جوڈیشری سے عوام کی توقعات


پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے تعلیم کو زندگی میں بنیادی اور اہم جزو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تعلیم کے مقابلے میں کوئی شے زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ انہوں نے کراچی میں جوڈیشل اکیڈمی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ سے عوام نے بہت سی توقعات وابستہ کررکھی ہیں، ان توقعات پر پورا اترنے کے لئے ضروری ہے کہ جوڈیشری بے خوف ہو کر مقدمات کے فیصلے سنائے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے یہ بات بھی یاددلائی کہ عدالتوں میں مقدمات کے انبار لگے ہوئے ہیں، اس کی بڑی وجہ ہے کہ مقدمات کے فیصلوں میں مختلف حوالوں سے تاخیر ہوتی ہے۔ جہاں تک تعلیم کی ضرورت اور اہمیت کی بات ہے تو چیف جسٹس سپریم کورٹ نے درست کہا ہے تعلیم ہی کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ انسانی شعور اپنی جگہ لیکن تعلیم کے بغیر زندگی کو آسان نہیں بنایا جاسکتا، آگے بڑھنے کے لئے قدم قدم پر تعلیم کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جس کے بغیر مثالی اور اعلیٰ ترقی ممکن نہیں۔ تعلیم کی کمی سے ہی معاشرے میں جرائم کی شرح کم کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔زیادہ جرائم ہوں تو عدالتوں میں مقدمات کی بھرمار ہوتی ہے۔اس لئے تعلیم کا عام ہونا بے حد ضروری ہے اس اہم فریضے سے کوتاہی معاشرے اور قوموں کو مختلف نوعیت کے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو پریشانی اور انتشار کا باعث بنتے ہیں۔ جہاں تک عدلیہ سے عوام کی توقعات وابستہ ہونے کا معاملہ ہے، تو انصاف جس قدر تاخیر سے ملے گا، توقعات بڑھنے کے ساتھ ساتھ انصاف حاصل کرنے کے لئے اخراجات میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہماری عدلیہ نے بعض ادوار میں اہم اور حساس مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے بے خوفی اور دلیری کے ساتھ فیصلے دیئے ہیں،اسی وجہ سے عام طور پر عدلیہ سے لوگوں کی توقعات بڑھ جاتی ہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ ججوں کے لئے (سول جج اور مجسٹریٹ سے چیف جسٹس تک) میرٹ پر فیصلہ کرنا کس قدر دشوار اور مشکل ہوتا ہے۔ پہلے اگر حکومتی دباؤ ججوں کی راہ میں رکاوٹ ہوا کرتا تھا تو اب اس کے ساتھ ساتھ وکلاء کے کچھ گروپوں سمیت دیگر پریشان کرنے والے حلقے بھی میرٹ کے مطابق فیصلوں کا اعلان مشکل بنادیتے ہیں۔ کیونکہ ججوں کی عزت نفس مجروح کرتے ہوئے ان کے تبادلوں کے مطالبات کو منوانے کے لئے ہڑتال اور احتجاج کیا جاتا ہے۔ جب ان کی اصلاح کی کوشش کی جاتی ہے تو اعلیٰ عدلیہ کے سربراہ سے بھی تعاون نہیں کیا جاتا ۔ یہ صورت حال بلاشبہ پریشان کن ہے۔ ایسے میں اگر ججوں سے بے خوفی اور دلیری کی توقع رکھی جاتی ہے تو اس مشکل کام میں انہیں اعلیٰ سطح پر ’’سپورٹ‘‘ بھی حاصل ہونی چاہیے اور جو پریشر گروپ مثبت طریقوں سے بھی قانون کی بالادستی کو قائم رکھنے کے لئے تیار نہ ہوں، ان سے کسی صورت سمجھوتہ نہ کیا جائے اور ان کی بے جا حمایت کرنے والوں سے بھی سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے عدالتوں میں مقدمات کے انبار کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ ہمارے ہاں مختلف وجوہ سے مقدمات دائر کرنے کا رجحان ضرورت سے زیادہ ہے اور فیصلوں میں بوجوہ تاخیر بھی ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ججوں کی کمی کا مسئلہ مستقل طور پر درپیش رہتا ہے۔ حکومت کو ججوں کی تعداد بڑھانے کے لئے اقدامات کرتے رہنا چاہیے۔

مزید : اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...