بلوچستان کے خلاف سازش

بلوچستان کے خلاف سازش
 بلوچستان کے خلاف سازش

  



بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اس کی آبادی سوا کروڑ ہے، یعنی پورے ملک کی آبادی کا صرف ایک فیصد ہے۔ بیرونی دنیا میں بلوچستان کا تصور خطہ جنت نظیر ہے۔ جہاں پر قدرتی معدنیات کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں۔

عالمی طاقتوں کی بلوچستان کے وسائل پر نظریں جمی ہوئی ہیں۔ بلوچستان کے بارے میں " فری بلوچستان" جیسی منفی اشتہاری مہم چلائی جا رہی ہے۔ چند ہفتے قبل سؤٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں بسوں، ٹیکسیوں پر" فری بلوچستان " کے اشتہار لگائے گئے تھے، پھر لندن کی بسوں، ٹیکسیوں کے ساتھ سڑکوں کے کنارے " فری بلوچستان " کے بورڈز آویزاں کئے گئے۔

مغرب " فری بلوچستان " جیسی گھناؤنی مہم کی یورپ میں اجازت دے کر حاصل کیا کرنا چاہتا ہے۔ مغرب جانتا ہے کہ بلوچستان قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے، اور بلوچستان میں دنیا کے سب سے بڑے سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ بلیک پرل، کوئلہ، گیس، قیمتی پتھر، ہیرے کی بے شمار اقسام، لوہے، زنک اور کرومائٹ کے ذخائر بلوچستان میں موجود ہیں۔

انہیں یہ بھی علم ہے کہ گوادر پورٹ دنیا کی اہم ترین پورٹ بن چکی ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند اور ان کے گاڈ فادر بلوچستان کے خلاف متحرک ہیں، اور اپنے مذموم مقاصد کے لئے بے گناہ معصوم شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ گذشتہ دنوں بلوچستان کے ضلع کیچ میں پنجاب سے تعلق رکھنے والے 15 افراد کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

ہلاک شدگان غیر قانونی طور پر ایران کے راستے خلیجی ممالک اور یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان افراد کو گاڑی سے اتار کر گولیاں ماری گئیں۔ بلوچ لبریشن فرنٹ نے اس ٹارگٹ کلنگ کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ یہ بات عیاں ہے کہ عالمی قوتیں بالخصوص بھارت بلوچستاں میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں اور علیحدگی پسند تحریکوں کے پیچھے کھڑا ہے۔

اکبر بگٹی کے پوتے براہمداغ بگٹی اس تنظیم کے لیڈر تھے جس کے خلاف ایف سی نے آپریشنز کا سلسلہ تیز کیا تو وہ بلوچستان سے بھاگ کر کابل اور پھر وہاں سے لندن پہنچ گئے۔

ایف سی نے واشگاف الفاظ میں اس امر کی نشاندہی کی کہ بلوچستان کے ان علیحدگی پسند عناصر کو بھارت کی سرپرستی حاصل ہے ، جو اپنی ایجنسی " را " کے ذریعے انکی تربیت اور فنڈنگ کر رہا ہے۔

اور انہیں پاکستان مخالف مہم کے لئے عالمی اداروں تک رسائی دلا رہا ہے۔ بھارت افغانستان کے راستے " بلوچستان لبریشن فرنٹ " اور دوسری تنظیموں کو تخریب کاری کے ارتکاب کے لئے اسلحہ اور مالی مدد بھی فراہم کر رہا ہے۔

کوئٹہ شہر کے اندر ہر چوتھے یا پانچویں روز کسی پولیس افسر یا دوسرے عہدیدار کو باقاعدہ نشانہ بنا کر قتل کر دیا جاتا ہے۔ ہمارے دشمنوں کی منصوبہ بندی ڈھکی چھپی ہے نہ ان کی سرگرمیوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔

بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو غیر قانونی طور پر پاکستان داخل ہوتے ہوئے گرفتار کر لیا تھا۔

کلبھوشن یادیو نے بلوچستان سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردی کی کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا۔ یورپ میں جو پاکستان مخالف سرگرمیاں جاری ہیں ان کا علم ہمیں اس وقت ہوتا ہے جب نام نہاد آزادی کے حق میں پوسٹر نمایاں ہو جاتے ہیں۔

امریکہ اور یورپ میں علیحدگی پسندوں اور بھارت کے مشترکہ پروپیگنڈا کا زور توڑنے کے لئے حکومت کو ایک موثر پالیسی تشکیل دینی چاہیئے۔ حال ہی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت نے بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے اور سی پیک کو سبو تاڑ کرنے کے لئے اربوں روپے پر مشتمل ایک خصوصی سیل قائم کر کے " را " کو یہ سازشی منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپ دی ہے۔

پاکستان کی سلامتی کو کمزور کرنے کی کھلم کھلا اور گھناؤنی بھارتی سازشوں کو مؤثر طریقہ سے اقوام عالم میں بے نقاب کر کے اس کے توڑ کے لئے مؤثر اقدامات بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ بھارت بلوچستان کے خلاف اپنا سازشی منصوبہ پروان چڑھا رہا ہے۔

یہ بھارتی سازشیں اقوام متحدہ، او آئی سی، علاقائی تعاون کی تنظیموں اور تمام عالمی قیادتوں کے نوٹس میں لانی چاہیءں۔ بلوچستان کے قدرتی وسائل اور اس کے محل وقوع کی وجہ سے یہاں کی سرزمین کو عالمی قوتوں کے مفادات کی جنگ کا میدان بنانے کے لئے بہت سازشیں ہو رہی ہیں۔ سیاسی اور عسکری قیادت کو مل بیٹھ کر بلوچستان کی صورت حال پر سوچنا ہو گا اور نئی حکمت عملی فوری طور پر وضع کرنا ہو گی۔

مزید : کالم