وی آئی پی پروٹو کول

وی آئی پی پروٹو کول
وی آئی پی پروٹو کول

  

ٓآپ کو کبھی وی آئی پی قافلے میں سفر کا موقع ملا ہے؟ آگے ڈی سی صاحب کی گاڑی کردیں۔ نئے ماڈل کی ایک جاپانی یا جرمن لگژری کار کی پچھلی سیٹ پر وی۔آئی۔پی بیٹھتے ہیں۔ اس کے پیچھے ایس۔پی صاحب کی گاڑی۔ پھر سٹاف کی دوتین جیپیں اور آخر میں پولیس کی پک اپ ۔ کبھی کبھار تو درجن سے زائد گاڑیاں قافلے میں شامل ہوتی ہیں۔ ا ک شہر سے دوسرے شہر جانا ہو تو ہوائی جہاز کی بزنس کلاس سے زیادہ یہ وی۔آئی۔پی قافلے کی سواری کا اپنا ہی مزہ ہے۔ جہاں جہاں سے یہ قافلہ گزرتا ہے اپنے پیچھے دھول اور دھوئیں کا ایک غبار چھوڑتا جاتا ہے۔ سڑک پر پیدل چلنے والے آنکھیں مسل مسل کر ایک دوسرے کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ کون صاحب گزرے ہیں جی یہ؟ اکثر معلوم نہیں پڑتا کہ کون گزر گیا۔ کوئی بڑا آدمی گزرا ہوگا۔ اس قافلے میں سفر کرنے کا اپنا نشہ ہے۔ سیاستدان برسوں بلکہ ساری ساری زندگی اس قافلے کی خاطر رسا کشی نہیں کرتے کیا؟ نشہ کرنیوالا شخص چور چکاری اور لوٹ کھسوٹ پر اتر آتا ہے۔ جھوٹ بولتا ہے۔ غنڈہ گردی کرتا ہے۔سنا ہے نشہ بری چیز ہے۔

عجیب ملک ہے یہ ناروے ۔ سولہ برس ہوے نہ کوئی وی آئی پی قافلہ دیکھا۔ نہ سڑک بلاک ہوتے دیکھی۔ نہ گاڑیوں کے ہارن اور ہوٹرز دیکھے۔ بوریت سی ہوجاتی ہے۔ ہم تو کبھی کبھی وہ ہوٹرز اور سڑکوں کے بلاک ہونے اور مسافروں اور گاڑیوں کی لمبی قطار مس کرتے ہیںَ۔ بیچارے لوگ پیسنے میں شرابور ، مریضوں کی سانسیں چڑی ہوئی۔ روتے بلکتے بچے۔ خواتین خوفزدہ ، پوچھتے ہیں کیا مسلہ ہے بھئی۔ سمجھدار لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ روڈ بلاک ہے کوئی بڑا آدمی گزر رہا ہے۔

اب ایسا بھی نہیں ہے کہ ناروے میں بڑے لوگ ناپید ہیں۔ لیکن ان کی وجہ سے عوام کو براے راست نہ کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔ نہ کوئی نقصان۔ اور نہ ہی وہ اپنے محکمے اور سیاسی پارٹی کی پالیسی لائینز سے ہٹ کر کچھ کرسکتے ہیںَ۔نا تو قانون توڑ سکتے ہیں اور نہ ہی سفارش کرسکتے ہیں۔ قانون سے اسی طرح خوف زدہ رہتے ہیں جیسے کوئی بھی عام آدمی۔ شاید اسی لیے انہیں کسی بھی عام آدمی سے کوئی خطرہ نہیں ہوتا ۔اور نہ ہی وہ عام لوگوں سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ شہر کی سڑکوں پر عوام کے اندر سائیکل چلانے سے نہیں گھبراتے۔پھر یہ بڑے لوگ تو نہ ہوے نا۔

ہمیں کیوں لگتا ہے نظام تعمیر کرنا پڑتا ہے ایک عمارت کی طرح، چنانچہ یہ کہنا کہ نظام بدلنا ہوگا درست نہیں ہے۔اس کے بجاے یہ کہنا کہ نظا بنانا ہوگا یا تعمیر کرنا ہوگا درست اصطلاح لگتی ہے۔ کسی چیز کو بدلنا کافی آسان ہے اسے بنانا یا تعمیر کرنا ایک مہنگا، محنت طلب اور صبر آزما کام ہے۔ ایک عمارت کھڑی کرنے کے لوازمات اور عمل کو ہی دیکھیے، اس میں کتنی لیبر، کتنا تعمیری سامان اور کتنے تعمیر کرنے والے ضرورت پڑ سکتے ہیںَ ان تعمیر کرنے والوں کا ہنر ، تجربہ کس قدر اہمیت رکھتاہے؟ اس لیے نظام بدلنے کی تو بات ہی نہ کریں۔ نظام تعمیر کرنے کی بات کریں۔ اور ہاں ایک ہے نظام، دوسرا ہے اس نظام میں رہ کر کام کرنا۔ ان دو اصطلاحوں کو آپس میں کنفیوز کرنا بھی درست نہیں لگتا۔ ہم کوشش کرتے ہیں اپنا مدعا کھل کر بیان کریں۔ تحریر ناقدانہ ہے۔ ہمارے لیے سارے وی۔آئی۔پیز قابل قدر اور محترم ہیں۔ ہماری تحریر نظام سے متعلق ہے۔ وی۔آئی۔پیز ہمارے سر آنکھوں پر۔

ناروے میں سرخ رنگ کی بسیں اندروں شہر بطور پبلک ٹرانسپورٹ چلتی ہیںَ۔ یہ بس اسلو شہر کے اندر ایک روٹ پر چلتی ہے۔ بس میں کافی رش ہے۔ساری سیٹوں پر سواریاں تشریف رکھتی ہیں۔ کچھ مسافر چھت کے ساتھ لگے راڈ کو پکڑ کر کھڑے ہیں۔اگر کوئی سیٹ خالی ہوگی تو ان کھڑے مسافروں میں سے سیٹ کے قریب ترین والا مسافر سیٹ پر بیٹھ جاے گا۔صبح آٹھ بجنے میں پانچ منٹ باقی ہیں۔ بس ناروے کی پارلیمنٹ کے سامنے رکتی ہے اور دو تین مسافر اترتے ہیں اور کچھ سوار ہوتے ہیں۔ان میں ایک خاتون ممبر پارلیمنٹ بھی ہیں۔ ناروے کی ممبر پارلیمنٹ بس کی چھت کے ساتھ لگے راڈ کو پکڑ کر کھڑی ہوگئی ہیں۔ محترمہ نے پانچ منٹ کے اندر یعنی دو سٹاپ آگے ایک ہوٹل میں منعقدہ تربیتی کورس میں شمولیت کرنی ہے اور بے چینی سے بار بار گھڑی دیکھ رہی ہیں۔ اچانک ایک صاحب نے آواز بلند کی ٹکٹ چیک کروائیے پلیز۔ ٹکٹ چیک کرنے والے اچانک ٹکٹ چیک کرنے آجاتے ہیں اور جس کے پاس ٹکٹ نہ ہو اسے ہزار کراون جرمانہ کردیتے ہیں۔ محترمہ ممبر پارلیمنٹ کو ٹھیک آٹھ بجے تربیتی کورس پر پہنچنا تھا اور آج ٹکٹ خریدے بغیر بس پر سوار ہوچکی ہیں۔ محترمہ ٹکٹ چیک کا سن کر سن ہوگئی ہیں۔ چہرہ زرد پڑ گیا ہے۔اللہ کی شان دیکھیے ٹکٹ چیک کرنے والے اگلے سٹاپ پر اتر گیے ۔ ویسے ٹکٹ چیک کرنے والے ممبر پارلیمنٹ کو پہچانتے ہی نہیں تھے۔ اگر پہچانتے ہوتے تو ضرور ٹکٹ چیک کرتے۔

محترمہ نے سکون کی ٹھنڈی سانس لی اور بولی۔ اے اللہ تیرا شکر ۔مجھے جرمانے کا کوئی ملال نہ ہوتا۔ لیکن میری بڑی تصویر اخبار کے فرنٹ پیج پر لگنی تھی کہ ناروے کی ممبر پارلیمنٹ بغیر ٹکٹ بس میں سوار پکڑی گئی ہیں۔ میری پارٹی کی بدنامی ہوتی۔ اور مجھے پوری قوم سے معافی مانگنی پڑتی۔بولی میں بہت جلدی میں تھی چونکہ آٹھ بجے تربیتی کورس شروع ہونا ہے۔ محترمہ کا سٹاپ پہنچ گیا تھا۔ ناروے کی ممبر پارلیمنٹ بس سے اتری اور تقریباً بھاگتی ہوئی کورس ہال میں گھس گئی۔

قانون اور دستور میں نہ تو وی۔آئی۔پیز مخل ہوسکتے ہیں اور نہ عوامی جلوس اور جلسے پوری سٹیٹ کے لیے بناے گیے قوانین پر اثرا انداز ہوسکتے ہیں۔ کبھی نہیں دیکھا کہ عوام کا کوئی وفد یا ریلہ ایک لوکل ڈسٹرکٹ میں دھرنا دے کر متعلقہ اداروں کو مجبور کردے کہ وہ قانون اور دستور کو بائی پاس کردیں۔

اللہ ہمارا حامی اور ناصر ہو۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

۔

مزید :

بلاگ -