کراچی کے مشہور ہوٹل میں آگ لگنے کے بعد انتظامیہ نے امدادی ٹیموں پر بندوقیں تان لیں :فیصل ایدھی

کراچی کے مشہور ہوٹل میں آگ لگنے کے بعد انتظامیہ نے امدادی ٹیموں پر بندوقیں ...
کراچی کے مشہور ہوٹل میں آگ لگنے کے بعد انتظامیہ نے امدادی ٹیموں پر بندوقیں تان لیں :فیصل ایدھی

  

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک )کراچی کے مشہور ہوٹل ریجنٹ پلازہ میں آگ لگنے کے بعد امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچیں تو ہوٹل انتظامیہ نے امدادی ٹیموں پر بندوقیں تان لیں جس کے باعث امدادی کاموں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم وہاں موجود رینجرز اہلکاروں نے معاملہ حل کرایا ۔وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق ریجنٹ پلازہ ہوٹل میں آگ لگنے سے ایدھی ٹرسٹ کے روح رواں فیصل ایدھی بھی زخمی ہوئے ۔فیصل ایدھی کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ ہوٹل کی انتظامیہ نے اچھا سلوک نہیں کیا بلکہ جب انہوں نے ہوٹل کے اندر جانے کی کوشش کی تو گارڈز نے ان پر بندوقیں تال لیں اور ان کی کام میں رکاوٹ کھڑی کرنے کی کوشش کی جو ان کے لئے افسوسناک تھیں۔انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ ذمے داری سے سندھ رینجرز نے اپنا فرض ادا کیا اور رینجرز کی بدولت ہی انہیں بھی کام کرنے کا موقع ملا، ورنہ مزید مسائل پیداہوسکتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں حادثے کی اطلاع رات تین بجے ملی تھی جس کے فوری بعد انہوں نے خود جائے حادثہ پر پہنچنے کا فیصلہ کیا،جس وقت میں ریجنٹ پلازہ پہنچاتو اس وقت عمارت دھویں میں گھری ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے لوگ کسی نہ کسی طرح کھڑکیوں کے شیشے توڑنے میں مصروف تھے تاکہ باہر نکل سکیں۔عمارت کی پہلی ، تیسری اور آٹھویں منزل سے نکلتے ہوئے شعلے صاف دیکھے جاسکتے تھے۔ زیادہ تر لوگ بیڈ شیٹس کو جوڑ جوڑ کر انہیں رسی کی شکل میں ایک سے دوسرے سرے کو باندھ کر اس کی مدد سے نیچے اترنے کی تیاریوں میں تھے جبکہ کچھ نے لکڑی کی سیڑھیاں استعمال کی۔ غالباً یہ سیڑھیاں ہوٹل کے باہر موجود اور ریسکیوکے کاموں میں لگے لوگوں نے فراہم کی ہوں گی۔فیصل ایدھی نے مزید بتایا کہ غیر ملکی مہمانوں میں سے سب سے پہلے میں نے چینی باشندوں کو باہر جاتے ہوئے دیکھا جن کے چہرے پر شدید پریشانی نظر آرہی تھی لیکن وہ شکر گزار تھے کہ کسی نہ کسی طرح جان بچانے میں کامیاب ہوگئے تاہم ہوٹل کی سب سے آخری منزل پر ایک جرمن شہری مجھے حواس باختہ نظر آیا۔ میں نے سوچا کہ کہیں دوسرے افراد کی طرح وہ بھی ہوٹل سے کود کر جان بچانے کی کوشش نہ کربیٹھے لہذا میں خود ایمرجنسی راستے سے اندر داخل ہوگیا۔ زیادہ تر لوگ اسی راستے سے باہر ارہے تھے ، میں ہوٹل کے اندر اور آٹھویں منزل تک پہنچنے کے راستوں سے لاعلم تھا۔ ہوٹل کا عملہ بھی گھبرایا ہوا تھا اور جیسے کسی کو کچھ بھی یاد نہیں رہا ہو۔ہوٹل کی انتظامیہ کا کوئی عہدیدار بھی رہنمائی کے لئے موجود نہیں تھا سب ادھر ادھر بھاگ رہے تھے۔

انہوں نے بتا یا کہ ایمرجنسی راستے میں دھواں ہی دھواں تھا ، سب طرف جلنے کی بوپھیلی ہوئی تھی۔ سانس لینا مشکل تھا اور دم گھٹ رہا تھا۔ پھر بھی کسی نہ کسی طرح جرمن شہری کے پاس پہنچ گیا۔ وہاں اور بھی بہت سے لوگ انہیں باہر نکلنے کے لئے کہہ رہے تھے لیکن زبان آڑے آرہی تھی۔ میں نے پہلے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں گھسیٹتے ہوئے نیچے لانے لگا تاہم وہ پوری طرح گھبرائے ہوئے تھے اور صاف لگ رہا تھا کہ ان کی سمجھ میں کچھ بھی نہیں آرہا۔ پھر میں نے پوری قوت سے انہیں کندھے کا سہارا دیا اور زبردستی باہر لانے لگا تاہم اس دوران شیشے کے کچھ ٹکڑے آکر مجھے لگے جن سے میرے دونوں ہاتھ زخمی ہوگئے مگر مجھے زخموں سے زیادہ انسانی جانیں بچانے کی فکر تھی اور میں کسی حد تک اس میں کامیاب ہوگیا تھا۔

مزید :

کراچی -