پولیس گھما پھراکر زبانی باتیں نہ کرے، سپریم کورٹ نے لاپتہ بچوں کے کیس میں ایڈیشنل آئی جی کرائم کو خود تفتیش کا حکم دے دیا

پولیس گھما پھراکر زبانی باتیں نہ کرے، سپریم کورٹ نے لاپتہ بچوں کے کیس میں ...
پولیس گھما پھراکر زبانی باتیں نہ کرے، سپریم کورٹ نے لاپتہ بچوں کے کیس میں ایڈیشنل آئی جی کرائم کو خود تفتیش کا حکم دے دیا

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)سپریم کورٹ نے لاپتہ اور مغوی بچوں کی بازیابی کے از خود کیس میں ایڈیشنل آئی جی کرائم کو خود تفتیش کرنے کا حکم دے دیاہے ،پولیس کی جانب سے بروقت رپورٹ پیش نہ کرنے پرعدالت کا سخت اظہار برہمی کرتے ہوئے عدالت نے قرار دیا کہ پولیس گھما پھراکر زبانی باتیں نہ کرے، عدالت کو کارکردگی سے غرض ہے ،لاپتہ اور مغوی بچوں کا پتہ چلانا پولیس کی ذمہ د اری ہے۔سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مسٹرجسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے از خود کیس کی سماعت کی۔عدالتی حکم پرلاپتہ بچوں کی بازیابی کے لئے قائم کمیٹی کے سربراہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب شکیل الرحمن خان نے کمیٹی کی رپورٹ عدالت میں پیش کی۔انہوں نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر بچوں کے اغواءاور لاپتہ ہونے کی اطلاعات میں کوئی صداقت نہیں،پولیس افسران نے سول جج کے لاپتہ بیٹے کی بازیابی کے حوالے سے عدالت کو آگاہ کیا کہ سول جج کے بیٹے کی بازیابی کی سر توڑ کوششیں کیں مگر کوئی کامیابی نہیں ملی،سول جج نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وہ پولیس کی تفتیش سے مطمئن ہیں۔پولیس افسران نے مزید بتایا کہ بعض لاپتہ بچوں کے ملزمان کا چالان عدالتوں میں بھجوا دیا گیا ہے جبکہ بعض لاپتہ بچوں کی بازیابی کی کوششیں جاری ہیںجس پر عدالت نے ریمارکس دئیے کہ عدالت کو زبانی جمع خرچ نہیں بلکہ تحریری اور عملی کارکردگی دکھائی جائے۔مغوی اور لاپتہ بچوں کی بازیابی ریاست کی ذمہ داری ہے،اگر متاثرہ بچوں کے اہل خانہ مقامی پولیس کی کارکردگی سے مطمئن نہیں تو تفتیش صوبائی سطح پر منتقل کی جائے اور ایڈیشنل آئی جی کرائم سپریم کورٹ کے پاس زیر التوا ءلاپتہ بچوں کے معاملے کی خود تفتیش کریں۔

مزید :

لاہور -