جنید جمشید اور یوای ٹی

جنید جمشید اور یوای ٹی
جنید جمشید اور یوای ٹی

  

تحریر: ڈاکٹر رانا تنویرقاسم ...

 آج حویلیاں کے قریب افسوس ناک طیارہ حادثہ میں 47  قیمی جانیں لقمہ اجل بن گئیں, حق سب کی مغفرت کرے۔جاں بحق ہونے والوں میں ملک کے نامور سابق گلوکار، موجودہ مبلغ اور نعت خواں جنید جمشید بھی شامل ہیں۔آج سے32 سال پہلے یوای ٹی مکینکیل ڈیپارٹمنٹ میں داخل ہونے والے جنید جمشید کے کلاس فیلوز اور اساتذہ کے وہم وگمان میں بھی نہ ہو گا کہ ایک دن جنید جمشید عالمی شہرت حاصل کرلے گا۔جیسے ہی مجھے اس اندوہناک حادثہ کی خبر ملی، میں نے فوراََ جنید جمشید کے استاد پروفیسر ڈاکٹر فیاض حسین شاہ صاحب سابق ڈین و چیئرمین ڈیپارٹمنٹ آف میکینکل انجینئرنگ کو ٹیلی فون کیا اورانکے شاگرد رشید کی وفات پر ان سے اظہار تعزیت کیا اور جنید جمشید کے بارے میں تاثرات بیان کرنے کی درخواست کی ۔

ڈاکٹر فیاض حسین شاہ  کا کہنا تھا کہ جنید جمشید  سیشن غالبا1984 تھا ،  بڑاشائننگ سٹوڈٹٹ تھا۔اسے زمانہ طالب علمی سے ہی گانے کا شوق تھا۔ یوای ٹی میں اسکی وجہ شہرت اسکی آواز اور گائئگی تھی ۔ کلاسز میں ریگولر نہیں تھا ، موسیقی کا شوق اسے یوای ٹی کا گریجوایٹ نہ بنا سکا  اور وہ انجینئر نگ کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر تھرڈ ائیر میں یوای ٹی کو خیرآباد کہہ گیا۔پھر جنید موسیقی کے میدان میں اپنی آواز کا جادو جگاتا رہا اور شہرت کی بلندیوں کو چھوتا رہا ۔ دل دل پاکستان جان جان پاکستان کا ملی ترا نہ گاکر اس نے اپنی حب الوطنی کا عظیم الشان مظاہرہ کیا  اور یہی ترانہ اسکی وجہ شہرت بنا۔پھراسکی زندگی میں مولانا طارق جمیل کی سماعتوں نے انقلاب برپا کردیا اور کلی طورپر ایک نئی روحانی اور دعوت وتبلیغ کی دنیا کا انتخاب کیا ۔اپنی وضع قطع سے لیکراپنے معمولات تک دین اوراس کی تبلیغ کو اپنا اوڑھنا بچھوڑنا بنالیا اور اسی مشن پر چلتے ہوئے اپنی جان جاں آفریں کے سپرد کردی ،  یوا ٹی کے اساتذہ طلبہ وطالبات اور ملازمین سب مرحوم کی مغفرت کے لیے دعا گو ہیں ۔

اللہ تعالی تمام مرحومین کو اعلی علییین میں جگہ دیں اورلواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔اپنی زندگی کے آخری مہینوں میں جب جنید جمشید سے ایک غلطی کا ارتکاب ہوا ،  پھراسے معافی مانگنی پڑی  جو اسکی عظمت کا ثبوت ہے۔میں نے اس وقت لکھا تھا کہ سیاسی ومذہبی یا نظریاتی عداوتوں کی بنیاد پر مخالفین کو سرعام مارنے پیٹنے کے سلسلہ کا خوفناک رحجان جس تیزی سے پروان چڑھ رہا ہے مجھے تو اس کا اختتام’’ خونی ‘‘لگتا ہے۔

کچھ ہفتے پہلے وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کے ساتھ جو کچھ کراچی ائیرپورٹ پر ہوا اسی طرح کا مظاہرہ جنید جمشید کے ساتھ اسلام آباد ائیر پورٹ پر ہوا۔ دونوں ایک خاص سوچ او ر نظریات کے حامل لوگوں کے ردعمل کا نشانہ بنے۔جس معاشرے کے مسالک میں فروعی اور فرقہ وارانہ اختلافات کی شدت یہاں تک پہنچ چکی ہو کہ رفیع الیدین، آمین بالجہر، حاضر ناظر،نور بشر کی بنیاد پر مخالفین پر طرح طرح کے فتوے اور انہیں گستاخ اور منکر قراردیا جارہاہو وہاں کسی کے تحفظ کی کیا ضمانت دی جاسکتی ہے؟  مسالک اور فرقے اپنے عقائد ونظریات کے پھیلا ئو میں پاکستان میں آزاد ہیں اور اتنے آزاد ہیں کہ شائد ہی دنیا کے کسے خطے میں اتنی آزادی کسی کو میسر ہو۔اب وقت آگیا ہے کہ دین اور دینی تعلیمات اور مذہبی عقائد ونظریات کے پرچار کے لیے اخلاقی ضابطہ بنایا جائے۔ آپ کو اختلاف ہو سکتا ہے مگر سعودی عرب اور ایران میں مذہبی سرگرمیوں میں انکی ریاستوں کی رٹ قائم ہے ، یہی وجہ ہے کہ وہاں منافرت کا وہ عالم نہیں جو ہمارے ہاں ہے۔ایک اور مصیبت ہے کہ ہمارے ہاں کی حکومتوں کو مذہبی لوگوں کو ہینڈل بھی نہیں کرنا آتا۔ ہم اپنے کیے گئے فیصلوں کے نفاذ میں پہلے مشاورت نہیں کرتے پھر جب ردعمل آتا ہے توہم ایک بڑے جلوس یا ایک دن کی ہڑتا ل کی مار بھی نہیں سہتے اور رجوع فرمالیتے ہیں۔

کسی بھی ملک میں کسی بھی قسم کی منافرت یا جارحیت کو کنٹرول کرنے کی دینی، اخلاقی اور معاشرتی ذمہ داری بہرحال ریاست کوہی پوری کرنا پڑتی ہے اختلاف رائے دلیل کی بجائے مکے اور تھپڑ سے کرنے کا رحجان بہت خطرنا ک ہے۔اگر یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو کل کو کوئی ، پروفیسر ،صحافی ،سیاستدان،عالم دین کسی کی کوئی ضمانت نہیں دے سکتا کہ کس کو کب اور کس جگہ پر تھپڑ پڑجائے۔اس ضمن میں ان کرداروں کو بھی اپنے رویوں خاص طور پر اپنا قلم اور اپنی زبان کا استعمال نہایت احتیاط سے کرنا چاہیے۔اس لیے کہ یہ سوسائٹی عدم برداشت اور جہالت کی وجہ سے جتنی بھی پستی پر چلی جائے، اپنے مذہب، مذہبی اقدار اور شعائر اسلام کے خلاف کوئی آواز برداشت نہیں کرسکتی۔ اس سوسائٹی میں زندہ رہنے کے لیے حکمت، بصیرت اور دوراندیشی کے دامن کو کبھی ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔ شریعت مطہرہ بھی آپ کو دعوت وتبلیغ میں حکمت ،احسن مجادلہ کی تاکید کرتی ہے  اور یہ جو ہتھ چھٹ  لوگ ہیں،  میرے نزدیک ان کا اتنا قصور نہیں جتنا انکو اشتعال دلانے اور بڑھکانے والے ،جبہ ودستار کے مالک، منبر ومحراب پر فائز واعظین کا ہے جن کی زبانیں تلوار کی مانند تیز ہیں۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -