جسٹس ثاقب نثار کی بطور چیف جسٹس نامزدگی ، عدلیہ کے نئے دور کا آغاز ہوگیا،کئی ہفتے قبل نوٹیفکیشن کا اجراءعدالتی روایت ہے

جسٹس ثاقب نثار کی بطور چیف جسٹس نامزدگی ، عدلیہ کے نئے دور کا آغاز ہوگیا،کئی ...
جسٹس ثاقب نثار کی بطور چیف جسٹس نامزدگی ، عدلیہ کے نئے دور کا آغاز ہوگیا،کئی ہفتے قبل نوٹیفکیشن کا اجراءعدالتی روایت ہے

  

لاہور(نامہ نگار خصوصی )سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کو چیف جسٹس پاکستان مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے ،وہ 31دسمبر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ۔موجودہ چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی 30دسمبر کو اپنے عہدہ سے ریٹائر ہورہے ہیں ۔سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن موجودہ چیف جسٹس کی ریٹائر منٹ سے 23 روز قبل جاری کرنا کوئی نئی روایت نہیں ہے ،ماضی میں بھی نئے چیف جسٹس صاحبان کے تقرر کا نوٹیفکیشن ایک ماہ قبل جاری کرنے کی مثالیں موجود ہیں ۔مسٹر جسٹس سعید الزماں صدیقی ، مسٹر جسٹس شیخ ریاض احمد ، مسٹر جسٹس افتخار محمد چودھری اور مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی کی بطور چیف جسٹس تعیناتی کا نوٹیفکیشن ان کے پیش رو چیف جسٹس صاحبان کی ریٹائرمنٹ سے کم از کم 3ہفتے قبل جاری کیا گیا تھا ، اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ چیف جسٹس کے تقرر کے حوالے سے وزیراعظم اور صدر سمیت کسی کے پاس کوئی صوابدیدی اختیار نہیں ہے ،آئین کے تحت سینئر ترین جج کو ہی سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا جاسکتا ہے ۔کوئی چوائس نہ ہونے کے باعث نئے چیف جسٹس کے تقرر کا نوٹیفکیشن قبل ازوقت جاری کردیا جاتا ہے ،نئے نامزد چیف جسٹس پاکستان مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سپریم کورٹ ایک نئے دور میں داخل ہوجائے گی ،مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کاشمار ان ججوں میں ہوتا ہے جو فیصلوں کے حوالے سے عوامی رائے عامہ سے متاثر نہیں ہوتے اور نہ ہی مقبول فیصلے جاری کرنے پر یقین رکھتے ہیں ۔وہ ایسے ججوں میں شامل ہیں جو آئین او رقانون سے سرمو اھر ادھر ہونے پر یقین نہیں رکھتے ، واقفان حال کا کہنا ہے کہ وہ عدالت کو سیاست سے الگ رکھنے کا نظریہ رکھتے ہیں ،اس سلسلے میں فوجی عدالتوں کے حوالے سے کی گئی آئینی ترمیم پر ان کے فیصلے کی مثال دی جاسکتی ہے ۔مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار 18جنوری1954ءکو لاہور میں پیدا ہوئے ،انہوں نے کیتھڈرل ہائی سکول اور گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم پائی ،1980ءمیں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور 2مئی 1980ءمیں وکالت کا پیشہ اختیار کیا ۔1982ءمیں انہوں نے ہائی کورٹ اور 1994ءمیں سپریم کورٹ میں وکالت کا لائسنس حاصل کیا ،وہ کچھ عرصہ وفاقی سیکرٹری قانون بھی رہے ،1998ءمیں وہ لاہور ہائی کورٹ کے جج مقرر ہوئے اور2010ءمیں انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کیا گیا ،مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار کا شمار ان ججوں میںہوتا ہے جنہوں نے نومبر 2007ءمیں اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کردیا تھا ،2008ءمیںپیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران انہوں نے اپنی بحالی قبول کرتے ہوئے دوبارہ حلف اٹھایا تو قانونی حلقوں کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ کے دیگر 3برادر ججز کے ساتھ ان کے اس اقدام کو معزول ججوں کی بحالی کے لئے خوش آئند قرار دیا گیا ،جسے مستقبل نے درست اقدام ثابت کیا ،ان کے اس اقدام کے باعث سائلین نے سکھ کا سانس لیا اور لاہور ہائی کورٹ جو ابتلا کے دور سے گزر رہی تھی میں ان کے فیصلوں کے ذریعے اپنا تقدس اور ساکھ بحال کرنے میں کامیاب ہوئی ۔مسٹر جسٹس میاں ثاقب نثار 31دسمبر کوسپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا عہدہ سنبھالیں گے ،وہ 17جنوری 2019ءکو ریٹائر ہوں گے ،یوں وہ 2سال 17دن چیف جسٹس پاکستان کے طور پر فرائض انجام دیں گے ۔

مزید :

لاہور -