کمیشن سے متعلق پرسوں فیصلہ کریں گے، تمام ادارے نواز شریف کے نیچے، انہیں اصولاً مستعفی ہو جانا چاہئے: عمران خان

کمیشن سے متعلق پرسوں فیصلہ کریں گے، تمام ادارے نواز شریف کے نیچے، انہیں ...
کمیشن سے متعلق پرسوں فیصلہ کریں گے، تمام ادارے نواز شریف کے نیچے، انہیں اصولاً مستعفی ہو جانا چاہئے: عمران خان

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور پوری قوم چاہتی ہے کہ عدالت ہی فیصلہ کرے تاہم کمیشن کے معاملے پر عدالت سے 2 دن کی مہلت مانگی ہے اور اب پرسوں فیصلہ کریں گے کہ ہونا کیا چاہئے۔ پاکستان کے تمام تحقیقاتی ادارے وزیراعظم کے نیچے ہیں اس لئے اصولاً انہیں استعفیٰ دیدینا چاہئے۔

”کمیشن بنائیں یا ہم خود فیصلہ دیں “سپریم کورٹ نے وکلاءکو اپنے موکلین سے جواب لینے کی ہدایت کے بعدپاناما کیس کی سماعت 9دسمبر تک ملتوی کردی

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ آج سپریم کورٹ میں جو سماعت ہوئی ہے اس میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ وزیراعظم کے پاس منی ٹریل سے متعلق کوئی ثبوت موجود نہیں ہے حالانکہ پارلیمینٹ میں خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ تھا کہ تمام دستاویزات سامنے رکھ رہا ہوں۔ آج کی سماعت کے دوران نواز شریف کے وکیل نے کہا کہ پارلیمینٹ سے اور قوم سے جو خطاب کیا گیا وہ سیاسی بیان تھا۔ یعنی کہ جو باتیں انہوں نے کیں وہ سیاسی تھیں، آئین کے آرٹیکل 191 کی شق 6 میں لکھا ہوا ہے کہ وزیراعظم کابینہ اور اسمبلی کو جواب دہ ہے۔ وزیراعظم نے خطاب بھی اس لئے کیا کیونکہ اپوزیشن کے بار بار پوچھنے کے باعث دباﺅ تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز شریف کی ویڈیو ریکارڈنگ موجود ہے جس میں وہ کہہ رہی ہیں کہ ان کی باہر کوئی پراپرٹی نہیں ہے اور جب پانامہ پیپرز کا انکشاف ہوا تو وزیراعظم پر دباﺅ پڑا جس پر انہوں نے پارلیمینٹ میں جواب دیا اور اس میں انہوں نے واضح کیا کہ تمام دستاویزات پارلیمینٹ میں رکھ رہا ہوں اور ہمارے پاس منی ٹریل کے تمام ثبوت موجود ہیں لیکن آج پتہ چلا کہ ان کے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے۔ عمران خان نے کہا کہ ان کی جمع کرائی گئی دستاویزات سے ہم نے آبزرویشن تھی کہ گلف سٹیل جب بیچی گئی تو وہ 26 لاکھ درہم کا نقصان کر رہی تھی لیکن اس سے متعلق یہ کہہ دیا گیا کہ وہ 26 درہم کسی نے دیدئیے، اس نے دئیے؟ یہ انہیں نہیں پتہ، عام لوگوں کو تو کوئی ہزار روپیہ بھی نہیں دیتا اور انہیں کسی نے 26 لاکھ درہم دیدیا۔ ایک اور مذاق یہ کیا گیا کہ اس وقت تمام کاروبار پرچیوں پر ہوتا تھا۔

”سوچ رہا ہوں اپنے پیسے بھی شریف خاندان کو دے دوں تاکہ ڈبل ہو جائیں “: شیخ رشید

انہوں نے کہا کہ اصل میں تو تحریک انصاف اور پوری قوم چاہتی ہے کہ عدالت فیصلہ کرے لیکن اب سپریم کورٹ کی جانب سے کمیشن کی تجویز پر 2 دن کی مہلت طلب کی ہے اور فیصلہ کریں گے کہ پرسوں کیا ہونا چاہئے۔ عدالت بتائے گی کہ کمیشن کی ٹرمز آف ریفرنس کیا ہو گی، کتنی مدت میں تحقیقات مکمل ہوں گی اور دیگر معاملات بھی سامنے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام تحقیقاتی ادارے وزیراعظم کے نیچے ہیں، اس لئے کون صحیح طرح تحقیقات کرے گا؟ وزیراعظم نواز شریف کو اصولاً استعفیٰ دیدینا چاہئے کیونکہ یہ ہر جمہوریت کی رسم ہوتی ہے۔ کسی ٹرین حادثے کے نتیجے میں ریلوے کا وزیر صرف اور صرف اس لئے مستعفی ہوتا ہے کیونکہ اس حادثے سے متعلق تحقیقات ہونا ہوتی ہیں۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -