حمزہ شہباز کی سیاست

حمزہ شہباز کی سیاست
 حمزہ شہباز کی سیاست

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مَیں اور ایثار رانا، لنگوٹیے دوست تو نہیں،البتہ لڑکپن کے دوست ضرور ہیں۔ہم دونوں نے صحافت کے میدان میں پہلا قدم نوجوانی کے زمانے میں ایک ساتھ رکھا اور روزنامہ ’’پاکستان‘‘ کے نیوز روم میں کبھی ایک ہی ڈیسک پر اور کبھی الگ الگ ڈیسک پر بیٹھ کر خبروں کی کانٹ چھانٹ کرتے رہے، سرخیاں بناتے رہے۔ ایثار رانا نے اپنے کام میں مہارت حاصل کر لی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایوانِ صحافت کی بہت سی سیڑھیوں پر قدم دھرتے ہوئے وہ ایک زیرک، مَشّاق اور ذہین ایڈیٹر بن گیا اور مَیں شاعری اور کالم نگاری کی بھول بھلیوں میں گُم ہو کر رہ گیا،تاحال اپنی شناخت بنانے کے عمل میں مصروف ہوں۔ میرا دوست ایثار رانا ہر وقت کچھ نیا کرنے کی دُھن میں رہتا ہے۔اُس کی شخصیت میں ایک عجیب سی بے چینی اور اضطراب ہے جو اُسے نچلا نہیں بیٹھنے دیتا۔ اقبال نے شاید اِسی کے لیے کہا تھا۔

عطا ہوئی ہے تجھے روز و شب کی بے تابی

خبر نہیں کہ تو خاکی ہے یا کہ سیمابی

کالمسٹ کلب بنایا تو سارے شہر کے قلم کاروں اور کالم کاروں کو اپنے ساتھ ملا لیا۔ وہ دوستوں کو عزت اور احترام دینا جانتا ہے اِس لیے خود بھی جلد ہی معزز اور محترم ہو گیا۔

چند روز قبل وہ اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ پنجاب کے نوجوان ایم این اے اور مسلم لیگ(ن) کے راہ نما حمزہ شہباز سے ملنے گیا تو ان سے ہونے والے مکالمے کی رو داد انٹرویو کی صورت میں اخبار کے صفحۂ اول پر یوں چھاپی کہ مَیں غالب کا ہم زبان اور ہم خیال ہو گیا۔

ذِکر اُس پَری وش کا اور پھربیاں اپنا

اس انٹرویو میں حمزہ شہباز نے ایک مدبر سیاسی راہ نما کی طرح نہایت نپے تلے انداز میں بہت گہری اور معنی خیز باتیں کیں۔مجھے ان کے لہجے اور رویے میں نوجوانی ہی میں بڑے لیڈروں والا رنگ ڈھنگ نظر آتا ہے، جس طرح اچھے شاعر کا اندازہ اس کے ابتدائی کلام ہی سے ہو جاتا ہے اِسی طرح نئے سیاست دان کی گفتگو سُن کر اس کے سیاسی مستقبل کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔

این اے120 اگرچہ میاں نواز شریف کا حلقہ ہے اور2013ء کے عام انتخابات میں یہاں مریم نواز نے مہم چلائی اور حالیہ ضمنی انتخاب میں بھی مریم نواز اپنی والدہ محترمہ کے لیے ووٹ مانگنے نکلیں،لیکن حمزہ شہباز کو انتخابی مہم کے دِنوں میں خدا جانے کس نے پسِ پردہ بھیج دیا تھا اس کا نقصان یہ ہُوا کہ2013ء کے مقابلے میں 2017ء کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ(ن) کے ووٹ بہت کم ہو گئے۔ اگرچہ مسلم لیگ(ن) کے تحقیق کاروں نے اِسے نادیدہ قوتوں کا کارنامہ قرار دیا،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس حلقے میں بہت سے بڑے سیاسی راہ نما اور کارکن دراصل حمزہ شہباز کے دیوانے ہیں۔حمزہ کو ضمنی انتخاب کی مہم میں نہ پا کر وہ غالباً دِل برداشتہ ہو گئے تھے۔ اب میرے دوست ایثار رانا کو دیے گئے انٹرویو میں حمزہ شہباز نے کہا ہے کہ میرا مقابلہ مریم نواز سے نہیں،بلکہ خود سے ہے۔یار لوگ عام طور پر حمزہ شہباز کو مریم بی بی کے سامنے لاکھڑا کرتے ہیں،شاید اِسی لیے انھیں یہ بات زور دے کر کہنا پڑی،لیکن سچ یہ ہے کہ حمزہ شہباز کے اندر بہت سی ایسی خوبیاں ہیں جو انھیں مریم نواز ہی نہیں، بہت سے دوسرے لیگی راہ نماؤں سے بھی منفرد اور ممتاز کرتی ہیں۔مثلاً یہ کہ وہ عدلیہ اور فوج کو بھی ملک کے دوسرے اداروں کی طرح لائقِ احترام سمجھتے ہیں۔ان کی دوسری خوبی یہ ہے کہ وہ کارکنوں سے تعلق سیاسی ضرورت کے تحت نہیں، بلکہ ذاتی حیثیت میں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔کارکنوں کے دُکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔اُن کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھتے ہیں۔ راستہ کتنا ہی دشوار ہو، صورتِ حال کتنی ہی مشکل ہو، وہ کارکنوں کے گھروں تک جاتے ہیں۔انھیں احساس دِلاتے ہیں کہ وہ انھی میں سے ہیں اور مشکل وقت میں اگر کارکن ان کے کام آتے ہیں تو وہ بھی انھیں اکیلا نہیں چھوڑنے والے۔کارکن یہی توجہ چاہتا ہے۔یہی محبت اس کی ضرورت ہے۔مَیں چونکہ خود بھی این اے 120 میں رہتا ہوں اس لیے بعض ایسے کارکنوں کو بھی جانتا ہوں جو حمزہ شہباز پر اپنا تن، مَن، دھن لٹانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔اگر آپ کو یقین نہیں آتا تو عظمت برادرز والے سید عظمت ہی کو دیکھ لیجیے۔انھوں نے حمزہ شہباز کی محبت میں کپڑے کا ایک برانڈ تک بنا دیا ہے، جو لیگی کارکنوں میں بہت مقبول ہوا ہے۔ چند روز پہلے سیدعظمت نے مجھ سے حمزہ شہباز کے بارے میں ایک نغمہ لکھوایا اور نہایت خوب صورت آواز اور موسیقی میں ریکارڈ کروایا۔ یہی نہیں انھوں نے دو مزید نغمے کسی اور شاعر سے بھی لکھوائے اور ریکارڈ کروائے۔ نعروں کی حد تک تو کارکن عام طور پر اپنے لیڈروں کا ساتھ دیتے ہیں،لیکن سید عظمت اور اُن جیسے سینکڑوں سیاسی ورکر دامے،درمے ،سخنے اور قدمے اپنے نوجوان راہ نما کی معاونت کرتے ہیں۔

حمزہ شہباز کی شخصیت کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ اپنی شخصیت میں نکھار پیدا کرنے کے لیے کتابوں کا مطالعہ اور شخصیات کا مشاہدہ کرتے ہیں۔لکھنے والوں کی وہ دِل سے قدر کرتے ہیں۔ان سے راہ نمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔تقریباً ایک برس پہلے جب مَیں اپنے دوست اور پی ایچ اے کے وائس چیئرمین افتخار احمد کی دعوت پر ریس کورس پارک میں پھولوں کی نمائش دیکھنے گیا تو وہاں حمزہ شہباز بھی آئے تھے۔مَیں نے اگلے ہی دن اُن کے بارے میں کالم لکھ ڈالا۔کالم کی تعریف کے لیے انھوں نے اُسی دن مجھے فون کیااور شکریہ ادا کیا،لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ مَیں ایسی تجاویز وضع کروں اور ان کے سامنے رکھوں جو مُلک اور قوم کے لیے کارآمد ہو سکتی ہوں۔

جب حمزہ شہباز کہتے ہیں کہ میرا مقابلہ خود سے ہے تو وہ غلط نہیں کہتے،لیکن عرض یہ کرنا ہے کہ وہ اگر واقعی خود سے مقابلہ کرنے کے آرزو مند ہیں تو مسلم لیگ (ن) میں اپنے جیسے مزید لوگ تلاش کریں۔اگر ہیں تو انھیں سامنے لائیں،اگر نہیں ہیں تو تیار کریں،کیونکہ آنے والا وقت مسلم لیگ(ن) کے لیے بہت سی مشکلات لے کر آنے والا ہے۔ آتے ہوئے زمانے کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے نیا خون ضروری ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے پاس نیا خون حمزہ شہباز کی صورت میں موجود ہے،لیکن ایک حمزہ شہباز سب کچھ خود نہیں کر سکتا۔انھیں سید عظمت اور ان جیسے دیگر سیاسی کارکنوں میں سے اپنے ساتھیوں کا انتخاب کرنا ہو گا تاکہ ان کی پارٹی آنے والے دِنوں میں بھی اُسی طرح فعال رہے جس طرح آج ہے۔مجھے اپنے ہم عمر اور ہم عصر سیاست دان حمزہ شہباز سے بہت سی امیدیں ہیں۔اس موقعے پر اقبال کی نظم ’’جاوید کے نام‘‘ حمزہ شہباز کو سنائی جا سکتی ہے۔.

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر

نیا زمانہ، نئے صبح و شام پیدا کر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو

سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اُٹھا نہ شیشہ گرانِ فرنگ کے احساں

سفالِ ہند سے مینا و جام پیدا کر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مَیں شاخِ تاک ہوں، میری غزل ہے میرا ثمر

مرے ثمر سے مَئے لالہ فام پیدا کر

اِس نظم کا آخری شعر مَیں نے یہاں دانستہ درج نہیں کیا،کیونکہ وہ حمزہ شہباز کے لیے ہرگز نہیں ہو سکتا اور نہ وہ اُس بات پر عمل کر سکتے ہیں جس کی طرف اقبال نے اشارہ کیا ہے۔ البتہ مَیں اور ایثار رانا اُس پر نہ صرف سختی سے عمل پیرا ہیں، بلکہ دوسروں کو بھی اُس پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔ اگر آپ کہتے ہیں تو اِس نظم کا آخری شعر مَیں یہاں درج کیے دیتا ہوں۔پڑھ لیجیے۔

مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے

خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

مزید : کالم