پانامہ کیس کی دلدل میں حکمران ٹولے کا جہاز دھنس چکا ، وزیر اعظم کمیشن بننے کے بعداپنے اختیارات استعما ل نہ کریں : سراج الحق

پانامہ کیس کی دلدل میں حکمران ٹولے کا جہاز دھنس چکا ، وزیر اعظم کمیشن بننے کے ...
پانامہ کیس کی دلدل میں حکمران ٹولے کا جہاز دھنس چکا ، وزیر اعظم کمیشن بننے کے بعداپنے اختیارات استعما ل نہ کریں : سراج الحق

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن ) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ پاناما کیس ایک دلدل ہے جس میں حکمران ٹولے کا جہاز دھنس چکا ہے ، حکومت جھوٹ کا سہارا لے گی تو مزید پھنسے گی ، سپریم کورٹ میں سب سے پہلے جماعت اسلامی نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ملک سے کرپشن کی برائی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے کمیشن تشکیل دیا جائے، جماعت اسلامی کو سپریم کورٹ پر مکمل اعتماد ہے، وزیراعظم کمیشن کے قیام کے بعد اپنے سرکاری اختیارات چھوڑ دیں تاکہ وہ کمیشن کی کارروائی پر اثرانداز نہ ہو سکیں، پانامہ لیکس کی وجہ سے حکومت کا اخلاقی جواز ختم ہو چکا ۔  

سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کیس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے  کہا  کہ اللہ کا شکر ہے کہ کیس کے معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں، سپریم کورٹ میں سب سے پہلے جماعت اسلامی نے کیس دائر کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ ملک سے کرپشن کی برائی کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے اس معاملہ میں کمیشن تشکیل دیا جائے، جماعت اسلامی کو سپریم کورٹ پر مکمل اعتماد حاصل ہے،  اس کے علاوہ کوئی اور آپشن بھی موجود نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ  وزیراعظم کمیشن کے قیام کے بعد اپنے سرکاری اختیارات چھوڑ دیں تاکہ وہ کمیشن کی کارروائی پر اثرانداز نہ ہو سکیں اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔انہوں نے کہا کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ پانامہ لیکس کی وجہ سے حکومت کا اخلاقی جواز ختم ہو چکا ہے،  آف شور کمپنیوں کی وجہ سے حکمران ٹولہ بہت بدنام ہوا ہے،  ہم چاہتے ہیں کہ پانامہ لیکس میں جن لوگوں کا نام آیا ان سب کا احتساب ہو لیکن آغاز حکمران خاندان سے ہو  ، ہم چاہتے ہیں کہ اپوزیشن اور حکومت کے ٹی او آرز کے بجائے کمیشن کے ٹی او آرز سپریم کورٹ خود بنائے کیونکہ اپوزیشن کے ٹی او آرز پہلے حکومت نے تسلیم نہیں کئے اور کمیشن کے لئے محدود وقت مقرر ہونا چاہئے تاکہ کم از کم وقت میں اس معاملے کا فیصلہ ہو سکے،  ہم چاہتے ہیں کہ نوازشریف اور ان کے خاندان کا پہلے احتساب ہو کیونکہ وزیراعظم نے کسی حد تک اعتراف بھی کیا ہے کہ ان کے بچوں کی آف شور کمپنیاں ہیں اور انہوں نے خود کو احتساب کے لئے پیش بھی کیا ہے۔

گجر پورہ میں نامعلوم ملزمان 3افراد پر تیزاب پھینک کر فرارہو گئے

انہوں نے کہاکہ  پوری دنیا میں یہ پریکٹس ہے کہ اگر تحقیقات جاری ہوں تو حکمران اپنے اختیارات استعمال نہیں کرتے۔ سراج الحق نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پانامہ میں جن لوگوں کا نام آیا ان سب کا احتساب ہو اور ان شہزادوں کا بھی احتساب ہو جنہوں نے بینکوں سے قرضے لے کر معاف کرا لئے،  ہم کسی کو مقدس گائے تسلیم نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ پانامہ لیکس کی دلدل میں حکمران ٹولے کا جہاز دھنس گیا ہے بچنے کا صرف ایک ہی راستہ ہے اور وہ راستہ صرف سچ کا راستہ ہے،  صرف سچ کے راستے سے ہی نجات ہے لیکن جھوٹ کو ثابت کرنے کے لئے سینکڑوں جھوٹ اور بولنا پڑتے ہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ 2013ءمیں انتخابات میں حصہ لینے والے تمام سیاسی رہنما وں نے اپنے گوشواروں میں اثاثے ظاہر کئے لیکن لندن لیکس اور پانامہ لیکس کے اثاثے ظاہر نہیں کئے گئے،  اس لئے ہم چاہتے ہیں کہ درست انداز میں تحقیقات کی جائیں،  اگر ایسا ہوا تو آئین کے آرٹیکل 62، 63 کے تحت بہت سے لوگ نااہل ہو سکتے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ پہلے ٹی او آرز تیار کر کے کمیشن تشکیل دیا جانا چاہئے جو مقررہ وقت میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائے اور اس رپورٹ کی روشنی میں سپریم کورٹ اپنا واضح فیصلہ دے۔

مزید :

قومی -