سعودی عرب کی جیلوں میں اس وقت کل کتنے پاکستانی قید ہیں اور زیادہ تر نے کیا انتہائی معمولی جرم کیا؟ جان کر پاکستانیوں کا دل خون کے آنسو روئے گا

سعودی عرب کی جیلوں میں اس وقت کل کتنے پاکستانی قید ہیں اور زیادہ تر نے کیا ...
سعودی عرب کی جیلوں میں اس وقت کل کتنے پاکستانی قید ہیں اور زیادہ تر نے کیا انتہائی معمولی جرم کیا؟ جان کر پاکستانیوں کا دل خون کے آنسو روئے گا

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب کی مختلف جیلوں میں ہزاروں پاکستانی قید ہیں جبکہ پاکستانی قونصل جنرل نے 2 سال کے دوران صرف جدہ میں 83,955 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کرنے کیلئے ایمرجنسی سفری دستاویزات جاری کیں۔

”کمیشن بنائیں یا ہم خود فیصلہ دیں “سپریم کورٹ نے وکلاءکو اپنے موکلین سے جواب لینے کی ہدایت کے بعدپاناما کیس کی سماعت 9دسمبر تک ملتوی کردی

سینیٹ میں وزار ت خارجہ کی جانب سے جمع کرائے گئے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ ”جدہ کی جیلوں میں 728 پاکستانی قید ہیں۔ پاکستانی قونصل خانے کی ٹیموں نے جدہ اور دیگر شہروں میں واقع جیلوں اور ڈی پورٹیشن سینٹرز کے دوروں کے دوران 2015ءمیں 50,757 پاکستانیوں کو ڈی پورٹ ہونے کیلئے سفری دستاویزات فراہم کیں جبکہ سال 2016ءمیں 33,198 پاکستانیوں کو سفری دستاویزات فراہم کی گئیں۔“

جواب میں کہا گیا ہے کہ ریاض اور مشرقی و شمالی صوبوں کی جیلوں میں 1,021 پاکستانی قیدی ہیں۔ ”سفارتخانے کی ٹیموں نے ان علاقوں میں واقع جیلوں اور ڈی پورٹیشن سینٹرز کا بھی دورہ کیا جس دوران سال 2015ءمیں 8,421 پاکستانیوں کو اور سال 2016ءمیں 8,525 پاکستانیوں کو سفری دستاویزات فراہم کی گئیں۔“

وزارت خارجہ نے بتایا کہ ”یکم جنوری 2013ءسے اب تک 4 سالوں کے دوران ریاض میں کل 3,612 پاکستانیوں کو مختلف جرائم پر گرفتار کیا گیا جبکہ جدہ میں 4,050 پاکستانی گرفتار ہوئے۔“

جواب میں یہ انکشاف بھی کیا گیا کہ پاکستانیوں کی بڑی تعداد عمرہ اور آزاد ویزوں پر سعودی عرب گئی تاہم قانونی مدت کے دوران وطن واپس نہ لوٹی اور ملک کے مختلف حصوں میں نوکریاں تلاش کر کے گرفتار ہونے تک وہیں رہے۔ زیادہ تر پاکستانی مزدوری کرتے ہیں تاہم پاکستانی ڈاکٹرز، انجینئرز، بینکرز، پراجیکٹ منیجرز، لیکچرارز، آئی ٹی ماہرین اور دیگر شعبوں سے منسلک افراد بھی وہاں کام کر رہے ہیں۔

”سوچ رہا ہوں اپنے پیسے بھی شریف خاندان کو دے دوں تاکہ ڈبل ہو جائیں “: شیخ رشید

ان پاکستانیوں میں سے 84 فیصد ملازمین ہے جبکہ 16 فیصد خودمختار ہیں۔ حال ہی میں کچھ کمپنیوں کی مخدوش مالی حالت کے باعث 7,000 پاکستانی ملازمین بیروزگار ہوئے۔ جواب میں بتایا گیا ہے کہ ”قطر اور دوحہ میں پاکستانی سفارتخانوں کی ٹیمیں مستقل طو پر مرکزی جیلوں کا دورہ کرتی ہیں اور جیلوں کے حالات کے بارے میں قیدیوں سے آگاہی حاصل کرتی رہتی ہیں۔وہاں قید کل 42 قیدیوں میں سے 13 قیدی تقریباً 2 ماہ تک اپنی سزا مکمل کرنے والے ہیں۔“

وزارت خارجہ نے بتایا کہ 18 دسمبر کو قطر کے قومی دن کے موقع پر قطر کے امیر کی معافی کے ذریعے پاکستانی قیدیوں کی سزاﺅں میں کمی کرائی جائے گی۔

مزید :

عرب دنیا -