جنید جمشید نے اپنی زندگی کے یہ دو ہی مقاصد بنا لیے تھے کہ ۔ ۔ ۔ معروف نعت خواں کی زندگی کے بارے میں مختصر باتیں جوشایدآپ کو معلوم نہ ہوں

جنید جمشید نے اپنی زندگی کے یہ دو ہی مقاصد بنا لیے تھے کہ ۔ ۔ ۔ معروف نعت خواں ...
جنید جمشید نے اپنی زندگی کے یہ دو ہی مقاصد بنا لیے تھے کہ ۔ ۔ ۔ معروف نعت خواں کی زندگی کے بارے میں مختصر باتیں جوشایدآپ کو معلوم نہ ہوں

  

لاہور(سپیشل ایڈیٹر)دل دل پاکستان ،تم مل گئے ،سمیت لاتعدادگیتوں سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے جنید جمشید چترال کے قریب طیارہ گرنے سے اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ویسے پیارے تو وہ اس وقت ہی ہوگئے تھے جب انہوں نے جین جیکٹ اتار کر شلوار کرتہ اور عمامہ پہننا شروع کردیا تھا۔ان میں مذہبی تبدیلی پیدا ہوئی توان کا چہرہ دیکھ کر کئی دوسرے شوبز ستاروں کو بھی خدا یاد آجاتا تھا۔ان میں جب مذہبی رجحانات پیدا ہوئے اور انہوں نے نعت خوانی شروع کی تو اس انقلابی تبدیلی پر ہر کسی نے انہیں سراہا۔

مولانا طارق جمیل کی تبلیغ نے جہاں کئی فنکاروں کو راہ ہدیت پر گامزن ہونے میں مدد دی وہاں جنید جمشید نے عین عروج میں گانے سے توبہ کرکے حمد وثنا شروع کی اور بعد از دینی تعلیم انہوں نے ٹی وی پرایک مبلغ اور مصلح کی حیثیت سے پروگرام شروع کردئے جس پر انکے خلاف کئی قسم کے فتوے بھی جاری ہوئے،انہیں گستاخ رسولﷺ اور حضرت عائشہ ؓ کی شان میں گستاخی پر موردالزام بھی ٹھہرایا گیا لیکن انہوں نے اپنے اس فعل پر معافی مانگ لی۔اسکے باوجود انہیں اسلام آباد ائرپورٹ پر پیٹا گیا ۔

باون سالہ جنید جمشید بنیادی طور پر انجینئر تھے ،انہوں نے پاک فضائیہ کے لئے سول کنٹریکٹر کے طور پر بھی کام کیالیکن میوزک کے شوق نے انہیں شوبز کی رنگارنگی میں اپنا مقدر چمکانے کی راہ دکھائی اور برسوں تک وہ اپنے گٹار اور ہلکے مدھر سروں کی وجہ سے نوجوانوں کے دلوں پر راج کرتے رہے۔مذہبی تبدیلیوں کے ساتھ ہی انہوں نے شوبز کی کمائی کو خود پرحرام قرار دیا اور جنید جمشید کے نام سے اپنی ملبوسات کی مشہور زمانہ برانڈ متعارف کرائی ۔

جنید جمشید نے اپنے دو بنیادی مقاصد مقرر کرلئے تھے۔شوبز اور میڈیا میں رہتے ہوئے بطور مبلغ اچھائی کا پرچار کرنااورقومی لباس شلوار قمیض کی ترویج کرنا۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے کالجز اور یونیورسٹیز کے طلبا کو شوبز کی راہ دکھائی لہذااس گناہ کا کفارہ بھی مجھے ہی ادا کرنا ہے۔لہذا انہوں نے طلبا کو گمراہی سے بچانے کے لئے تبلیغ شروع کی۔ان کانکتہ نظر بڑا واضح تھا کہ انہیں شوبز کے میڈیم سے باہر اس لئے نہیں جانا چاہئے کیونکہ اگر ٹی وی برائی کا پرچار کرسکتا ہے تو نعت و تبلیغ سے بھی میڈیا سے تبدیلی پیدا کی جاسکتی ہے۔ہنس مکھ اور صبح سویرے اللہ کے پاک نام سے اپنی مصروفیات کا آغاز کرنے والے جنید جمشید نے پتلون اتارنے کے بعد پھر کبھی یہ لباس نہیں پہنا اور شلوار قمیض کو منفرد رواج دیا ۔ان کا کہنا تھا کہ مسلمان ہیں تو مسلمان بن کر بھی دکھانا چاہئے لہذا اپنے روائتی لباس کی ترویج کرنا انہوں نے مشن بنا لیا تھا۔

مزید :

لاہور -