آپ کو یہ تو معلوم ہوگا کہ کرکٹ میں جب کوئی بیٹسمین صفر رنز بنائے تو اسے ڈَک کہا جاتا ہے، لیکن کیا آپ کو معلوم ہے ڈَک کا استعمال کیوں کیا جاتا ہے؟ انتہائی دلچسپ تاریخ جانئے

لاہور(نیوز ڈیسک) کرکٹ میچ کے دوران کوئی بیٹسمین صفر پر آﺅٹ ہوجائے تو ٹی وی کی سکرین پر پویلین کی جانب لوٹتے بیٹسمین کے ساتھ عموماً ایک بطخ بھی نمودار ہوجاتی ہے۔ اب بھلا صفر پر آﺅٹ ہونے کا بطخ کے ساتھ کیا تعلق، اور ایسے بیچارے بیٹسمین کے لئے ’ڈَک‘ یعنی بطخ کا لفظ کیوں استعمال ہوتا ہے؟
اس معمے کو سمجھنے کے لئے ہمیں کرکٹ کی تاریخ میں کافی پیچھے جانا پڑے گا۔ یہ 1866ءکی بات ہے کہ پرنس آف ویلز (جو کہ بعد کنگ ایڈورڈ ہفتم بنے) ایک کرکٹ میچ کے دوران صفر پر آﺅٹ ہوگئے۔ ایک مقامی اخبار نے ان کے صفر پر آﺅٹ ہونے کے متعلق شرارت بھری سرخی لگائی ”شہزادہ بطخ کے انڈے پر شاہی پویلین واپس لوٹے۔“ یہاں انڈے کا استعمال صفر سے اس کی مماثلت کی وجہ سے کیا گیا تھا، لیکن بعدازاں یہ بات ’بطخ کے انڈے‘ سے مختصر ہوکر صرف بطخ یعنی ’ڈَک‘ بن گئی۔

اگر فیس بک پر آپ کو کسی نے فرینڈ لسٹ سے نکال دیا ہے یا بلاک کردیا ہے تو اب آپ اس آسان طریقے سے اس بے وفا کا نام پتہ لگاسکتے ہیں
صفر پر آﺅٹ ہونے والوں کے لئے بطخ کی علامت ایسی مقبول ہوئی کہ ہر جگہ اس کا استعمال ہونے لگا اور ڈَک کی اصطلاح باقاعدہ طور پر اختیار کر لی گئی۔ ٹیسٹ کرکٹ میں اس اصطلاح کا استعمال 1877ءسے شروع ہوا اور بعدازاں اس کی کئی اور اقسام بھی سامنے آئیں۔ مثال کے طور پر اگر بیٹسمین پہلی ہی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے آﺅٹ ہوجائے تو اسے ’گولڈن ڈَک‘ یعنی ’سنہری بطخ‘ کہا جاتا ہے۔ اگر کوئی بیٹسمین ٹیسٹ میچ کی دونوں اننگز میں صفر رن بنائے تو اسے ’اے پیئر‘ کہا جاتا ہے، اور اگر حسن اتفاق سے وہ دونوں اننگز میں پہلی بال پر بغیر کوئی رن بنائے آﺅٹ ہوتو اسے ’کنگ پیئر‘ کہا جاتا ہے۔

ڈیلی پاکستان کے یو ٹیوب چینل کو سبسکرائب کرنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...