گلوکاری سے پرہیز گاری کا سفر اختتام پذیر ہو گیا ...

گلوکاری سے پرہیز گاری کا سفر اختتام پذیر ہو گیا ...
گلوکاری سے پرہیز گاری کا سفر اختتام پذیر ہو گیا ...

  

چترال سے اسلام آباد آنے والا پی آئی اے کا طیارہ ایبٹ آباد حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہو گیا ،اس بد قسمت جہاز میں 42 مسافروں سمیت 47 افراد سوار تھے ،جن میں سے کسی کے بھی زندہ بچنے کی امید نہیں ہے ، آئی ایس پی آر  اور سرکاری حکام کے مطابق جائے حادثہ سے اب تک36 لاشیں نکالی جا چکی ہیں ،اس بد قسمت جہاز کے مسافروں میں ماضی کے معروف پاپ سنگر ، تبلیغی جماعت کے اہم رہنما اور مشہور نعت خواں جنید جمشید بھی اپنی اہلیہ نیہا جنید کے ہمراہ شامل تھے ، جنید جمشید چترال میں تبلیغی جماعت کے ہمراہ 10روزہ دورے پر چترال آئے تھے ۔

بتایا جا رہا ہے کہ جنید جمشید نے 2روز قبل واپس آنا تھا لیکن انہوں نے کراچی سے اپنی اہلیہ کو بھی چترال میں بلا لیا اور آج ان کی پی آئی اے کی پرواز ’’پی کے ۔661‘‘ میں اسلام آباد آ رہے تھے کہ راستے میں ہی طیارہ  افسوسناک حادثے کا شکا ر ہو گیا ۔جنید جمشید کی زندگی کے بارے میں ابھی کوئی مصدقہ اطلاع نہیں ہے،  لیکن حادثہ جس قدر شدید ہے اور جائے حادثہ سے جتنی لاشیں نکالی جا چکی ہیں اس سے تو یہی محسوس ہو رہا ہے کہ جنید جمشید بھی اب اس دنیا میں نہیں رہے (انا لِلہ وَ اِن اِلیہ راجعون )جہاز کے حادثے کی خبر ملتے ساتھ ہی  پوری قوم بد قسمت طیارے کے تمام مسافروں کی زندگی کے لئے دعا گو تھی  لیکن جب اللہ نہ چاہے تو پھر مانگی جانے والی دعائیں بھی مقبول نہیں ہوتیں ،سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ حادثہ اتنا شدید اور جہاز جس برے طریقے سے تباہ ہوا ہے کسی بھی مسافر کے زندہ بچنے کی امید نہیں ہے ۔

جنید جمشید کون تھے اور پاپ سنگر سے تبلیغی جماعت اور مذہبی مبلغ کا سفر کیسے طے کیا ؟اس پر ایک طائرنہ نظر ڈالتے ہیں۔ جنید جمشید 1987ء میں موسیقی کی دنیا میں تازہ ہوا کا جھونکا بن کر آئے، یہ وہ دور تھا جب پاکستان میں سنیما انڈسٹری آخری دموں پر تھی،پرائیویٹ چینلز کا خواب بھی کسی نے شاید نہیں دیکھا تھا ،صرف پاکستان ٹی وی گھر گھر دیکھا جاتا تھا، وہ بھی شام سے نصف شب تک۔ ایسے میں جنید جمشید نے ایک پاپ گروپ ترتیب دیا جس کا نام تھا’’وائٹل سائنز‘‘۔اس گروپ نے ٹی وی پر ایک ملی نغمہ ’’دل دل پاکستان‘‘ متعارف کرایا جس میں مغربی آلات موسیقی استعمال کئے گئے تھے۔

’’دل دل پاکستان‘‘ ایک دوبار ہی ٹی وی اسکرین پر آیا اور اس کے بعد تو گویا دیکھتے ہی دیکھتے لاکھوں دلوں کی آواز بن گیا۔ اس وقت کا شاید ہی کوئی ٹی وی پروگرام، ٹاک شو، یا میوزک پروگرام ایسا ہوگا جس میں اس نغمے کا ذکر نہ ہوتاہو ورنہ شادی بیاہ سے لیکر دیگر تمام نجی تقریبات تک میں جیند جمشید اور ان کا ملی نغمہ چھایا رہتا۔ یوم آزادی ، یوم پاکستان اور دیگر قومی دنوں پر تو اس کی دھنیں بجنا لازمی جزو سا بن گیا تھا۔ اس نغمے کی بدولت جنید جمشید موسیقی کی دنیا پر ایسے چھائے کہ اگلی پوری دھائی میں ان کو کوئی جوڑ پیدا نہ ہوسکا۔لیکن پھر اچانک ہی جنید کے ذوق نے ایسا ’’یوٹرن ‘‘ لیا کہ سارا پاکستان ہی دم بخود رہ گیا ،کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ موسیقی کی مدھر دھنوں اور خوبرو لڑکیوں کے جھرمٹ میں نظر آنے والا یہ’’کلین شیو ‘‘سرخ و سفید رنگت کا خوبرو اور مغربی طرز زندگی کا دلدادہ نوجوان اور کہاں ’’تبلیغی جماعت ‘‘ اور گھنی داڑھی رکھ کر ملک کے دور دراز علاقوں میں مسجدوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی تعلیمات کا پرچار ۔

مولانا طارق جمیل ،سابق کرکٹر سعید انور ،انضمام الحق ، شاہد آفریدی اور دیگر کی ہمراہی میں اٹھنے بیٹھنے سے جنید جمشید کی زندگی کا ’’سفر اور منزل ‘‘ہی تبدیل ہو کر رہ گئی تھی ۔رواں سال اسلام آباد ائیر پورٹ پر جنید جمشید کے ساتھ ہمارے بعض کم علم اور نام نہاد ’’مذہبی جتھے ‘‘ نے بدسلوکی کی تو پورے پاکستان میں اس کی گونج سنائی دی ،ہر سو اس افسوسناک واقعہ کی مذمت کی گئی اور بد سلوکی کرنے والوں کو کڑی سزا کا مطالبہ زور پکڑ گیا ،پولیس نے جنید جمشید کے ساتھ بد سلوکی کرنے والوں کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا ،لیکن جنید جمشید نے اس واقعہ اور انہیں سرعام زدوکوب کرنے والوں کو غیر مشروط طور پر معافی کا اعلان کر کے اپنی عظمت کا ثبوت دیا ۔

2014ء میں ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں ان کی زبان سے لاعلمی کی بنیاد پر کچھ توہین آمیز جملے ادا ہوئے تو ایک بار پھر ’’جاہل اور لٹھ بردار ‘‘ طبقہ میدان میں کود پڑا ،ایک مخصوص گروہ نے تو حسب روائیت جنید جمشید کو ’’دائرہ اسلام ‘‘ سے خارج کرنے کا فتویٰ بھی جاری کیا گیا،موسیقی چھوڑ کر دن رات نبی کریم ﷺ کی شان میں نعتیں پڑھنے والے جنید جمشید کے خلاف اس وقت حد ہی کر دی گئی جب کراچی میں ان پر توہین رسالت کا مقدمہ درج کر لیا گیا تھا ، لیکن جنید جمشید پھر بھی دل برداشتہ نہیں ہوئے اور سرعام دینی علوم پر اپنی کم علمی اور کم مائیگی کا برملا اظہار کیا اور پوری قوم سے اپنے ادا کئے ہوئے جملوں پر معذرت کی ۔

رواں سال ایک تقریب میں میں بھی اس جگہ موجود تھا جہاں معروف کرکٹر سعید انور اور جنید جمشید نے گفتگو کی ،مجھے یاد ہے کہ جنید جمشید کی گفتگو کا ایک ہی بنیادی نکتہ تھا ،انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں چا ہیے کہ نمازاورروزہ کی پابندی کریں ، فضولیات سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں ، سنت نبوی کی عملداری سے ہی ہم دنیا اور آ خرت میں کا میا ب ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نفسا نفسی کے موجودہ دور میں ہم لوگ نماز سے دور ہو تے جا رہے ہیں جبکہ نمازکسی بھی صورت معاف نہیں کی گئی۔ہماری کا میابی اسی صورت میں ممکن ہے ، جب ہم اپنی زندگیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھا ل لیں ۔میں جنید جمشید کی گفتگو سن کر حیران ہو رہا تھا کہ یہ بندہ تو ہم سے بہت زیادہ بازی لے گیا ہے ،ہم جنہوں نے اپنی زندگی کے اہم ماہ و سال مذہبی ماحول میں گذارے لیکن ہم ’’گفتار کے غازی ‘‘ رہے اور موسیقی کی چکا چوند روشنیوں کو چھوڑ کر آنے والا جنید جمشید حقیقی معنوں میں ’’کردار کا غازی ‘‘ بن گیا ۔’’گلوکاری سے پرہیز گاری ‘‘ کا سفر شروع کرنے والے جنید جمشید نے تقویٰ کی جن منازل کو حاصل کیا یہ اللہ کو اس پر خاص رحمت اور فضل تھا کیونکہ ’’ایں سعادت بزور بازو نیست ‘‘

جنید جمشید چترال سے اسلام آباد آنے والے اس بد قسمت جہاز کا مسافر تھا جو اپنے 47 مسافروں سمیت تباہ ہوا ، ٹی وی سکرین پر نشر ہونے والی خبروں کے مطابق محسوس تو یہی ہو رہا ہے کہ جنید جمشید اب اس دنیا میں نہیں رہے لیکن اللہ کی قدرت ایسی ہے جو ناممکن کو ممکن بنا دے اسی کوئی پوچھنے والا نہیں۔جنید جمشید ٹی وی اسکرین پر ’’مذہبی دانشور‘‘کی حیثیت سے دیکھے جاتے تھے۔ جنیدنے اپنے آپ کو ایک نئی دنیا سے خود کو روشناس کرالیا تھا اور اب وہ اسی دنیا کے راہی تھے اوروہ تبلیغ کو اپنا نصب العین بناچکے تھے۔میری معلومات کے مطابق جنید جمشید کی نعتوں اور حمدیہ کلام پر مشتمل پہلا البم ’’جلوہ جاناں‘ ‘2005ء میں ریلیز ہوا تھا۔اس کے بعد ’’محبوب یزداں‘‘ 2006 ء میں اور’ ’بدر الدجا‘‘2008ء میں اور’بدیع الزماں‘2009 ء میں ریلیز کیا گیا جنہوں نے ملک بھر میں انتہائی مقبولیت حاصل کی ۔’’گلوکاری سے پرہیز گاری ‘‘ کے اس سفر میں بھی اللہ نے اپنے اس بندے کو تنہا نہیں چھوڑا بلکہ’’ مصنوعی روشنیوں کی دنیا ‘‘ سے نکل کر جب ’’پرہیز گاری ‘‘ کی طرف قدم رکھا تو اللہ نے اس میدان میں اپنے اس بندے کی توبہ قبول کرتے ہوئے ملک و قوم میں پہلے سے زیادہ مقبول کیا ،اس دوران جنید جمشید نے اپنا بزنس بھی شروع کیا جس کی شاخیں آج ملک کے تقریباً تمام بڑے شہروں میں ایک اعلیٰ پہچان رکھتی ہیں۔ اس کے باوجود میں نے جنید جمشید میں ایک انکساری اور دین کے لئے تڑپ دیکھی ،جنید جمشید کی اچانک حادثاتی موت نے مجھے ہلا کر رکھ دیا ہے ،اللہ ہمارے اس بھائی کی اور اس حادثے میں جاں بحق ہونے والوں کی مغفرت فرمائے ،ان کی غلطیوں سے درگزر فرمائے اور اللہ ہمیں بھی ’’بدکاری اور ریا کاری ‘‘ پر مبنی زندگی ترک کرتے ہوئے ’’پرہیز گاری ‘‘ کی جانب لوٹنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین

مزید :

بلاگ -