہے؟یہ اپوزیشن کی کارستانی ہے یا کسی ملک دشمن ایجنٹ کی سازش؟

آپ کرپشن کی حالیہ مثال لے لیجئے حکومت نے پی آئی اے کا اے ون 30طیارہ بغیر ٹینڈر اور کوئی اشتہار دیے تمام سرکاری اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے راتوں رات صرف 57لاکھ میں بیچ دیا ہے جس کے صرف ڈھانچے کی قیمت 70لاکھ روپے تھی اور جب حکومت سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو زبیر عمر نے دھڑلے سے میڈیا پر آکر جواب دیا کہ جہاز 30سال پرانا تھا اس کے لیے ٹینڈر کی کیا ضرور ت ہے۔زبیر عمر نے اتنی دیدہ دلیری سے یہ بیان میڈیاپر آکر صرف اس لیے دے دیا کیونکہ ہمارے ملک میں فیدل کاسترو جیسے ایماندر،بہادر اور دیانت دار لیڈر کی بجائے ایک ایسا شخص حاکم وقت ہے جس کے دامن پر کرپشن کے داغ ہیں ۔جس کا پورا خاندان ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے سامنے کرپشن کیس کے ٹرائل پر ہے ۔جو بیرون ملک جائیدادوں کاپہلے انکار کرتا ہے اورپھر اقرارکرتا ہے۔جو کرپشن چھپانے کے لیے کبھی قطری شہزادے کا خط لے آتا ہے اور کبھی کوئی ٹرسٹ ڈیڈ ۔وہ عدالتی حکم کے باوجود اپنی شوگر ملیں جنوبی پنجاب میں منتقل کر دیتا ہے ۔ جس کی اولاد بیرون ملک جائیدادوں سے پہلے انکار کرتی ہے اور پھر سپریم کورٹ کے سامنے ان جائیدادوں کو اپنا تسلیم کر لیتی ہے۔اورہمارے حکمرانوں کے اسی رویے کی بدولت آج پاکستان کرپشن کے لحاظ سے دنیا کے 175ممالک میں سے 127ویں جبکہ کیو با دیانت دار حکمران کی بدولت 43ویں نمبر پر ہے ۔قابل رحم بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران کرپشن کے پیسے کو گناہ ،دوزخ کی آگ اورقبرکاعذاب سمجھنے کی بجائے اس پیسے کو اپنا جائز حق سمجھتے ہیں اورجب حکمران رشوت کے پیسے کو اپنا حق ،لوٹ مارکے مال کو اپنی خوش قسمتی اور بیواؤںیتیموں کا حق مارنے کو اپنا منافع سمجھتے ہوں تو ان حکمرانوں کو عبرت کا نشان بنتے زیادہ دیر نہیں لگتی ۔ہمیں آج یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم نے بے حس ،کرپٹ اور مردہ ضمیر لوگوں کو ملکِ پاکستان کا حاکم مقرر کرنا ہے یافیدل کاسترو جیسے رحم دل ،دیانت دار اورباضمیر لوگوں کو پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا اختیار دینا ہے اور اگر آج ہم نے یہ فیصلہ نہ کیا تو وہ وقت دور نہیں جب ہماری آنے والی نسلیں ہمیں کوسیں گی اور ہم دنیا میں اپنی شناخت تک کھوبیٹھیں گے ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

مزید :

بلاگ -