وزیراعظم کا پانامہ لیکس کمیشن پر ذاتی رائے نہ دینے کافیصلہ ، عدالت خود سماعت کرے یا کمیشن بنائے، قبول ہو گا: ذرائع کا دعویٰ

وزیراعظم کا پانامہ لیکس کمیشن پر ذاتی رائے نہ دینے کافیصلہ ، عدالت خود سماعت ...
وزیراعظم کا پانامہ لیکس کمیشن پر ذاتی رائے نہ دینے کافیصلہ ، عدالت خود سماعت کرے یا کمیشن بنائے، قبول ہو گا: ذرائع کا دعویٰ

  

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم نواز شریف نے فیصلہ کر لیا ہے کہ پانامہ لیکس معاملے کی عدالت خود سماعت کرے یا پھر کمیشن بنائے، انہیں سب کچھ قبول ہو گا۔ نجی ٹی وی جیو نیوز کے مطابق وزیراعظم نواز شریف نے قانونی ٹیم اور مشیروں سے مشاورت مکمل کر لی ہے اور پانامہ لیکس کیلئے کمیشن بنانے کے معاملے پر ذاتی رائے نہ دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

”کمیشن بنائیں یا ہم خود فیصلہ دیں “سپریم کورٹ نے وکلاءکو اپنے موکلین سے جواب لینے کی ہدایت کے بعدپاناما کیس کی سماعت 9دسمبر تک ملتوی کردی

قانونی ٹیم کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف اپنی کوئی ذاتی رائے دینے کے حق میں نہیں ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ عدالت خود سماعت کرے یا پھر کمیشن بنائے، انہیں قبول ہو گا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ عدالت کے باہر او عدالت میں پہلے بھی سچ بولا ہے، نہ پہلے کچھ چھپایا ہے اور نہ اب چھپانے کی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں جوڈیشل کمیشن کے تشکیل کے حوالے سے فریقین کو جواب دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 9 دسمبر تک ملتوی کر رکھی ہے۔

”سوچ رہا ہوں اپنے پیسے بھی شریف خاندان کو دے دوں تاکہ ڈبل ہو جائیں “: شیخ رشید

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے پاناما کیس کی آٹھویں باضابطہ سماعت کی اور فریقین کے دکلاءکو جوڈیشل کمیشن بنانے یا بینچ سے فیصلہ لینے کے حوالے سے اپنے موکلین سے مشاورت کر کے جواب پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 9 دسمبر (جمعہ ) تک ملتوی کی۔

مزید :

قومی -اہم خبریں -