طیارہ سات آٹھ سال پرانا تھا،حادثے میں انسانی غلطی دکھائی نہیں دیتی:چیئر مین پی آئی اے

طیارہ سات آٹھ سال پرانا تھا،حادثے میں انسانی غلطی دکھائی نہیں دیتی:چیئر مین ...
طیارہ سات آٹھ سال پرانا تھا،حادثے میں انسانی غلطی دکھائی نہیں دیتی:چیئر مین پی آئی اے

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین پی آئی اے اعظم سہگل نے کہا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ سات آٹھ سال پرانا تھا، مجھے اس حادثے میں کوئی انسانی غلطی دکھائی نہیں دیتی،اس کے ساتھ کیا ہوا،اس مرحلے پرکوئی رائے نہیں دے سکتا۔

تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ آج شام 4 بجکر9 منٹ پرکنٹرول ٹاورپرپائلٹ نے ایک انجن فیل ہونے کا پیغام دیا جس کے بعد شام4بجکر15 منٹ پرطیارہ ریڈار سے غائب ہوااورچندہی لمحوں بعد کپتان نے مےڈے کال دے دی تھی ۔ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کے ہر جہاز کا 500گھنٹے بعد اے چیک ہوتا ہے،حادثے کا شکار ہونے والے اے ٹی آرطیارے کا اکتوبر2016 میں اے چیک ہوا تھا، طیارے کو قابل پرواز ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا گیا تھا۔جہازوں میں فنی خرابیاں آتی رہتی ہیں ان کو ٹھیک بھی کرلیا جاتا ہے۔ پاک آرمی نے ہمارا بہت ساتھ د یا ہے ،پہاڑوں میں رسائی مشکل ہے جس وجہ سے امدادی ٹیموں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔ اس افسوس ناک حادثے کی مکمل تفتیش کی جائے گی ،انٹر نیشنل ایجنسیز بھی اس کی تفتیش کریں گی۔

انہوں نے کہا کہ جب ہمیں طیارے کے ایک انجن کے فیل ہونے کی اطلاع ملی تو ہم پریشان توہوئے تھے لیکن پر امید تھے کہ دوسرے انجن کے زریعے جہاز محفوظ لینڈنگ کرلے گا لیکن بد قسمتی سے ایسا نہیں ہوا۔ یہ طیارہ 2007 میں بنا تھا ، اس کی مین ٹیننس میں کوئی خامی نہیں تھی،سولہ سترہ ایجنسیاں پی آئی اے طیاروں کی سیفٹی کا آڈٹ کرتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ہمارے 11اے ٹی آر چل رہے ہیں،یہ فرانسیسی کمپنی کے بنائے ہوئے طیارے ہیں جو پوری دنیا میں چلتے ہیں۔ چترال اور گلگت جیسے علاقوں کے لئے جہازلینے ہوں تواے ٹی آرہی لیں گے۔

ان کا کہنا تھاکہ پاک آرمی نے ہمارا بہت ساتھ د یا ہے ،پہاڑوں میں رسائی مشکل ہے جس وجہ سے امدادی ٹیموں کو پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہاہے۔قانون کے مطابق حادثے میں شہید ہونے والے تمام مسافروں کے لواحقین کو معاوضہ دیا جائے گا۔ اس افسوس ناک حادثے کی مکمل تفتیش کی جائے گی ،طیارے کابلیک باکس مل گیا ہے ،ڈیکوڈنگ کے لئے ایس آئی بی کو بھجوائیں گے۔

مزید :

اسلام آباد -